اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات ۲۷ اکتوبر ۔۔۔رہبر اور رہزن کی تشخیص آج خواجہ غلام نبی گلکار انور کا نام ہمارے لئے نامانوس ہے۔ بعض تاریخی نام اس لئے بھی نامانوس ہوجاتے ہیں جب تاریخ نویسی اور تاریخ گوئی میں حقائق کے بجائے عقائد محور بن جاتے ہیں۔ ۱۹۴۷ کے ماہِ اگست میں جب پاکستان اور ہندوستان کو برطانوی استعمار سے آزادی مل گئی تو اکتوبر ۱۹۴۷ کی چار تاریخ کو کشمیر کی آزادی اور انقلابی حکومت کا اعلان بھی کیا گیا۔اس انقلابی حکومت کی سربراہی غلام نبی گلوکار کے پاس تھی، سیاسی سرگرمیوں کے پیشِ نظر غلام نبی گلکار کا فرضی نام انور رکھا گیا تھا اور موصوف نے اسی نام سے مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرہ کو معزول کرنے کا اعلان بھی کیا۔ یہ اعلان چار اکتوبر کو کیا گیا۔اس کے مطابق مہاراجہ ہری سنگھ کو کشمیر کا حکمران کہلانے پر سزا دینے کا حکم دیا گیا۔اس کے صرف دو دن کے بعد چھ اکتوبر کو غلام نبی گلکار نے مہاراجہ کا تعاقب کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر کا رُخ کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں وہ جلد ہی گرفتار ہوگئے اور تقریباً ایک سال کی گرفتاری کے بعد اُنہیں واپس پاکستان کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ گرفتاری اُن کی ایک طرح کی سیاسی کلاس ثابت ہوئی۔ اس کے بعد وہ الحاقِ پاکستان اور تکمیلِ پاکستان کے بجائے خودمختار کشمیر کے مبلغ، داعی اور لیڈر بن گئے۔ بالاخر حکومتِ پاکستان نے انہیں ۱۹۵۹ میں کچھ عرصے کیلئےگرفتار کیا۔ یہ گرفتاری کچھ زیادہ سود مند ثابت نہ ہوئی اور اس کے بعد غلام نبی گلوکار نے خود مختار کشمیر کے نام پر دن رات فعالیت اور جدوجہد کی۔ تاہم اس وقت ہم یہ بتانا چاہیں گے کہ اس نئی حکومت کے اعلان کے تین دن کے بعد ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ کی شب بھارت نے آزاد کشمیر پر حملہ کردیا، بھارتی حملے نے پاکستان کیلئے بھی کھلی فوجی مداخلت کا جواز پیدا کیا اور یوں یہ منطقہ میدانِ جنگ بن گیا۔ جس طرح بھارت کی چڑھائی نے پاکستان کو فوجیں داخل کرنے پر مجبور کیا اسی طرح پاکستان کی طرف سے قبائیلیوں کی کشمیر میں فتوحات نے بھارت کو بھی لرزا کر رکھ دیا تھا۔ یوں یہ شکست و ریخت ۲۷ اکتوبر ۱۹۴۷ کو ایک بڑی جغرافیائی تبدیلی کی باعث بنی۔ کشمیر میں قبائلیوں کا داخلہ کشمیریوں کے ساتھ نظریاتی اور دینی یکجہتی کی بنیاد پر تھا تاہم ہندوستان کا داخلہ کسی نظریاتی وحدت کے بجائے استعماری اہداف کے حصول کیلئے تھا۔ قابلِ ذکر ہے کہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۷ کو آزاد کشمیر میں وہیں تراڑکھل کے مقام پر پہلے عسکری تربیتی کیمپ کی بنیاد بھی رکھی گئی۔اس نئی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کیلئے ایک بیس کیمپ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا اور یہ امید کی جا رہی تھی کہ جلد ہی باقی کشمیر بھی آزاد کروا لیا جائے گا۔ خصوصی وضاحت: بعض نے خواجہ غلام نبی کا مکمل نام خواجہ غلام نبی گلکار لکھا ہے اور بعض نے گلوکار لکھا ہے. گلکار کے بارے میں بھی دو رائے ہیں. بعض کہتے ہیں کہ گل یعنی مٹی اور گلکار یعنی مٹی کا کام کرنے والے اور بعض کہتے ہیں کہ گل یعنی پھول اور گلکار یعنی کپڑوں اور قالینوں پر پھولوں کی کڑھائی کرنے والے جبکہ گلوکار اگر ہوتو اس کیلئے مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں. شکریہ
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

نذر حافی
خواجہ صاحب کی سوچ غلط تھی یا درست، وہ ایک منطقی اور آزاد فکر رکھتے تھے یا ہندوستانی ایجنسیوں کی زبان بول رہے تھے، ان کی فعالیت کے پیچھے اسلام دشمن مرزائی عقائد مخفی تھے یا بحیثیت کشمیری قوم پرست وہ کشمیر کے بارے میں کچھ منفرد سوچنے لگے تھے۔ اس کے بارے میں اگر کچھ سمجھنا ہو تو کشمیر میں محاذ رائے شماری کی تاریخ اور نظریات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
ہم اپنے قارئین کو یہ بتا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ چار اکتوبر ۱۹۴۷ کو خواجہ غلام نبی گلوکار کی جس انقلابی حکومت کے اعلان نے ہندوپاک کے لوگوں کو آزاد کشمیر کا تصور دیا تھا وہ خود اگلے دو دنوں میں ہی زیرِ زمین چلی گئی تھی۔ جس کے اٹھارہ دن کے بعد ۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷ کو کشمیر میں پونچھ کے علاقے تراڑ کھل سے ایک مرتبہ پھر ایک نئی حکومت کا اعلان کیا گیا۔یہ نئی حکومت ان علاقوں پرمشتمل تھی جو مہاراجہ کے اختیار سے نکل چکے تھے۔ چنانچہ اس نئی حکومت کا نام آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر رکھا گیا اور اس کے سربراہ سردار محمد ابراہیم خان مقرر ہوئے۔ سردار محمد ابراہیم خان کی عبوری حکومت کا نصب العین ملاحظہ فرمائیے:
’’ عارضی حکومت جو ریاست کا نظام اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے ایک فرقہ وارانہ حکومت نہیں ہے۔اس حکومت کی عارضی کابینہ میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم بھی شریک ہوں گے۔ حکومت کا مقصد سردست ریاست میں نظم و نسق کی بحالی ہے کہ عوام اپنی رائے سے ایک جمہوری آئین ساز اور ایک نمائندہ حکومت چن لیں۔ عارضی حکومت ریاست کی جغرافیائی سالمیت اور سیاسی انفرادیت برقرار رکھنے کی متمنی ہے۔ پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کا سوال یہاں کے عوام کی آزادانہ رائے شماری سے کیا جائے گا‘‘۔
یہاں پر ریاستِ کشمیر پر مہاراجہ خاندان کی حکومت کو سمجھنے کیلئے معاہدہ امرتسر کا مطالعہ کرنا بھی اشد ضروری ہے۔
اس کے بعد کشمیر کے ایک بڑے حصے پر ہندوستان کی فوجیں قابض ہو گئیں اور یہ دن نظریاتی کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئے یومِ سیاہ میں تبدیل ہو گیا۔
اب یہاں پر یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اس وقت اگرچہ اس مسئلے پر کارگل وار کو شامل کر کے ہندوپاک کے بیچ چار خونی جنگیں ہو چکی ہیں تا ہم اب چین بھی اس تنازعے کا ایک اہم اور مضبوط فریق ہے۔ ۱۹۶۲ کی چین و ہند جنگ میں چین نے اکسائی چن کے جس رقبے پر قبضہ جمایا ہے اب وہ بھی اس سے دستبردار ہونے والا نہیں ہے۔
تینوں فریقوں کی موجودگی میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو سمجھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا تعلق تقسیمِ برِّ صغیر سے ہے جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ برطانوی راج میں بھی کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور اس کے بعد سلامتی کونسل نے بھی اسی خصوصی حیثیت کو آج تک برقرار رکھا ہواہے۔ البتہ جہاں تک تقسیمِ برصغیر کے بعد بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو قبول اور لغو کرنے کا معاملہ ہے تو اس کا پسِ منظر جاننا بہت ہی ضروری ہے۔
شیخ عبداللہ اور جواہرلال نہرو نے ۲۰ جون ۱۹۴۹ کو مہاراجہ ہری سنگھ سے ان کے بیٹے یوراج کرن سنگھ کو اقتدرا منتقل کروایا۔ اس کے بعد یوراج کرن سنگھ سے ۱۹۳۵ کے انڈیا ایکٹ کو ختم کرایا جس سے ہندوستانیوں کیلئے کشمیر پر ہندوستان کے آئینی قبضے کی امید پیدا ہوئی۔ یوں قانونِ ہند میں ایک عبوری دفعہ آرٹیکل ۳۷۰ کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دے کر ہند کے قانون کے اندر لانے کی سعی کی گئی۔ہندوستان کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا نعرہ در اصل پاکستان کے موقف کے مقابلے میں کشمیر کو خود مختار بنانے کی فکر کو مستقل کرنے کیلئے تھا، چنانچہ اس وقت شیخ عبداللہ کی جماعت آل جموں اینڈ کشمیر نیشنل فرنٹ اور ہندوستان دونوں نے ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی لیکن اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اپنی ۱۹۵۷ کی قراردادنمبر۱۲۲ میں اس کاوش کو رد کر دیا۔
بظاہر شیخ عبداللہ اور ہندوستان دونوں ناکام تو ہوئے لیکن دونوں نے اہلیانِ جموں و کشمیر کے سطحی اور جذباتی سوچ رکھنے والے ایک بڑے طبقے کو نظریاتی طور پر متاثر ضرور کیا ہے۔ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اظہر من الشّمس ہے کہ گزشتہ پچہتر سالوں میں شیخ عبداللہ جیسے کشمیری سیاستدان دہلی سرکار کے ہاتھوں مسلسل تھالی کے بینگن بن کر ذاتی مفادات اور مراعات کے علاوہ اپنی قوم کیلئے کچھ بھی ہندوستان سے حاصل نہیں کر سکے ۔ ان کی غیر نظریاتی پالیسیوں کے نتیجے کے طور پر آ ج جموں و کشمیر میں سات لاکھ سے زیادہ فوجی گینگ ریپ، انسانی حقوق کی پامالی، ماورائے عدالت قتل ، جبری گمشدگیوں ، اغوا برائے تاوان ، نفسیاتی ٹارچر ، جعلی مقابلوں، اجتماعی قتل عام ، مقامی تجارت کے خاتمے، آئے روز کے کرفیو ، اور سکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کی تباہی میں مصروف ہیں۔ مظالم کی یہ شرح دنیا کے کسی بھی منطقے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
پانچ اگست ۲۰۱۹ کو بی جے پی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا جو اعلان کیا ہے یہ اعلان در حقیقت اُ ن لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جنہوں نے ماضی میں مسئلہ کشمیر کو اُس کی نظریاتی بنیادوں سے جدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنہوں نے یہ سوچا کہ قوم پرست کشمیری بن کراور ہندوستان کے ساتھ مل کر وہ پاکستان کو نظر انداز کر کے کچھ حاصل کرپائیں گے۔
۲۷ اکتوبر کادن جہاں ہمارے لئے یومِ سیاہ ہے وہیں ہمیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ نظریات سے پھسل کر کوئی بھی قوم منزل تک نہیں پہنچ سکتی۔ ہمیں اس دِن یہ احساس کرنا چاہیے کہ جو سیاستدان نظریات کی تجارت اورسودے بازی کرتے ہیں وہ رہبر نہیں بلکہ رہزن ہوتے ہیں۔یہ دِن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیشہ نظریات کی کسوٹی ہی حقیقی کسوٹی ہے اور اقوام کو اسی کسوٹی پر رہبر اور رہزن کو تشخیص دینا چاہیے۔
افکار و نظریات: ۲۷ اکتوبر
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں