اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات یومِ یکجہتی کشمیر ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ نذر حافی nazarhaffi@gmail.com یومِ یکجہتی کشمیر ہم سب مناتے ہیں۔ہر سال ۵ فروری کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کسی زمانے میں دن منانے کو بدعت و خرافات کہاجاتا تھا، دن منانے پر لڑائی اور پٹائی بھی ہوا کرتی تھی وغیرہ وغیرہ۔ خیر اب تو دن بدن، بلکہ دن رات، دن منانے کا رواج چل پڑا ہے۔یہ رواج پہلے نہیں تھا۔ پہلی مرتبہ کشمیر ۱۵۸۳ میں غلام ہوا تھا لیکن اس وقت بھی کسی نے اظہارِ یکجہتی کیلئے دن نہیں منایا تھا۔یعنی یہ بدعت ابھی نئی نئی ہی ایجاد ہوئی ہے ۔ اگر اُس زمانے میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا جاتا تو مذہبی جنونیوں کی بڑی بدنامی ہوتی۔ چونکہ پہلی مرتبہ کشمیر کو اکبر بادشاہ کی غلامی میں مذہبی جنونیوں نے ہی دیا تھا۔ اس کے بعد کشمیر نے آزادی کا سورج آج تک نہیں دیکھا۔ غلامی در غلامی کے بعد ۱۶مارچ ۱۸۴۶ کو انگریزوں نے معائدہ ِ امرتسر کے تحت یہ ریاست مہاراجہ گلاب سنگھ کو بیچ دی۔ یوں وقت گزرتا رہا اور۳۰ - ۱۹۳۱ کا سال آن پہنچا۔اس دوران کشمیر میں توہینِ قرآن کے دو واقعات رونما ہوئے۔یوں عوام میں اضطراب کی موج ایجاد ہوئی۔ ۲۵ جون ۱۹۳۱ کو سری نگر میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا۔یہ احتجاج مہاراجہ ہری سنگھ کے ٹیکسوں اور توہینِ قرآن کے واقعات کے خلاف تھا۔ اس جلسے میں عبدالقدیرنامی ، کوئی غیر ریاستی شخص اچانک اسٹیج پر نمودار ہوا۔اس نے ایک پُر جوش تقریر کی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک انگریز میجر مسٹر ایبٹ کا خانساماں تھا۔ البتہ اُس انگریز میجر کی تعیناتی تو پشاور میں تھی۔ تاہم ۲۵ جون کو میجر اور اس کا خانساماں سری نگر میں موجود تھے۔ ان کی سری نگر میں موجودگی پر سوالات تو بنتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ عبدالقدیر نے عوام میں پائی جانے والی اضطرابی موج کو اشتعال کی طرف جہت دی۔ اُس نے مہاراجہ ہری سنگھ کے راج محل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ”مسلمانو! اب وقت آگیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے یادداشتوں اور گذارشوں سے ظلم و ستم میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور نہ توہینِ قرآن کا مسئلہ حل ہو گا۔ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاؤ اور ظلم کاے خلاف لڑو۔ عبدالقدیر نے راج محل کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دو“۔۔۔ وغیرہ وغیرہ لیں جی پھر وہی ہوا جو ایسی تقریروں کے بعد ہوا کرتا ہے۔ پُر امن احتجاج مشتعل ہجوم میں بدل گیا۔ ایک طرف نہتّا مشتعل ہجوم اور دوسری طرف مسلح ریاستی اہلکار، سنگینوں کا سینوں سےٹکراو ، پتھراو اور جلاو گھیراو شروع ہو گیا ۔ اس ایک ہی تقریر سے وہ غیر ریاستی اور نامعلوم باشندہ کشمیری عوام کا ہیرو بن گیا اور آج بھی ہیرو ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ لوگوںمیں اسے معروف کرنے کیلئے پہلے تو اُسے سنٹرل جیل سے سیشن جج پنڈت کشن لال کچلو کی عدالت میں پا پیادہ لایا جاتا رہا۔ پھر سنٹرل جیل میں ہی اس پر مقدمہ چلایا گیا۔۱۳ جولائی ۱۹۳۱ کو عبدالقدیر کے مقدمے کی سماعت ہونی تھی۔ سماعت سے پہلے ہی ریاست میں اس خبر کے ساتھ ایک نئی موج ایجاد کی گئی کہ عبدالقدیر کو پھانسی دی جائے گی۔۔۔وغیرہ وغیرہ لہذا لوگ جوق در جوق سنٹرل جیل کی طرف بڑھنے لگے۔مقدمے کی سماعت کے دوران لوگوں کے جمِ غفیر نے سنٹرل جیل کو گھیر رکھا تھا۔ آخرعدالت بھی تو ریاستی مقدسات میں سے ہے۔ چنانچہ عوام کو منتشر کرنے کا حکم دیا گیا۔ فائرنگ اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ساتھ ہی نمازِ ظہر کا وقت بھی ہوگیا۔ کسی نے دیوار پر چڑھ کر اذان دینا شروع کر دی۔ اُسے گولی لگی تو کوئی دوسرا شخص موذن کا فریضہ انجام دینے کیلئے آگےبڑھا۔۔۔ یوں اذان بھی اور گولیاں بھی جاری رہیں۔۔۔ بائیس مسلمان اس اذان کی تکمیل میں شہید ہوئے۔ ان شہدا کے بارے میں معروف ہے کہ سب کو لگنے والی گولیوں کے زخم ان کے سینوں پر تھے، کسی کو ایک گولی بھی پُشت پر نہیں لگی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ان شہادتوں نے سارے ہندوستان اور کشمیر میں احتجاج کی ایک نئی لہر کو جنم دیا۔اُس دن سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا نیا دور شروع ہو گیا۔ کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے پہلی کشمیر کمیٹی بھی اُسی زمانے میں بنائی گئی ۔ بعد ازاں پاکستان بن گیا تو پچاس کی دہائی میں ازسرِ نو کشمیر کمیٹی بنائی گئی۔اس مرتبہ جو لوگ زیادہ فعال تھے اُن میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی، چودھری غلام عباس ،نواب زادہ نصراللہ خان اور مولانا مودودی کے نام آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق قیامِ پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل پر فروری ۱۹۷۵ میں پہلی مرتبہ کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی خاطرمُلکی سطح پر شٹرڈاون کیا گیا ۔ اس مرتبہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ماہِ فروری کے آخری جمعۃ المبارک کو ایک پُر امن ہڑتال کی کال دی ۔اس کال کا بھی ایک پسِ منظر ہے جس میں شیخ عبداللہ کا بھی ذکر ہے وغیرہ وغیرہ۔بہر حال قیامِ پاکستان کے بعد اٹھائیس فروری ۱۹۷۵ کو کشمیر کیلئے پاکستان میں ہڑتال کرنے کا آغاز ہوا۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا۔مسٹر بھٹو اقتدار کی راہداریوں سے ہوتے ہوئے پھانسی گھاٹ تک جاپہنچے۔ بعد ازاں اُن کی بیٹی بے نظیر بھٹو برسرِ اقتدار آ گئیں ۔ بے نظیر کےدورِ اقتدار میں ۱۹۸۸ میں سارک اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کشمیری انتخابات میں حصّہ لے رہے ہیں اور اب کشمیر میں حقِ خود ارادیت والی کوئی بات باقی نہیں ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے سارک کانفرنس اور مشترکہ پریس کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر کوئی بات ہی نہیں کی اور یوں مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ایک شدید اضطرابی موج محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف ایجاد ہو گئی۔ سارک ایجنڈے سے مسئلہ کشمیر کو خارج پاکر یہ بات مشہور کر دی گئی کہ بے نظیر حکومت نے کشمیر پر سودے بازی کر لی ہے۔ جلدہی" کشمیر پر سودے بازی نامنظور "کا نعرہ عوامی بیانیے میں بدل گیا۔اُن دنوں اسلامی جمہوری اتحاد میں جماعتِ اسلامی بھی شامل تھی۔ اس اتحاد کے سربراہ میاں نواز شریف تھے جوکہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھی تھے۔ جماعت اسلامی اور اپوزیشن نے مل کر مسئلہ کشمیر پر ابھری ہوئی موج کو بے نظیر حکومت کے خلاف استعمال کرنے کی ٹھانی۔ جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف سے مل کر پانچ فروری ۱۹۹۰ کو یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیا۔یہ اعلان بے نظیر حکومت کیلئے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے اس موج سے ٹکرانے کے بجائے اس موج کی بروقت مدیریت کی اور پانچ فروری کو سرکاری سطح پر یومِ یکجہتی کشمیر منانے کی تائید کر کے اس موج کا رُخ اپنی طرف سے ہٹا کر ایک مرتبہ پھر بھارت کی طرف موڑ دیا وغیرہ وغیرہ۔ اب ہر سال ۵ فروری کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دِن کشمیریوں سے انسانی ہمدردی کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی جاتی ہے، مختلف سیاست دان، لیڈراور شعرا آنسو بھی بہاتے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں پر سوار ہو کر اہم شخصیات تقاریر کرنے کیلئے مختلف پروگراموں میں تشریف لاتی ہیں، شعلہ بیان خطیب تقریریں کرتے ہیں، دل گرما دینے والے ترانے پڑھے جاتے ہیں، اوراخبارات میں تصاویر و سُرخیاں چھپتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ایسا ہی کچھ آج کل یمن کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ جہاں ہر چند منٹوں میں زمین پر ایک بچہ بھوک سے مر رہا ہے، اور آسمان سے ایک بمب گر رہا ہے۔ یونیسیف کے مطابق اب تک دس ہزار بچے بمباری کر کےمارے جا چکے ہیں اور پچاسی ہزار بچے بھوک سے مر گئے ہیں ۔باقی مرنے والوں ، زخمیوں، مہاجرین، یتیموں اور بیواوں کی تعداد تو چھوڑیے۔بس یہ یاد رکھئے کہ یمنیوں پر حملہ آور فورس چونکہ ہمارے دوست ممالک پر مشتمل ہے لہذا اس ظُلم پر خاموش رہنا ضروری ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ہم تو خاموش ہی رہیں گے چونکہ مسئلہ کشمیر کا ہو یا یمن کا اور یا پھر فلسطین کا ہم لوگ وغیرہ وغیرہ کے شکار ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ صرف ہم ہی کیا ساری اُمت مسلمہ ہی وغیرہ وغیرہ کی شکار ہے۔ چنانچہ جہاں ہم نے اس سے پہلے اتنے یومِ یکجہتی کشمیر منالئے وہاں ایک اور سہی ۔۔۔اس پانچ فروری کو ایک مرتبہ پھر ہم بھی کوئی تقریر کر لیں گے، کوئی کالم لکھ لیں گے، کسی ریلی میں شریک ہو جائیں گے، کوئی شہادت سے لبریز ترانہ سُن لیں گے، دوستوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کر لیں گے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کی مہذب اور متمدن دنیا میں کشمیر، فلسطین اور یمن سمیت کوئی بھی مسئلہ ، مسئلہ نہیں ہے۔ ہر مسئلہ صرف اس لئے مسئلہ ہے کہ ہم اور ہماری قیادتیں ہر مسئلے پر وغیرہ وغیرہ کی شکار ہیں۔ ہم لوگ قاطعیت، منطق اور حقیقت کے بجائے دوہرے پن اور وغیرہ وغیرہ کے عادی ہیں۔ ہم شاید یہ بھول چکے ہیں کہ مسائل وغیرہ وغیرہ کے بجائے قاطعیت اور منطق سے حل ہوا کرتے ہیں۔ جب تک ہم قاطعیت اور منطق کا راستہ اختیار نہیں کرتے تب تک ظُلم کو نہیں روکا جا سکتا۔ ظلم چاہے کشمیر میں ہو یا یمن میں آپ اُسے وغیرہ وغیرہ سے نہیں روک سکتے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو


ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں