تجلیاتِ ماہِ رجب
 📝اشرف حسین صالحی

  اللہ تعالٰی نے مخلوقات کی درجہ بندی کر رکھی ہے۔ اس کی مخلوقات میں سے سال کے مہینے بھی ہیں۔ اس نے مہینوں میں سے بھی کچھ کو ماہِ حرام کہہ کر خاص شرف عطا کیا ہے۔ماہِ حرام کی تعداد چار ہے۔ ان کے نام ذی القعده، ذی‌الحجه، محرم الحرام   اور  رجب المرجب ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ رجب المرجب کا شمار بھی حرمت والے مہینوں میں ہوتا ہے۔ماہِ مبارک رجب المرجب میں خداوندی عالم کی خاص نعمتوں اور رحمتوں کی تجلّی جلوہ افروز ہوتی ہے۔
  اللہ تعالٰی نے اس ماہ کو بہترین مہینوں میں سے قرار دیا ہے حتی کہ  زمان جاہلیت  میں عربوں کے ہاں بھی رجب کا مہینہ خاص احترام اور اہمیت کا حامل تھا۔ اسی وجہ سے اس مہینے میں ان کے ہاں جنگ و جدال و خونریزی، قتل و غارتگری  ممنوع اور حرام  تھی اور وہ اس ممنوعیت کی پاسداری بھی کرتے تھے۔ظہور اسلام کے بعد اس مہینے کے تقدس اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوا اور دینی لحاظ سےیہ مہینہ  ایک خاص قداست کاحامل ہے  ۔
  قرآن مجید میں یوں بیان کیا گیا ہے: کتاب خدا میں مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک یقینا بارہ مہینے ہے جب سے اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں، یہی مستحکم دین ہے، لہٰذا ان چار مہینوں میں تم اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔۔(1)
 ان ہی مہینوں میں سے ایک رجب کا مہینہ ہے  کوئی بھی مہینہ تقدس  وفضیلت میں اس کا ہم پلہ نہیں اور اس مہینے میں کافروں سے بھی جنگ و جدال کرنا حرام ہے۔  
وجہ تسمیہ:
قمری  ہجری اسلامی کیلنڈر کے ساتویں  مہینے کا نام رجب المرجب ہے اس کی وجہ تسمیہ (نام گزاری )یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے اور ترجیب کا معنی تعظیم کرنے کا ہے۔ یہ حرمت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں جدال و قتال نہیں ہوتے تھے اس لیے اسے "الاصم رجب" کہتے تھے کہ اس میں ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنی جاتیں۔ اس مہینہ کو "اصب" بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و بخشش کے خصوصی انعام فرماتا ہے۔ اس ماہ میں عبادات اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں ۔  
اور رجب کی اتنی فضیلت کیوں نہ  ہو  جس کے لئے وحی کی زبانی رسول اکرم ص نے ارشاد فرمایا:رجَبٌ شَهرُ اللَّهِ وشعبانُ شَهري ورمضانَ شَهرُ أمَّتي۔ (2)
آنحضرت نے ارشاد فرمایا ۔ رجب اللہ تعالٰی کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور ماہ رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔
ایک اور جگہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا :۔ رجب کی فضیلت تمام مہینوں پرایسی ہے جیسے قرآن کی فضیلت تمام ذکروں (صحیفوں) کتابوں پر ہے اور تمام مہینوں پر شعبان کی فضیلت ایسی ہے جیسی محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ وسلم کی فضیلت باقی تمام انبیائے کرام پر ہے اور تمام مہینوں پر رمضان کی فضیلت ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی فضیلت تمام مخلوق بندوں پر ہے۔ 
حدیث شریف کے مطابق "رجب المرجب" اللہ کا مہینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے اپنے محبوب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے حسن الوہیت و ربوبیت کی جلوہ گاہوں میں ستائیس (٢٧) رجب کی شب بلوا کر "معراج شریف" سے مشرف فرمایا۔ ستائیسویں شب میرے آقائے دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان (واقع بیت اللہ شریف کی دیواروں موسوم مستجار اور مستجاب کے کونے، رکن یمانی کے سامنے) میں تشریف فرما تھے اور یہیں حضرت جبرئیل امین علیہ السلام ستر یا اسی ہزار ملائکہ کی رفاقت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اس موقع پر حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام سونپا کہ میرے محبوب کو براق پر سوار کرانے کے لئے اے جبرئیل تمہارے ذمہ رکاب تھامنا اور اے میکائیل تمہارے ذمہ لگام تھامنا ہے۔ فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے، " حضرت جبرئیل علیہ السلام کا براق کی رکاب تھامنے کا عمل، فرشتوں کے سجدہ کرنے سے بھی افضل ہے۔(3)
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت رسول اکرم نے فرمایا: کہ رجب میری امت کے لیے استغفار کامہینہ ہے۔ پس اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ طلب مغفرت کرو کہ خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔ رجب کو اصب بھی کہاجاتا ہے کیونکہ اس ماہ میں میری امت پر خدا کی رحمت بہت زیادہ برستی ہے۔ پس اس ماہ میں بہ کثرت یہ ذکر کہا کرو:
استغفرواللہ واسئلہ التوبۃ
” میں خدا سے بخشش چاہتا ہوں اور توبہ کی توفیق مانگتا ہوں“۔
امام موسی کاظم علیه السلام نے رجب کے بارے فرمایا :
رجب بہشت کی نہروں میں سے ایک نہر کا نام ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی  ہے جو بھی اس ماه رجب میں روزہ رکھے تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن اسی نہر سے اس کو سیراب کرے گا۔
 اس مہینے میں عبادت کی فضیلت  واہمیت 
          روزہ رکھنا 
رجب میں روزہ رکھنے کے مختلف ثواب کا ذکر ہوا ہے:
بہشت  کا واجب ہونا اور جہنم کی آگ سے نجات: امام  موسی کاظم  ع  فرماتے  ہیں: رجب شهر عظیم یضاعف فیه الحسنات و یمحو فیه السیئات من صام یوما من رجب تباعدت عنه النار مسیرة مائة سنة و من صام ثلاثة ایام وجبت له الجنة رجب کا مہینہ ایک با برکت مہینہ ہے جس میں نیکیاں دو برابر اور گناہ اس مہینے میں ختم ہو جاتے ہیں۔ جو بھی اس مہینے میں ایک دن روزہ رکھے جہنم سے ایک سال کے فاصلے تک دور ہو جاتا ہے اور اگر اس مہینے میں تین دن روزہ رکھے اس پر جنت  واجب ہوتی ہے اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔ (4)
پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں: اِنَّ فِی الجَنّةِ قَصراً لایَدخُلُه اِلّا صُوّامُ (5)رَجَب بتحقیق جنت  میں ایک ایسا قصر ہے جس میں سوائے رجب میں روزہ  رکھنے والوں کے کوئی اور داخل نہیں ہو سکتا۔۔ 
آخر میں اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے ہم سب مسلمانوں کو ان بابرکت مہینوں کی معرفت جانتے ہوئے اللہ تعالی سے راز ونیاز کرنے اور زیادہ سے زیادہ اعمال عبادات بجالانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔۔ 
           حوالہ جات 
1- قرآن کریم۔ ترجمہ محسن علی نجفی۔ 
2- بحار الانوار ج 104 ص 125
3- تفسیر  علامہ فخر الدین رازی 
4- بحارالانوار ج94ص 37 
5- بحارالانوار ج94 ص 47