اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات کانسپریسی تھیوری کی عمدہ مثال کانسپریسی تھیوری سے آشنائی ضروری ہے۔ اسے سازشی مفروضہ بھی کہتے ہیں۔ یہ ایسے مفروضے ہوتے ہیں جنہیں تحقیق اور مستندات کے بغیر ہی لوگ تسلیم کر لیتے ہیں۔ ان کا مقصد لوگوں کی لاعلمی اور جہالت کو ایک خاص سمت میں اپنے فائدے کیلئے جہت دینا ہوتا ہے۔ گویا یہ لوگوں کی لاعلمی سے فائدہ اٹھانے کا ہتھکنڈہ ہے۔ ہماری اکثریت انہی سازشی مفروضوں پر بہت جلدی ایمان لے آتی ہے۔ سازشی مفروضوں کا خطرہ اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب اربابِ دانش اور صاحبانِ قلم ایسے مفروضات کے شکار ہو جائیں۔چونکہ صاحبانِ قلم اگر کسی سازشی مفروضے کی بھینٹ چڑھ جائیں تو وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ دوسری طرف لوگ تو بینڈ ویگن تھیوری سے متاثر ہوتے ہیں اور سنی سنائی باتوں پر ہی زندگی گزارتےہیں لہذا کانسپریسی تھیوری کے ساتھ جب بینڈ ویگن تھیوری کو جمع کیا جاتا ہے تو پھر نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ وہ ایک معروف کالم نگار ہیں۔ بڑے عرصے سے راقم الحروف کا ان سے قلبی لگاو ہے۔ ملک کے متعدد اخبارات میں ان کے کالمز باقاعدگی سے چھپتے رہتے ہیں۔ سوچا کہ انہی کے ایک کالم کی مدد سے کانسپریسی تھیوری کی وضاحت کی جائے ۔ یہ کالم روزنامہ اوصاف نے چھاپا اور اس کا عنوان تھا "جوش کی نہیں ہوش کی ضرورت ہے۔" اِن کے 25 اکتوبر2021ء کو شائع ہونے والے اس کالم پر قلم فرسائی سے پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ تحقیق کی دنیا میں معلومات کا تبادلہ، قلمی مکالمہ اور علمی نقد بہت ضرروی ہے۔ تجزیہ کاری کے دوران انسان کو اپنے ذاتی عقائد اور جذبات کو ایک طرف رکھ کر ٹھوس اعداد و شمار اور حقائق سے کام لینا چاہیے۔ چنانچہ مذکورہ کالم کے مطالعے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معزز کالم نگار ایران کے حوالے سے یا تو خود کانسپریسی تھیوری کے شکار ہیں اور یا پھر اپنے خاص اعتقادات اور میلانا ت و رجحانات کے باعث ایران کے خلاف کانسپریسی تھیوری کا سہارا لے رہے ہیں ۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں کانسپریسی تھیوری کو سمجھنے کا شعور ہونا چاہیے اور کانسپریسی پر مبنی تحریروں و تقریروں کو کسی بھی صورت فاصلوں اور بدگمانیوں میں نہیں بدلنا چاہیئے۔ آپ صرف کلک کر کے چیک کرتے جائیں 1۔ صرف گذشتہ حکومت کے دوران اہل سنت کی خواتین اور مرد سفارتکاری سمیت جن پوسٹوں پر موجود تھے، اس کی ایک مختصر فہرست کیلئے کلک کریں 7۔ تہران میں اہلِ سنت کی مساجد اور نماز عید کا احوال ایرانی سائٹس پر دیکھ لیجئے 17: ایرانی اہل سنت کا آن لائن دینی مدرسہ
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

نذر حافی
ان سازشی مفروضوں میں سے ایک مفروضہ ایران میں اہل سنت کی مذہبی آزادی کے حوالے سے بھی خا صا مقبول ہے۔ اس کے مبلغین میں سے ایک سمیع اللہ ملک بھی ہیں۔
تو آیئے اب مذکورہ کالم کے قابلِ گرفت گوشوں میں کانسپریسی تھیوری کی موجودگی کو لمس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کالم میں ایک جملہ ہر صاحبِ مطالعہ اور منصف مزاج انسان کو چونکانے کیلئے کافی ہے۔ وہ جملہ یہ ہے کہ "امریکہ، بھارت، اسرائیل اور ایران چاروں یار" ہیں۔ یہ جملہ سو فیصد حقائق کے بر عکس ہے چونکہ آج پوری دنیا میں عالمِ کفر کے سامنے اکیلا ایران ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اس ڈٹنے کی وجہ سے سارے عالمِ کفر نے مِل کر ایران کو اقتصادی شکنجے میں کسا ہوا ہے۔ چنانچہ آج تیل اور دیگر معدنی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باوجود ایران میں افراطِ زر، مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی بحران گھمبیر شکل اختیار کرچکا ہے۔
کانسپریسی تھیوری کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہماری توجہ اس پہلو پر رہے کہ یہی ایران جب اسلامی انقلاب سے پہلے عالمِ کُفر کا نوکر تھا تو عالمی استعمار ایران کو آج کے سعودی عرب اور عرب امارات سے بھی زیادہ اہمیت دیتا تھا، لیکن اب اسلامی انقلاب کے بعد چونکہ ایران عالمِ اسلام کی حرّیت اور آزادی کی بات کرتا ہے، فلسطین و کشمیر اور یمن کے لوگوں کے اسلامی و انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی سرزمینوں سے استعمار کے انخلا کی بات کرتا ہے، لہذا وہ تنِ تنہا اغیار کے ہاتھوں استعمار کے ظلم کی چکی میں پِس رہا ہے۔
یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا تو دور کی بات ہے اگر ایران صرف اسرائیل کے ساتھ تجارت کی بات ہی شروع کر دے، یعنی صرف تجارت کا عندیہ ہی دیدے تو استعماری طاقتیں آج بھی ایرانیوں کے منہ موتیوں سے بھر دیں گی۔ کانسپریسی تھیوری کے مقابلے میں ٹھوس شواہد سے یہ حقیقت ہر غیر متعصب انسان کیلئے روشن ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کی آبرو اور عزت فقط اور فقط ایران کے دم قدم سے قائم ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر ایران بھی عرب ممالک کی طرح طاغوت کے قدموں میں ڈھیر ہو جائے تو پھر اس کے بعد دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا کیسا چہرہ دکھائی دے گا۔
اس کالم میں یہ بھی کہا گیاہے کہ "ایران حماس کا دشمن ہے۔" کالم نگار نے یہ دعویٰ اس لئے کیا ہے چونکہ ہماری اکثریت کو حماس اور ایران کے تعلقات کا علم نہیں ہے۔ لہذابین السطور کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ عوام کو تحقیق سے کوئی غرض نہیں۔ چنانچہ اس سازشی مفروضے کو سمجھنے کیلئے اگر کوئی فقط جنرل قاسم سلیمانی شہید کے جنازے میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تقریر کو ہی سُن لے تو اسے ایران اور حماس کے روابط کا صحیح اندازہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ کالم نگار کے بقول انہیں عربی پر بھی کافی عبور حاصل ہے۔ لہذا ہمیں امید ہے کہ وہ خود بھی بغیر مترجم کے اسماعیل ہنیہ کی تقریر سُن اور سمجھ سکتے ہیں۔ اگر وہ خود ہی کانسپریسی تھیوری کے شکار ہیں تو یقیناً مذکورہ تقریر سننے کے بعد ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ تقریر میں اسماعیل ہنیہ نے جہاں اور بہت کچھ کہا، وہاں یہ بھی کہا کہ قاسم سلیمانی شہیدِ قدس ہے۔ یہ جملہ تین مرتبہ اسماعیل ہنیہ نے دہرایا اور یہ بھی کہا کہ حماس کو ادویات، اسلحے و غذا سمیت جو مدد بھی ملتی ہے، وہ صرف ایران سے ملتی ہے۔
کالم میں یہ دعویٰ بھی موجود ہے کہ ایران اپنے تجارتی مفادات کی وجہ سے ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ ہم چونکہ کانسپریسی تھیوری کو سمجھنا چاہتے ہیں، لہذا ہم اگر فقط سعودی عرب اور ہندوستان کی تجارت کے اعداد و شمار ہی چیک کر لیں اور سعودی عرب و ایران دونوں کی کشمیر کے مسئلے پر فعالیت بھی دیکھ لیں، اسی طرح پاکستان میں جتنے بھی خودکش بمبار، ٹارگٹ کلر، لشکر اور نیٹ ورکس ہیں، سانحہ اے پی ایس پشاور کے نونہالوں کے قاتلوں سے لے کر پاکستانی فوجیوں کے گلے کاٹ کر فٹبال کھیلنے والوں اور پولیس و آرمی کے آفیسرز، بیوروکریٹس، قوالوں اور نعت خوانوں کے قاتلوں، نیز مساجد اور اولیائے کرام کے آستانوں پر دھماکے کرنے والوں کا ریکارڈ بھی چیک کر لیں، تو ہم پر یہ اچھی طرح واضح ہو جائے کہ کون پاکستان کے بجائے ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔ اس سے ہمیں بخوبی یہ اندازہ ہوجائے گا کہ کس طرح کانسپریسی تھیوری کے ذریعے حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے۔
محقق کو ایران کے انڈیا سے تجارتی تعلقات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ یہ حقیقت اظہر من الشّمس ہے کہ ایران نے اپنی ساری اقتصادی مجبوریوں کے باوجود کبھی بھی کشمیریوں اور فلسطینیوں کی لاشوں پر ٹرمپ کے کندھے سے کندھا ملا کر تلواروں کا رقص نہیں کیا اور جام نہیں چھلکائے۔ کشمیر و فلسطین پر ایران کے اصولی موقف کی ساری دنیا خصوصاً خود کشمیری و فلسطینی عوام و خواص اور حکومت پاکستان بھی معترف ہے۔ یہ سب حقائق زاویے تاریک رکھنے کیلئے کالم میں یہ سوال اٹھایا گیاہے کہ "سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ سعودی عرب اور اس کے قریبی حلیف ہم سے کیوں دور ہوئے۔؟"
یہ سوال ایک لاعلم اور حالات حاضرہ سے انجان قاری کے جذبات ابھارنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔ صرف ایک لاعلم انسان کو ہی آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ سعودی عرب سے پاکستان کن وجوہات کی بنیاد پر دور ہوا ہے ورنہ حالاتِ حاضرہ پر نگاہ رکھنے والا ہر عقلمند انسان اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔
کانسپریسی تھیوری کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے یہ بھی جان لیجئے کہ انہوں نے محترم ظفر ہلالی صاحب اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا حوالہ دے کر بھی سعودی عرب کی وکالت کرنے کی کوشش کی۔ محترمہ تو شہید ہوگئی ہیں، البتہ اللہ کا شکر ہے کہ ظفر ہلالی صاحب ابھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ چنانچہ صحافت و تحقیق کا ذوق رکھنے والے کچھ اہلِ نظر نے جب ظفر ہلالی صاحب سے رابطہ کیا تو ظفر ہلالی صاحب نے ایسے کسی واقعے سے بھی اور سمیع اللہ ملک صاحب کو جاننے سے بھی صریحاً انکار کر دیا۔ اب یہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ اُن کے دوست ظفر ہلالی صاحب اُن کو کیوں نہیں پہچان رہے اور اُن کی ایسی معلوماتی ملاقاتیں کہاں پر ہوا کرتی ہیں۔ خیر ہم اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
کالم میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ "اور آج یہ عالم ہے کہ ایران میں کوئی سنی پارلیمنٹ ممبر نہیں بن سکتا، جبکہ تین یہودی پارلیمنٹ ممبر ہیں۔" یہ بھی موجود ہے کہ "ایرانی دارالحکومت تہران میں سنیوں کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں جبکہ اسی شہر میں 25 گرجا گھر، 16 مندر، 6 گردوارے اور 20 آتش کدے موجود ہیں۔
" ہم ابلاغِ عامہ کے طالب علموں کیلئے کوئی نامانوس دلیل لانے کے بجائے چند روشن دلائل پیش کرتے ہیں۔ مثلا کالم نگار کے منصفانہ طرزِ عمل کیلئے ضروری تھا کہ وہ ایران کے دورے کرنے والے اہل سنت کے اکابرین مولانا سمیع الحق مرحوم یا قاضی حسین احمد مرحوم سے ہی کبھی اس بارے میں پوچھ لیتے اور یا پھر ابھی مولانا فضل الرحمان، محترم لیاقت بلوچ یا مولانا شیرانی صاحب سے ہی استفسار کر لیتے۔ اسی طرح پاکستان میں تبلیغی جماعت کے اجتماع میں ہر سال ایران سے دیوبندی حضرات جاتے ہیں، انہی میں سے کسی کا انٹرویو لے لیتے۔
کوئی بات نہیں ہمارا مقصد فقط کانسپریسی تھیوری کی وضاحت کرنا ہے۔ ہم بیان کئے دیتے ہیں کہ آج کے دور میں یہ ساری معلومات انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ آپ ماوس کو کلک کرکے چند سیکنڈز میں وکی پیڈیا سے یا کسی بھی ایرانی اہلسنت سیاستدان، عالم دین یا اہم شخصیت سے رابطہ کرکے حقیقت جان سکتے ہیں۔ اس وقت ایران کی پارلیمنٹ میں اٹھارہ نشستیں اہل سنت حضرات کی ہیں، اسی طرح 25 اکتوبر کو کالم لکھتے ہوئے انہوں نے یہ بھی نہیں لکھا کہ 17 اگست 2021ء کو ایران کی بحریہ کے سربراہ یعنی چیف آف نیول اسٹاف مقرر ہونے والے مسٹر شہرام ایرانی کا تعلق اہل سنت سے ہے۔ کالم نگار نے جہانِ اسلام کے متعلق اکیسویں صدی کے سب سے بڑے اور حیران کر دینے والے دینی فتوے کا ذکر بھی نہیں کیا۔ وہ فتوی ٰ یہ ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ نے اہلِ سنت کے مقدسات کی اہانت کو حرام قرار دیا ہے۔ اس فتوے سے پہلے اہل تشیع کا ایک بڑا گروہ ایسا کرنے کو عظیم عبادت اور ثواب شمار کرتا تھا۔ اس فتوے نے پوری دنیا کے اہلِ تشیع کو ایک نئی سوچ، جدید ڈگر اور وسیع بنیادوں پر جہان اسلام کے ساتھ مکالمے کا میدان فراہم کیا ہے۔
سازشی تھیوری کی گہرائی کو سمجھنے کیلئے ہمیں یہاں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کے صرف رہبرِ اعلیٰ نے اہلِ سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ سارے ہی مسلمہ شیعہ مجتہدین اور مراجع کرام کا یہی فتویٰ ہے۔ ایرانی شیعہ اتھارٹیز کے ہاں اہل سنت کا جو مقام ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ محترم سمیع اللہ ملک صاحب نے جیسا کالم اہلِ تشیع اور ایران کے خلاف لکھا ہے، ایسا کالم ایران میں کوئی بھی اہل سنت کے خلاف لکھنے یا چھاپنے کی جرات نہیں کرسکتا۔
اس کے علاوہ حقیقت ِحال یہ ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں 9 عدد یعنی اہلِ سنت کی تعداد کے تناسب سے بھی زیادہ اہلِ سنت کی مساجد موجود ہیں۔ صرف سیستان و بلوچستان میں اہلِ سنت کی چھ ہزار سے زیادہ مساجد موجود ہیں۔
ایران میں اہل سنت کے دینی مدارس کے حوالے سے یہ آن دی ریکارڈ حقیقت ہے کہ ایرانی اہلِسنت کے دینی طلباء و طلبات کو ایران کے ولی فقیہ سید علی خامنہ ای کی طرف سے خصوصی طور پر ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ ایرانی حکومت کی طرف سے اہل سنت کے دینی طلباء کو دی جانے والی مراعات و خدمات اہل تشیع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سخت مزاج والے شیعہ اس بات پر اپنی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ آخر میں ہم کچھ حوالہ جات بطورِ دلائل پیش کر رہے ہیں، تمام قارئین انٹرنیٹ پر وقت ضائع کئے بغیر خود ان حوالہ جات کو جانچ پرکھ سکتے ہیں۔ قرآن مجید کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ﴿۶۴﴾ "کہدیجئے! اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم لوگ سچے ہو۔"
قرآنی تعلیمات کی بنیاد پر ہمیں ساشی مفروضوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ صاحبانِ فہم و فراست کو یہ دعوت دینی چاہیے کہ اگر اُن کے پاس ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ایران کی پارلیمنٹ میں اور ایران کے اعلیٰ عہدوں پر کوئی سُنی نہیں ہے، اسی طرح تہران میں اہلِ سنّت کی کوئی مسجد نہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ تو وہ بھی ضرور حوالہ جات اور شواہد کے ساتھ ہمارے علم میں لائیں۔ ہمیں فراخدلی کے ساتھ اُن کے ثبوتوں اور شواہد کے بارے میں بھی تحقیق کرنی چاہیے۔ تحقیق کے بعد جو بھی حقیقت ہو، اُس کا سب کے سامنے اعتراف کرنا چاہیے۔ اگر اس کے باوجود اگر کانسپریسی تھیوری پر عمل کرنے والے یا اس کے شکار ہونے والے محترم سمیع اللہ ملک صاحب یا پھر کوئی اور بھی شخص قانع نہ ہو تو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے محققین کو حقائق جاننے کیلئے ایران کے اہلِ سنت سیاستدانوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد، آئمہ جمعہ و جماعت نیز تہران کی مساجد میں نمازیں پڑھانے والے اہل سنت علمائے کرام کے ساتھ آن لائن سیشنز کرنے چاہیے۔
مذکورہ کالم میں موجود سازشی تھیوری کو سمجھنے کیلئے مزید دلائل:
2۔ اہل سنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے۔ رہبرِ اعلی ٰ کا فتویٰ
3۔ اہلِ سنت کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینے کے بارے میں دیگر شیعہ مجتہدین کا فتویٰ
4۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی طرف سے اہل سنت میں سے بحریہ کا چیف مقرر کرنا اور علمائے اہلِ سنت کا بھرپور خوشی کا اظہار کرنا
5۔ تہران میں اہل سنت کی مساجد کی تعداد وکی پیڈیا پر ملاحظہ کیجئے۔
6۔ تہران میں اہل سنت کی مساجد کا پتہ پیشِ خدمت ہے، گوگل پر سرچ کیجئے یا کسی ایرانی اہلِ سنت سے معلوم کر لیجئے:
1- مسجد صادقیه، واقع در فلکهی دوم صادقیه
2- مسجد تهران پارس، واقع در خیابان دلاوران
3- مسجد شهر قدس، واقع در کیلومتر 20 جادهی قدیم
4- مسجد خلیج فارس، واقع در بزرگراه فتح
5- مسجد النبی، واقع در شهرک دانش
6- مسجد هفتجوب، واقع در جادهی ملارد
7- مسجد وحیدیه، واقع در شهریار
8- مسجد نسیم شهر، واقع در اکبرآباد
9- مسجد رضیآباد، واقع در سه راه شهریار
8۔ ایرانی پارلیمنٹ کی 286 کرسیوں میں سے 18 نشستیں اہلسنت نمائندوں کیلئے مختص ہیں
9۔ اہلِ سنت کے دینی مدارس و مساجد کی شان و شوکت
10۔ ایران میں خلفائے راشدین کے نام سے مساجد و پل اور سڑکوں وغیرہ کے نام اور ایران کی سنی کمیونٹی کے متعلق اہم رپورٹ
11۔ ایران میں اہل سنت کے دینی مدارس پر مستند تحقیق
اب آپ کے لئے ہم ایرانی اہلِ سنت کی کچھ ویب سائٹس کے لنک یہاں درج کر رہے ہیں، تاکہ آپ ان سے براہِ راست بھی رابطہ کرکے جانکاری حاصل کرسکیں:
12: ایرانی اہل سنت کی ستائیس دینی ویب سائٹس کا وزٹ کیجئے
13: ایرانی اہل سنت کے دینی مدارس کی خبریں
14۔ اہل سنت دینی مدارس کی خبریں
15: حوزه علمیه فاروقیه اهل سنت گالیکش
ایڈرس: استان گلستان، محمودآباد، کلاله - گالیکش – مینودشت
ٹیلی فون نمبر: 01735834944
ویب سائٹ:
16: بندر عباس کے دینی مدارس کی سائٹ
18: اہل سنت کے دینی مدارس کا نصاب
19: ایرانی اہل سنت کی مشہور و معتبر ویب سائٹ
20: سایت شورایٰ عالی مدارس اهل سنت:
21۔ ایرانی اہل سنت کے دینی مدارس میں داخلے کا طریقہ کار اور سائٹ
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں