حجۃ الاسلام ڈاکٹر یعقوب بشوی  کی

جی سی یونیورسٹی سندھ  کو تجاویز
رپورٹ: محمد بشیر دولتی

گزشتہ دنوں سندھ میں ایک  بین الاقوامی سیرة النبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا اہتمام جی سی یونیورسٹی سندھ نے کیا تھا۔۔ کانفرنس کا موضوع  ”عالمی وبائی ماحول اور طبی قوانین سیرت طیبہ کی روشنی میں“ تھا۔ کانفرنس میں فضائی آلودگی کی مشکلات و مضمرات اورشجر کاری کی اہمیت ، فضیلت و فوائد کو بیان کیا گیا۔کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب ،سوڈان ، اردن ،بروناٸی ،ملائشیا، بنگلہ دیش برطانیہ کینیڈا اور آسٹریلیا  وغیرہ سے اٹھارہ ممالک کے  دانشوروں نے آنلائن شرکت کی۔ ان شرکت کرنے والوں میں ایران سے بھی دو پاکستانی شخصیات تھیں۔ ایک المصطفی عالمی یونیورسٹی قم کے فاضل طالب علم اور  ہمارے   محترم  دوست سکندر بہشتی اور  دوسرے اسی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور معروف محقق و دانشور محترم  ڈاکٹر یعقوب بشوی  تھے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد یعقوب بشوی صاحب  کو فخر بلتستان   بھی کہا جاتا ہے۔ وہ چالیس کے قریب کتابوں کے مصنف بھی ہیں اور  اب تک  وہ سینکڑوں  مختلف موضوعات پر  مقالہ جات بھی لکھ چکے  ہیں اور  ان کے  سینکڑوں کے قریب علمی و تحقیقی مقالے بیس سے زائد زبانوں میں چھپ بھی چکے ہیں۔
محترم ڈاکٹر یعقوب بشوی نے اپنے  خطاب میں اس علمی کانفرنس میں جہاں  شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا وہیں اس عالمی کانفرنس کے انعقاد پر پروفیسر محترمہ طیبہ ظریف اور ڈاکٹر صلاح الدین ثانی اور ان کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ اس منفرد عالمی علمی کاوش پر مبارکباد بھی دی ۔ اپنے خطاب میں آپ نے فرمایا کہ ” بطور مسلمان ہمیں قرآن  مجید اور رسولِ خدا ﷺ کی  آفاقی تعلیمات  پوری دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبیؐ کی سیرت بہترین نمونہ عمل و مشعل راہ ہے“
انہوں نے مزید کہا کہ ” ہمارا موضوع کو ملکی یا مسلکی نہیں ہے بلکہ عالمی اور انسانی موضوع ہے۔ شجر کاری کو مادی و معنوی ارتقا ٕ دینے کےلئے رسول خدا نے شجر کاری کے مختلف فوائد  بیان کئے ہیں۔یہ عمل جاویداں اثر کا حامل ہے۔ آپ نے اس عالمی کانفرنس میں ”شجر یونیورسٹی“  کے قیام کی تجویز پیش کی ۔  ان کے مطابق  اس موضوع پر خصوصی  نصاب لکھنے ، تھیسز  اور  مقالہ نویسی کی ضرورت ہے“
انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ہمارے وزیر اعظم کا ملین ٹریز پروگرام  ایک بہترین عمل ہے مگر اسے شجر یونیورسٹی کے قیام کے زریعے عملی کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسی مہم کو پھلدار شجر کاری میں تبدیل کریں تو صاف ستھرے ماحول کے ساتھ فقر و غربت کے خاتمے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ممکن ہے اس کے ثمرات وزیر اعظم کی حکومت نہ دیکھ سکے مگر آنے والی نسلیں ضرور دیکھیں گی۔
 انہوں نے وضاحت دی کہ دین اسلام فقط عقائد  و کچھ مخصوص عبادات کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل جامع نظام حیات کا نام ہے۔یہ دین انفرادیت و اجتماعیت کے حسین امتزاج کا نام ہے۔ اسلام نے فرد کے ساتھ معاشرہ اور ماحول کی اصلاح کا بھی حکم دیا ہے۔ اسلام جہاں فکری پاکیزگی و صاف و شفاف کردار کی تلقین کرتا ہے وہیں صاف ستھرے ماحول اور معاشرے کی تاکید بھی کرتا ہے۔

اسلام جہاں فکری آلودگی و اخلاقی آلودگی کے خلاف جدوجہد کاحکم دیتا ہے  وہیں فضائی و معاشرتی آلودگیوں  کے خلاف سعی و کوشش کا حکم بھی دیتا ہے۔دیکھا جاۓ تو انسان کی زندگی دوسانسوں کے تسلسل کا نام ہے ۔ایک سانس وہ اندر سے باہر نکالتا ہے ۔ دوسرا سانس وہ باہر سے اندر  لیتا ہے ۔اسی تسلسل کا نام ”زندگی“ ہے۔ان دو سانسوں کی جگہ نہ دل ہے نہ دماغ ہے بلکہ ”پھیپھڑا“ ہے۔ پس  انسانی جسم میں پھیپھڑے کی جو اہمیت ہے وہی اہمیت زمین پر درختوں کی ہے۔
زمین پر درختوں کے وجود سے ہی انسان کی زندگی رواں دواں ہے۔درختوں کی کمی کی وجہ سے دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی آلودہ فضا میں سانس لے رہی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر دس میں سے نو افراد خطرناک حد تک آلودہ فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ان میں شہری آبادی کی تعداد بہت ہی زیادہ ہیں۔
ایک صحت مند آدمی کو دن میں دو پونڈ  آکسیجن درکار ہوتی ہے ۔ بڑھتی ہوٸی آبادی کے پیش نظر جنگلات ، شہروں اور دیہاتوں میں درختوں کی کٹاٶ کے سبب فضاٸی آلود گی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تقریبا تیرہ ملین رقبے پر پھیلے جنگلات کا تیزی سے صفایا ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ بڑھتی ہوٸی صنعت کاری ، مشینری اور کیمیکل ہتھیار فضا کو مزید  زہر آلود بنا رہا ہے ۔ایسے میں محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین و ہدایات کو عام کرنے اور ان پر انفرادی ، اجتماعی اور حکومتی سطح پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شجر کاری کو فروغ دینے کے لئے اہل ایمان پر شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیتے ہوۓ فرمایا کہ ” جو مسلمان درخت لگاۓ یا فصل بوۓ پھر اس میں سے جو پرندہ یا انسان یا حیوان کھاۓ تو وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوگا۔  ( مستدرک الوسائل الشیعہ + صحیح البخاری)
دوسری حدیث ”جو کوئی درخت لگاۓ اور وہ پھل دینے لگ جاۓ تو اللہ  تعالیٰ اس بندے کو اس درخت سے حاصل ہونے والے پھل کے برابر ثواب عطا کرےگا۔( جب تک میوہ دیتا رہے) {مستدرک وسائل الشیعہ}

اس اہم کانفرنس میں ڈاکٹر یعقوب بشوی نے ایک اور اہم تجویز پیش کرتے ہوۓ آئندہ ”قرآن و سنت کے نقطہ نظر سے معاشرتی تبدیلی “ کے عنوان پر ایک بین الاقوامی کانفرنس رکھنے کی تجویز بھی  پیش کی۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ سعادت بھی جی سی یونیورسٹی کے محترمہ طیبہ ظریف اور ان کی ٹیم حاصل کرے گی چونکہ جب پورے پاکستان میں یکساں قومی نصاب پر سب اپنے اپنے مسلکی دائرے میں چیخ و پکار یا محو خواب تھے۔ تب انہوں نے  منبع و محور دین ”رسول خدا“ کی سیرت  کے تناظر میں عالمی کانفرنس رکھ کر بقاۓ انسانیت کا شعور دے کر بتادیا کہ اسلام مسلکوں میں بٹ کر انسانیت کے قتل عام و تکفیر کرنے کا نام نہیں بلکہ حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت کے ذریعے عالم انسانیت کو بچانے کا نام  ہی اسلام ہے۔
فتوای بازی اور تفرقہ بازی کے خلاف اس طرح کی  بین الا قوامی کانفرنسوں کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو آج اتحاد و  بقا کے اصولوں ، ذریعوں ، روشوں و افکار کی اشد ضرورت ہے۔تاکہ عدم برداشت کا ماحول برداشت اور تحمل کی فضا ٕ میں بدل سکے۔یہ درس بھی ہمیں درختوں سے سیکھنا ہوگا۔

بقول غلام مرتضٰی کے
کتنا بھی رنگ و نسل میں رکھتے ہو اختلاف
پھر بھی کھڑے ہوۓ ہیں شجر ایک قطار میں