مسئلہ کشمیر  یا حضرت عثمانؓ کا کُرتہ
چمن آبادی

 ایک آن لائن کانفرنس جاری تھی۔ موضوع مسئلہ کشمیر تھا۔  فاضل مہمان نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے تجاویز پیش کرتے ہوئے بہت مفید اور تحلیلی گفتگو کی۔ انہوں نے سارک ممالک کو یورپین یونین کی  طرز پر متحد ہونے کا مشورہ بھی دیا۔ ان کے تجزیّے کے مطابق واجپائی  فارمولہ ایک بہترین فارمولہ تھا۔ اُن کے مطابق  واجپائی فارمولہ مسئلہ کشمیر کا ایک باعزّت حل تھا تا ہم  اب ایسا موقعہ شاید ہی ملے  ۔ ان کی تجویز کی اہمیت سے انکار نہیں تاہم میرے ذہن میں اس حوالے سے کچھ تحفظات اور سوالات ہیں جنہیں بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
سیاسی تجربات سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ بارڈر کھولنے سے اقتصادی روابط میں بہتری تو ممکن ہے لیکن اس سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی مدد ملے گی یہ ناممکن ہے۔ اس کی زندہ اور موجودہ مثال ہمارے سامنے مسئلہ فلسطین  کی ہے۔ اگر بارڈر کھولنے سے یہ انسانی حقوق پر مبنی مسائل حل ہونے ہوتے تو مسئلہ فلسطین کب کا حل ہوجاتا۔ عرب ممالک نے اپنے دروازے اسرائیل کے لیے کھول رکھے ہیں۔ طرفین کے درمیان سفارتی ، تجارتی اور سیاسی تعلقات جتنے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں فلسطینیوں کی مظلومیت اُتنی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ عرب ریاستیں جو فلسطینیوں کی وکیل تھیں جب انہوں نے فلسطینیوں کا مقدمہ لڑنے کے بجائے اپنی ترقی اور خوشحالی کا مقدمہ لڑنا شروع کردیا تو اس سے فلسطین کی بدحالی میں تو اضافہ ہونا ہی تھا۔  
 مجھے اس بات کا اعتراف ہے  کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی  خارجہ پالیسی  اور سفارتی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں ۔اس ناکامی کی وجہ بھی ڈاکٹر حفیظ الرحمان صاحب نے بتائی ہے۔ ہم نے کشمیری مظلوم بہن بھائیوں کے مقدمے کو  مضبوط بنانے کے بجائے اپنی سرزمین پر دوسروں کے مفاد کی جنگیں لڑی ہیں۔ میں فاضل تجزیہ کار کے اس نکتے کی وضاحت میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہم نے اہلیانِ کشمیر کو اپنے وجود کا حصہ سمجھنے کے بجائے انہیں اپنا محتاج سمجھا ہے، ہم نے کشمیر میں مقامی قیادت کو نہیں ابھرنے دیا، مقامی کشمیریوں کی حوصلہ افزائی ، مدد اور حمایت کے بجائے ہم انہیں سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ گزشتہ پچہتر سالوں سے ہم نے مسئلہ کشمیر کے نام پر  لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اس مسئلے سے صرف اور صرف 
حضرت عثمانؓ کے خون آلود کُرتے کا کام لیا ہے۔ ہمارے سیاستدان فقط  الیکشن جیتنے اور اقتدار تک پہنچنے کیلئے کشمیر کا پرچم اٹھاتے ہیں ورنہ انہیں کشمیریوں کے بہنے والے خون سے کوئی ہمدردی نہیں۔ اسی طرح یہ جو کہا جاتا ہے کہ کشمیر کے لئے پاکستان دولخت ہوا ، اس دعوے میں بھی کوئی صداقت نہیں۔ آپ تجزیہ وتحلیل کر کے دیکھ لیں اور تاریخ کی ورق گردانی کرلیں ، پاکستان ٹوٹنے کے پسِ منظر میں بھی ہماری ہوسِ اقتدار کارفرما تھی۔ چنانچہ بنگلہ دیش کو الگ کرنے کے بعد پھر مسئلہ کشمیر سے حضرت عثمانؓ کے کُرتے کا کام لیا جا رہا ہے۔ یوں ہی یہ بھی کہاجاتا ہے کہ کشمیر کیلئے ہم نے تین جنگیں لڑیں حالانکہ فہم و فراست رکھنے والے ہر شخص پر واضح ہے کہ یہ تینوں جنگیں الگ الگ مسائل کے باعث ہوئیں۔
اگر کشمیر کو  جہاد  سے حاصل کیا جا سکتا تھا تو ہم نے جہاد کو بھی بدنام کر دیا ہے۔ ہمارے ملک میں جہادی کیمپوں سے  تکفیری نرسریوں کا کام لیا گیا، شدت پسندی کی ترویج کی گئی اور مختلف مذاہب و مسالک کی عبادت گاہوں بشمول مساجد و امام بارگاہوں اور مزارات  پر شب خون مارا گیا۔ پولیس و فوج کے جوانوں سمیت  ہزاروں   نہتے اور بے گناہ مسلمانوں کو  ان دہشت گردوں سے قتل کروایا گیا۔  
 میرے خیال میں ہمیں سب سے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہوگا۔ ہماری ترقّی اور پیشرفت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر نہیں بلکہ ہماری ناقص منصوبہ بندی اور غلط طرزِ عمل ہے۔ اگر ہم اپنے گھر کو درست کر لیں اور مسئلہ کشمیر کو حضرت عثمانؓ کا
کُرتہ بنانے کے بجائے اپنی ترجیحات میں شامل کر لیں تو یہ مسئلہ حل بھی ہو جائے گا اور خطّے میں ترقی اور خوشحالی کا  ایک نیادور بھی شروع ہو جائے گا۔