اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات جنت البقیع ویران کیوں؟ مختصر تاریخ جنت البقیع کاپرانا نام ~بقیع الغرقد~تھا۔بقیع یعنی مختلف درختوں کا باغ اور غرقد ایک مخصوص قسم کےجھاڑی نما درخت کو کہتے ہیں جو پہلے اس جگہ کثیر تعداد میں تھا اسی وجہ سے یہ نام پڑ گیا۔ جن میں اہل سنت کی صحاح ستہ میں سے صحیح مسلم،صحیح ابن ماجہ ، سنن ابن داود ،سنن ترمذی ،نسائی اور ابن حجر عسقلانی کی کتابیں مشہور و معروف ہیں۔ان کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے جید علما ٕ کرام نے اس موضوع پر سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں۔ جنت البقیع میں اوائل اسلام کی عظیم شخصیات کی قبور ہیں جن میں حضرت رسول خدا کے فرزند جناب ابراھیم ، حضرت علی ع کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ، حضرت عبداللہ ابن جعفرطیار ، حضرت عباس ابن عبدالمطلب ، حضرت ام البنین ، حضرت حلیمہ سعدیہ ، امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ ، حضرت حفصہ بنت عمر ، حضرت ام حبیبہ ، حضرت زینب ، حضرت ریحانہ ، حضرت ماریہ قبطیہ وغیرہ یہاں دفن ہیں۔ احد کے کٸی شہدا ٕ اور واقعہ حَرّا کے شھدا ٕ بھی یہاں دفن ہیں۔بعض روایت کے مطابق رسول خدا کی اکلوتی بیٹی ، قرة عین الرسول ؛ حضرت فاطمہ زہرا س کی قبر مبارک بھی اسی ویرانے میں موجود ہے۔ صحاح ستہ کی بعض روایتوں کے مطابق حضرت رسول خدا نہ فقط حضرت حمزہ سیدالشھدا پہ گریہ کیا بلکہ مدینہ کی عورتوں سے بھی فرمایا کہ وہ جناب حمزہ پہ ماتم کریں۔ آقا کے اس فیصلے پر انکی نسلیں اب بھی کاربند اور انکی جی حضوری و نمک حلالی میں مصروف و مگن ہیں۔ ان لوگوں نے مدینہ و مکہ میں شیعہ علما کے علاوہ ایک دن میں پانچ سو کے قریب اہل سنت کے جید علما کرام کو قتل کیا۔ ( یہ باتیں میں نے سنی تحریک کےسربراہ شھید سلیم قادری کے منہ سے سنی ہیں جو مستند حوالہ کے ساتھ بتا رہے تھے) مگر جنت البقیع اور جنت المعلی ویران ہیں لبرل ازم کے نام پر سینکڑوں مےخانے اور جواخانے کھول دیے گئے ہیں۔ہولی سے لے کر کرسمس تک کی آزادی ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

تحریر:محمد بشیر دولتی
امام حاکم کی مستدرک میں موجود روایت روایت کے مطابق اللہ تعالٰی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بقیع کی جگہ قبرستان بنانے کاحکم فرمایا تھا۔اسلام کے اس پہلے اور عظیم قبرستان کا باقاعدہ آغاز رسول خدا کے باوفا اصحاب ؛انصار مدینہ کے اسعدبن زرارہ اور عثمان بن مظعون کے دفن سے ہوا۔
عام مسلمانوں کی اہم ترین کتاب صحیح مسلم اور سنن نسائی میں جنت البقیع کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول خدا نےفرمایا کہ ”خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ بقیع جاؤں اوراہل بقیع پہ سلام اور طلب مغفرت کروں“ پھر اس سے مربوط دعا بھی اسی روایت میں موجود ہے۔
”چونکہ اوائل اسلام میں اکثر مسلمانوں کے آبا و اجداد کافر یا مشرک مرے تھے اس لیے بعض روایت کے مطابق انکے قبورپہ جانے سے رسول خدا نے منع کیا تھا“
جب آپ ﷺ کےخاص چاہنے والوں اور شمع رسالت کے پروانوں کا انتقال ہوا یا انکی شہادت ہوٸی تب رسول خدا نےمسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ قبور کی زیارت کے لیے جائیں ۔انکو سلام کریں انکے لیے اور اپنے لیے قبرستان جاکر طلب مغفرت کریں اوراپنی موت و آخرت کو یاد کریں۔“
اس سلسلے میں بہت ساری احادیث ؛قبور کی زیارت کے آداب فضائل اور فلسفہ احادیث کی مستند سمجھی جانے والی قدیمی کتابوں میں موجود ہیں۔
مسلمانوں کا تیسرا خلیفہ حضرت عثمان جو کہ پہلے بقیع کے باہر دفن تھے اب وہ بھی بقیع کی احاطہ کے اندر ہے۔
”بیت الحزن“ جو کہ حضرت علی ع نے بعض مدینہ والوں کی طرف سے حضرت فاطمہ کی اپنے بابا حضرت محمد ﷺ کی فراق میں ذیادہ گریہ کرنے کے سبب شکایت کرنے پر مدینہ سے باہر فقط رونے کے لیے جو جگہ بنائی تھی وہ بھی اب جنت البقیع کاحصہ ہے۔
حضرت علی ع کے بھائی جناب عقیل کا ذاتی گھر جس میں بعد میں ہمارے آئمہ اربعہ نواسہ رسول امام حسن ع ، امام سجاد ع ، امام محمد باقرع اور امام جعفرصادق ع دفن ہوۓ وہ بھی اسی جنت البقیع میں ہے۔
اسکے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں رسول خدا کے باوفا اصحاب کرام ، تابعین کرام ، امہات المومنین اور اسلام کے ابتداٸی شھدا ٕ کی قبور مبارک یہاں موجود ہیں۔
جنت المعلّٰی
مسلمانوں کے دوسرے اہم ترین اور قدیمی قبرستان جنت المعلّٰی ہے جو کہ مکہ شریف میں واقع ہے ۔جہاں رسول خدا کی پہلی اور چہیتی بیوی جس نے صنف نسواں میں سب سے پہلے نہ فقط ایمان لے آئی بلکہ عرب کی مالدار خاتون ہونے کی وجہ سے اپنے تمام تر مال و دولت رسول خدا کے سپرد کیا تا کہ اس سے ضعیف اور نادار مسلمانوں کی مدد کر سکے یعنی ام المومنین حضرت خدیجہ س کی قبر مبارک ہے۔
یہاں دوسری اہم شخصیت حضرت ابوطالب جو سپر بن کر رسول خدا کی حفاظت کرتے رہے بلخصوص اس وقت جب ابوسفیان اور اس وقت کے دیگر کفار و مشرکین نے سوٸشل بائیکاٹ کرتے ہوے شعب ابی طالب میں رسول خدا ور انکے حقیقی چاہنے والوں اور آپ کے قریبی رشتہ داروں کا ہر طرف سے محاصرہ کر رکھا تھا تو یہی ابوطالب رسول خدا کا ساتھ دیتے ہوے ، حفاظت کرتے ہوے ، ابوسفیان اور دیگر سے مقابلہ کرتے رہے اسلام کے ایسے ایسے گوہر نایاب اور رسول خدا کے حقیقی بے لوث و باوفا شخصیات یہاں دفن ہیں۔
تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جس سال ام المٶمنین حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب کا انتقال ہوا تو رسول خدا نے اس سال کو ”عام الحزن“ یعنی غم کا سال قرار دیا تھا ۔انکے انتقال کے بعد پھر مکہ رہنے کے قابل نہ رہا اور آپ ص نے وہاں سے ہجرت کی۔
مدینہ مبارکہ میں حضرت رسول خدا کے چچا سید الشھدا جناب حمزہ جن کا جگر ابوسفیان کی بیوی (۔معاویہ کی ماں ، یزید کی دادی ہندہ نے چبایا تھا)۔وہ اور جنگ احد کے دیگر شہدا کی قبور بھی ویرانے کی شکل میں یہاں موجود ہیں۔
اسلام کے ان عظیم جانثاروں اور محافظوں کی قبورپہ نہ فقط رسول خدا خود تشریف لے جاتے اور انکے لیے دعا کیا کرتے بلکہ دوسرے مسلمانوں کو بھی جانے کی تلقین کرتے اور زیارت کے آداب سکھایا کرتے تھے۔
جنت البقیع کی جدید تعمیر
رفتہ رفتہ شمع رسالت کے پروانوں نے اسلام کی ان عظیم شخصیات کی قربانیوں اور انکے کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھنے کے لیے ”جنت البقیع اورجنت المعلی کی ان قبور پر گنبد اور حجرہ بنواۓ تھے۔
ساتویں صدی ہجری میں عمربن جبیر نے اپنے مدینہ کے سفر میں جنت البقیع میں مختلف قبور پر قبوں اور گنبدوں کا ذکر کیا ہے۔پھر ایک سو سال بعد ابن بطوطہ نے بھی اپنے سفر نامے میں ان قبّوں اور گنبدوں کا ذکر کیا ہے ۔
کئی صدیوں تک یہ مزارات عالم اسلام کے لیے باعث تعظیم اور ایمان کی تازگی کا باعث بنا رہا سلطنت عثمانیہ کے دور میں بھی چونکہ یہاں محمد وآل محمد کے عاشقوں یعنی اہل سنت بھائیوں کی حکومت تھی تو ان مزارات کی رونق بھی تھی ۔
انہدام کے اسباب
پھر انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اسلام دشمنوں نے دین اسلام کو دنیا سے ختم کرنے کی ایک عالمی کوششوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے تحت برصغیر میں مرزائیت یا قادیانیت ، ایران میں بہائیت، سوڈان میں مھدویت ، لیبیا میں سنوسی ، نائجیریا میں فلافی ، انڈونیشیا میں پادری ،جبکہ حجاز میں وہابیت کو باقاعدہ منظم انداز میں فروغ دینا شروع کیا۔
محمد ابن عبدالوہاب جوکہ پیدائشی حنبلی تھا مدینہ منورہ میں ابتدائی تعلیم کے بعد بغداد ، بصرہ ، دمشق ، ہمدان اور قم میں تعلیم حاصل کرتا رہا بعد میں قرآن و حدیث میں ذاتی نظریات کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان مسلمہ عقائد کے خلاف بولنے لگا جس پہ اہل سنت علما نے انکو اپنی درسگاہ اور علاقوں سے نکال دیا تو یہ سرزمین نجد چلا گیا۔
اس وقت محمد بن سعود اپنے قبیلہ کا سربراہ اپنی مختصر سلطنت کو وسعت دینے کی تگ و دو کررہا تھا۔ دونوں کی ملاقات میں کافی ہم آہنگی ہوئی اسی دوران برطانیہ سلطنت عثمانیہ اور مسلمانوں کو زمینی و عقائدی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی پالیسی پہ گامزن تھا لذا انھوں نے محمد بن سعود کو ہرطرح کی مدد کا وعدہ کیا اور انکی پشت پناہی کے سبب محمد بن سعود نے نجد سے حجاز تک فتح کرلیا اور انکی حکومت قائم کی برطانیہ نے یہاں تک طےکر کے دیا کہ حکومت آل سعود کی جبکہ قضاوت ومذہبی عہدے آل وہاب کے ہونگے یہ کبھی ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرینگے ۔
یوں محمد بن عبدالوہاب اور محمد بن سعود اور برطانوی حمایت سے حجاز سے سنیوں کا صفایا کر کے وہابیت کی داغ بیل ڈالی گئی۔ محمد بن سعود کا اصل نام محمد ہونے کے باوجود سرزمین وحی کو محمدیہ رکھنے کے بجائے سعودیہ رکھ دیا۔
محمد بن عبدالوہاب کا نام محمد ہونے کے باوجود انکےخود ساختہ مکتب کو بھی محمدیہ کے بجائے باپ کے نام پر وہابی رکھ دیا آخرکیوں؟
یہ بات اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ 8 شوال 1344 ہجری بمطابق 21اپریل 1926 کو محمد بن سعود نے محمد بن عبدالوہاب کے فتوی پر جنت البقیع میں موجود انبیا۔ ، اوصیا ، آئمہ،اصحاب کرام اور امہات المومنین کے گنبد اور بنے ہوۓ مزارات کو منہدم کردیا۔۔۔یعنی یہ صدر اسلام کے کسی بھی نشانی کو باقی رکھنا نہيں چاہتے تھے۔
پس وہ مزارات و قبور جو تقریبا ساڑھے تیرہ سو سال سے مسلمانوں کو صدر اسلام کے جانثاروں اور وفاداروں کی بے لوث قربانیوں کی یاد دلاتے تھے ، جن کی زیارت سے مسلمانوں کا ایمان تازہ ہوا کرتا تھا ۔جو شعائرالہی کے مصادیق میں سےکچھ مصداق بنے ہوئے تھے انہیں ڈھادئےگئے ۔
جدّہ شہر جوکہ ہماری جدہ ماجدہ حضرت حوا کے مزار کی وجہ سے نام پڑگیا تھا اب تو اسے بھی شھید کیا جا چکا ہے
جب کہ یہ سب بھی شعائراللہ میں سے تھے جنہیں دیکھ کر خدا اور خدا کے رسول یاد آتے تھے۔
خدانے قرآن مجید میں سورہ حج اور سورہ مائدہ میں قربانی کے اونٹ اور دیگر جانوروں ، صفا و مروہ کی پہاڑیوں ، محترم مہینوں ، خدا کے حکم پر لبیک کہتے ہوے آنے والے حاجیوں کو بھی ”شعائراللہ“ کہا ہے اور ان شعائر کی توہین کرنے سے منع کیا ہے مگر افسوس وہابیوں ،نجدیوں نے ان تمام شعائر اسلام کو ڈھادیا اور ویران کردیا۔بسا اوقات حاجیوں کو بھی نہیں بخشا۔
جبکہ یہ کوئی فقہی مسئلہ نہیں تھا۔اوائل اسلام سے اب تک جہاں جہاں بھی اسلام پہنچا ہے مصر سے سوڈان تک ، اسپین سے ہندوستان تک ، فلسطین سے چین تک آپ کو اولیااللہ کے مزارات ملیں گی۔
اہل سنت آٸمہ اربعہ کے مزارات
جس ابن تیمیہ کے نظریات پر عبد الوہاب نے بنا رکھی ہے اس ابن تیمیہ کا مزار آج بھی شام کے شہر دمشق میں ،امام احمد ابن حنبل کا مزار عراق کے شہر بغداد میں ،امام شافعی کا مزار مصر کے شہر قاہرہ میں جبکہ امام ابو حنیفہ کا مزار عراق کے شہر بغداد میں موجود ہیں۔
عالم اسلام سراپا احتجاج
جس وقت جنت البقیع کو ڈھایا گیا تمام عالم اسلام سراپا احتجاج ہوگئے ۔ترکی میں اتاترک اور نجدیوں کے ذریعے خلافت عثمانیہ کے ظاہری اور نام کی حد تک موجود ہی سہی اس نشانی کو بھی ختم کیا تو برصغیر کے تمام مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے تو اسی دوران خلافت کمیٹی بنائی گئی۔ مولانا محمد علی جوہر نے برصغیر کے مسلمانوں کے ایمانی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوے نجد کے حاکم کو احتجاجی خط بھی لکھا ۔ مسلمانان عالم کے احتجاج اور قطیف کے شیعوں کا بروقت مدینہ پہنچنے اور مزاحمت کرنے کی وجہ سے رسول خدا کا روضہ مبارک شھید ہونے سے تو بچ گیا مگر آج بھی کسی کو وہاں جالی کو چھونے یا عقیدت سے چومنے نہیں دیتے ۔ قطیف کے شیعہ ابھی تک رسول خدا کے روضے کو بچانے کی سزا بھگت رہے ہیں۔
موجودہ سعودی عرب اور مقدس مقامات
اگرچہ آج سعودی عرب بدل چکا ہے ، سرزمین وحی میں عالیشان بت خانے غیر مقامی ہندوٶں کے لیے بنائے گئے ہیں۔
مگر مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ رسول خدا کے مزار کی جالی چومیں ، ہمارے آئمہ اربعہ کی قبر پر فاتحہ پڑھیں ، حضرت حلیمہ سعدیہ کی قبر پر سلام کریں۔
ام المومنین حضرت خدیجہ کی قبرپہ جاکر انکی بے لوث قربانیوں کو یاد کریں۔ سید الشھدا حضرت امیر حمزہ کی قبرپہ جاکر خراج تحسین پیش کریں۔۔۔افسوس۔۔۔
عبد الوہاب کے فتوی اور محمدبن سعود کے ظلم کی سبب آج بھی لاکھوں کروڑوں عاشقان رسول ، عاشقان اہلبیت ، عاشقان صحابہ کرام اور عاشقان امہات المومنین کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔
خدا ان عاشقوں محب اھلبیت سنیوں یا دین کا درد رکھنے والے اخوان المسلمین یاکسی بھی مسلمان کے ہاتھوں ان مزارات کی تعمیر کرنے اور ھم سب مسلمانوں کو ان زیارت گاہوں کی زیارت کرنےکی توفیق عطا فرماٸے آمین ثم آمین
افکار و نظریات: جنت البقیع ویران کیوں
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں