راشد منہاس !

یہ راستہ میرا راستہ نہیں ہے
نذر حافی

آج ۲۰ اگست ہے۔ آج کے دن ہمارا ایک ۲۰ سالہ قومی ہیرو شہید ہوا تھا۔یہ ایسا ہیرو ہے جو بظاہر سب سے کم سِن ہے لیکن اس نے سب سے بڑا اعزاز یعنی نشانِ حیدر حاصل کیا ہے۔ ۲۰ اگست ۱۹۷۱ کو یہ ۲۰ سالہ نوجوان دن کے گیارہ بجے اپنے T-33 جیٹ ٹرینر پراپنی اُڑان بھرنے کیلئے آمادہ تھا۔

پائلٹ افیسر راشد منہاس نے طیّارے کو رن وے کی طرف بڑھانا ہی چاہا تھا کہ اُن کے بنگالی فلائٹ انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن نے انہیں رُکنے کا اشارہ کیا۔ اس کے بعد انسٹرکٹر کاک پٹ میں گھس گیا اور طیّارہ بھارت کی طرف پرواز کرنے لگ گیا۔

راشد منہاس نے کنٹرول ٹاور کو اپنا طیّارہ اغوا ہونے کی اطلاع دی۔ راشد منہاس کو طیارے کو بھارت میں داخل ہونے سے روکنے کا کہا گیا۔ طیّارے کے اندر انسٹرکٹر اور پائلٹ کے مابین دو بدو کشمکش جاری تھی۔

جیسے ہی طیّارہ بھارت سے صرف ۲۳میل دور رہ گیا تو راشد منہاس نے خود کو وطن پر قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ٹھٹھہ کے گرد و نواح میں طیّارے کا رُخ زمین کی طرف ہوا اور کچھ ہی دیر میں طیّارے کے تو پرخچے اُڑ گئے لیکن اُن کی شہادت کے بعد اُن کا ایک پیغام ہم سب کی توجہ چاہتا ہے۔۔۔وہ پیغام کیا ہے!؟


اس کے چار ماہ بعد 5 دسمبر 1971ء کو پاکستان آرمی کے میجر محمد اکرم شہید نے بھی ایک پیغام اپنے خون سے لکھا۔ ۱۹۷۱ کی جنگ کی ابتدا ہوئی تو وہ ہلّی ضلع دیناج پور میں فرینٹیر فورس رجمنٹ کی ایک کمپنی کے لیڈر تھے۔ انہوں نے چومکھی لڑائی لڑتے ہوئے دو ہفتے تک دشمن کو ایک انچ کے برابر بھی پیش قدمی نہیں کرنے دی۔

اُن کی استقامت اور شہامت کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے اُنہیں وطن کے سب سے بڑی فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا۔

شہادت کے بعد بنگلہ دیش میں بوگرا کے مقام پر اُن کی قبر آج بھی اپنے ہم وطنوں کی منتظر رہتی ہے۔ بظاہر وہ بوگرا میں دفن ہیں لیکن در حقیقت ہر محبِّ وطن پاکستانی کا دل اُن کا مدفن ہے۔
اُنہیں بظاہر دیارِ غیر میں دفن کر دیا گیا لیکن اُن کی شہادت کے بعد اُن کا ایک پیغام ہم سب کی توجہ چاہتا ہے۔۔۔وہ پیغام کیا ہے!؟


میجر شبیر شریف نے بھی ہمارے لئے ایک پیغام چھوڑا تھا۔ ۱۹۶۵ کی پاک بھارت جنگ میں جوانمردی اور شجاعت کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے انہیں ستارہ جرات ملا۔ ۳ دسمبر ۱۹۷۱ کو وہ سلیمانکی سیکٹر میں ایک فرنٹیر فورس رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر تھے۔ وطن کے دفاع کیلئے وہ ۳۰ فٹ چوڑی اور دس فٹ گہری نہر کو عبور کرکے دشمن کے بارودی سرنگوں کے درمیان سے گزر گئے۔ انہوں نے اپنے معیّن شدہ ہدف کو حاصل کرنے کیلئے تین دسمبر کی شام تک دشمن کے تینتالیس سپاہیوں کو ہلاک اور چار ٹینکوں کو تباہ کر کے دفاعی لائن سے دشمن کا صفایا کر دیا۔

۵ اور چھ دسمبر کی درمیانی شب میجر شبیر شریف نے آسام رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر سے اہم دستاویزات حاصل کر لیں۔ چھ دسمبر کی شب ہی وہ دشمن کے ایک وحشتناک حملے کا نشانہ بنے۔ اُن کی شہادت کے بعد حکومت پاکستان نے انہیں بہترین عسکری کارکردگی دکھانے پر نشان حیدر کا اعزاز عطا کیا۔

میجر شبیر شریف شہید لاہور کے مشہور قبرستان میانی صاحب میں دفن ہیں۔اُن کی شہادت کے بعد اُن کا ایک پیغام ہم سب کی توجہ چاہتا ہے۔۔۔وہ پیغام کیا ہے!؟
دمِ تحریر میرے سامنے شہباز گل کے ٹارچر شُدہ بدن کی تصاویر اور ویڈیوز ہیں۔

یہ تو شہباز گل ہے ورنہ نجانے روزانہ کتنے ہی لوگوں کو ایسی سزاوں سے گزارا جاتا ہو گا۔


سزا تو لیاقت علی خان کو بھی ملی تھی، زخموں کے نشاں تو محترمہ فاطمہ جناح ؒ کے بدن پر بھی تھے۔ گولیاں تو محترمہ بے نظیر بھٹو کے بدن سے بھی پار ہوگئی تھیں۔ ۔۔


خیر اس وقت میرے سامنے اُن اغوا اور لاپتہ ہوجانے والے سینکڑوں نوجوانوں اور جوانوں کے لواحقین کے ویڈیو کلپس بھی ہیں جو مرنا چاہتے ہیں لیکن اُنہیں موت نہیں آتی، میرے سامنے اُن لاوارث ماوں بہنوں اور بیٹیوں کے بین اور آنسو ہیں جن کے عزیزواقارب کئی کئی سالوں سے لاپتہ ہیں۔

المختصر یہ کہ لوگوں کو اذیت کدوں میں لے جا کر اُن کی تضحیک کا عمل اور اُن کی شخصیت کو توڑنے کیلئے اُن پر وحشتناک تشدد ، اُن کے جنسی اعضا کو نشانہ بنانا، اُن کی شرمگاہ پر زخم لگانا یہ سب کچھ ہمارے نشانِ حیدر پانے والے شہدا کا خواب نہیں تھا۔

اُنہوں نے یہ قربانیاں اس لئے نہیں دی تھیں کہ اِ س مُلک میں یہ سب کچھ ہو گا۔ عوام چاہے کسی بھی پارٹی، گروہ ،مسلک، فرقے یا صوبے اور قومیت سے تعلق رکھتے ہوں وہ اِس مُلک کے معززباسی، باعزت شہری اور خود مختار مالک ہیں۔ ٹارچر سیلوں میں اُن کی شخصیت کو کچلنے کے بجائے اُن کی حقیقی معنوں میں شخصیت پروری اور رہنمائی کی جانی چاہیے۔
اگر کوئی جاننا چاہے اور سمجھنا چاہے تو نشانِ حیدر پانے والے ہر شہید کا ہمارے لئے آخری پیغام یہی ہے کہ قوموں کے ہیرو وہ ہوتے ہیں جو اپنی قوم کے حصّے کے زخم کھاتے ہیں، جو صبر و رضا کے پیکر ہوتے ہیں، جو اپنی قوم کیلئے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں، جو تحمّل اور برداشت میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں، جو اپنوں کو کچلنے کے بجائے اپنوں کے دفاع کیلئے اپنا سر ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں
لیکن جو زخم کھانے کے بجائے زخم لگاتے ہیں، جو برداشت کرنے کے بجائے اغوا کر لیتے ہیں، جو جان قربان کرنے کے بجائے جان لے لیتے ہیں، اور لوگوں کو عزّت اور شخصیت دینے کے بجائے اُن کی شخصیت و عزّت کو کچلنے کیلئے اُن پر وحشیانہ تشدد کرتے ہیں ، وہ نشانِ حیدر پانے والے شہدا کے راستے پر نہیں چل رہے۔


میں اربابِ اختیار و سرکار کی خدمت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہمارے پاس سُننے والے کان اور سمجھنے والے دِل موجود ہوں تو بلاشُبہ آج ۲۰ اگست کو بیس سالہ راشد منہاس شہید کی قبر سے مسلسل یہ آواز آ رہی ہے کہ لوگوں پر تشدد کرنا، جوانوں کو اغوا کرنا، قوم کی ماوں بیٹیوں کو رُلانا اور ٹارچر سیلوں میں تشدد کرنا۔۔۔ یہ راستہ میرا راستہ نہیں ہے۔ یہی راشد منہاس کا پیغام ہے خواہ کوئی سُنے یا نہ سُنے۔۔۔ یہ راستہ میرا راستہ نہیں ہے۔