مسلم دانشوروں اور دانشگاہوں کے خلاف استعمار کی سازشیں

تحریر : محمد بشیر دولتی

حصہ الف

انسانی معاشروں کی بہت ساری مشکلوں میں سے ایک اہم ترین مشکل کسی چیز کی عدم شناخت یا درست شناخت نہ ہونا پھر اس کے باوجود جاننے کا دعویٰ کر کے جہل مرکب کا شکار ہونا ہے۔اگر کسی ملک اور اسکی خارجہ پالیسی اور وہاں کی شخصیات اور دوست و دشمن کے بارے میں درست اور دقیق مطالعے کی وجہ سے بصیرت حاصل ہو جائے تو پھر کوٸی انسان یا ملک کسی کو دھوکہ اور فریب نہیں دے سکتا۔ہمارے معاشرے کی اصل مشکل یہی ہے کہ یہاں لوگوں سے لے کر حکمرانوں تک،تنظیموں سے لے کر تحریکوں تک، نعروں سے لے کر خارجہ پالیسیوں تک ، ظاہر کچھ تو باطن کچھ اور ہوتا ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔عالمی طاقتیں جنہیں استعمار کہنا اسم بامسمّی ہے ان کے نعروں اور دعوؤں کی بھی یہی حالت ہے۔جوعوام کو دھوکہ دینے کے لیے پرکشش نعرے اور دعوے رکھتے ہیں مگر ان کے مقاصد انتہاٸی مذموم اور خطرناک ہوتے ہیں۔انہی نعروں اور وعدوں میں سے ایک ان کا علم دوست ،علم پرور اور دوسرے ممالک کو علمی و ساٸنسی میدان میں پیشرفت کے لیے تعاون کرنے کا دعویدار ہونا ہے۔اس دعوے کے اثبات کے لیے یہ ممالک دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے کالج یونیورسٹیوں سے اسکالرشپ کے نام پر ذہین ، فطین، قابل اور محنتی افراد کو لےکر جاتے ہیں پھر ان میں سے غیر معمولی صلاحیت کے حامل افراد کو اپنی خدمت کے لیے ہرقسم کی سہولیات و آساٸشیں دے کر ہمیشہ کے لیے خرید لیتے ہیں۔ درحقیقت یہ ممالک دانش پرور نہیں بلکہ دانش کش ہوتے ہیں ۔علم دوست نہیں بلکہ علم دشمن ہوتے ہیں .انہیں دانشور سے زیادہ خدمت گزار کی ضرورت ہوتی ہے۔کوٸی بھی ملک ان کی فرعونیت و برتری کو قبول کیے بغیر ایٹمی پیشرفت میں مصروف ہو جائے تو ان پر مختلف طریقوں سے پابندیاں لگائی جاتی ہے۔جنوبی کوریا ، چین ، ایران ، شام ، لیبیا اور عراق کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ بالخصوص مسلم ممالک کے دانشور علمی پیشرفت میں مصروف اور کامیابی کی طرف گامزن ہوں تو ایسے دانشوروں کو جو {کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں} انہیں بڑی بےدردی کے ساتھ مختلف انداز میں جان سے مار دیتے ہیں ۔انہی عظیم دانشوروں میں سے ایک حالیہ دنوں شہید ہونے والے ایرانی ایٹمی ساٸنسدان شہید فخری زادہ بھی ہیں ۔
مختلف مسلم ممالک سے استعماری ممالک میں اعلٰی تعلیم کے لیے جانے والی شخصیات جب واپس اپنے ملک میں جاکر کوٸی خدمت انجام دینا چاہیں تو انہیں خفیہ انداز میں یا تو موت کی آغوش میں سلادیا جاتا ہے یا پھر خفیہ مواد کے ذریعے قسطوں میں ماردیا جاتا ہے ۔ان دو طریقوں میں اگر کامیاب نہ ہوں تو ان کی شخصیت کو مسخ کردیا جاتا ہے۔
میں اپنے اس دعوی کو تاریخ کے آٸینے میں ثابت کر سکتا ہوں۔میں مانتا ہوں کہ کوئی بھی انسان اس حقیقت کا منکر نہیں کہ مغرب نے سائنسی ایجادات میں کافی پیشرفت کی ہے۔مگر یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ مغرب کے جدید ایجادات میں قدیم مسلم سائنسدانوں کی ایجادات و نظریات کا بنیادی کردار ہے۔جن میں بابائے کیمیا جابرابن حیّان سے لےکر زکریا رازی، تک شامل ہیں۔
مگر
اہم سوال یہ ہے کہ جدید سائنسی دور میں مسلم سائنسدانوں کی کوئی اہم پیشرفت کیوں نہیں؟

اس کیلئے ہمیں اپنی غفلتوں اور سستیوں کے علاوہ عالم استعمار کی سازشوں سے آگاہی حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔یہ ایک انتہاٸی اہم موضوع ہے جس پہ کٸی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر بدقسمتی سے اس پر ابھی تک کوٸی کتاب موجود نہیں۔مجھے عالمی استعماری طاقتوں کی ان سازشوں پر المصطفی یونیورسٹی میں فارسی زبان کورس کے اختتام پر ایک مقالہ لکھنے کا موقع ملا تو بہت اہم موضوع ہونے کے باوجود میرے اساتید کا یہ کہنا تھا کہ اس موضوع پر ابھی تک کوٸی باقاعدہ کتاب موجود نہیں البتہ کچھ مواد فارسی اور عربی سائنس پر موجود ہیں ان سے حاصل ہونے والی انتہاٸی اہم معلومات میں سے کچھ اقتباسات جو میرے مقالے کا حصہ تھے آپ قارٸین کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

آئیں دیکھیں کہ استعمار نے کٸی جیّد مسلم سائنسدانوں کے ساتھ کیسا امتیازی سلوک کیا۔
1-سمیرہ موسٰی
یہ مصر سے تعلق رکھنے والی ایٹمی سائنسدان ہیں ۔انہوں نے ایٹمی طاقت کو میڈیکل کے شعبے میں کیسے کام میں لایا جاسکتا ہے۔نیز ایٹمی طاقت سے بجلی پیدا کرنے پر بھی مختلف ایجادات اور تحقیقات کیں ۔مگر افسوس انہیں 1952ء میں امریکہ کے دورے کے دوران قتل کردیا گیا۔
2- حسن رمال
اس عظیم سائنسدان کا تعلق لبنان سے تھا کہتے ہیں کہ یہ علم فزکس کے میدان کا عظیم شہسوار تھا ۔انھوں نے 119 سے زائد سائنسی ایجادات و تحقیقات کی ہیں جو کہ مسلم و قبول شدہ ہیں۔ مگر اس عظیم مسلم سائنسدان کو 1991ء میں فرانس میں قتل کر دیا گیا۔
3- سمیرنجیب
یہ بھی مصر سے تعلق رکھنے والے ایٹمی سائنسدان تھے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں کام کیا کرتے تھے جب انہوں نے مصر واپس جانے کا فیصلہ کیا تو اس کی سائنسی تحقیقات کو چوری کرلیا گیا پھر انہیں 1967ء میں قتل کر دیا گیا۔
4- سعید بدیر
یہ بھی مصر سے تعلق رکھتے تھے اور میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں ماہر تھے اور اس شعبے میں قابل قدر علمی تحقیقات کیں اور کافی عرصہ جرمن میں سٹیلائٹ فیلڈ میں خدمات انجام دیتے رہے پھر 1989ء میں اسے بھی خفیہ طریقے سے قتل کردیا۔

5- حسن کامل الصباح
لبنان سے تعلق رکھنے والے ماہر انجینئر تھے انہیں ”عرب کا ایڈیسن“ بھی کہا جاتا تھا الیکٹریکل انجینئرنگ کے شعبے میں دو ہزار کے قریب ثابت شدہ ایجادات ہیں۔انہیں بھی 1935ء میں امریکہ میں قتل کردیا گیا۔

6-ڈاکٹرنبیل قلینی

مصر کا ہی ایک اور ایٹمی سائنسدان جنہوں نے یورینیم کو افزودہ کرنے کے حوالے سے قابل قدر تحقیقات کی ہیں۔1975ء میں ایسے غاٸب ہو گئے کہ ابھی تک کچھ بھی خبر نہیں ۔

7 - یحیٰ المشد
یہ بھی مصر کے ایٹمی سائنسدان تھے بلکہ مصر کے ایٹمی پروگرام کا سرخیل تھے اور انہیں عراق کے ایٹمی پروگرام کا بابا بھی کہا جاتا ہے۔ایٹمی ری ایکٹر کے بارے میں ان کے تقریباً پچاس بہترین تحقیقاتی مقالہ جات موجود ہیں انکو بھی 1980ء میں فرانس کے شہر پیرس میں قتل کر دیا گیا۔الجزیرہ کے مطابق ایک یہودی شدت پسند تنظیم نے ان کو ان کے ہوٹل میں ہی خفیہ طریقے سے قتل کیا ہے۔
8- سامیہ میمنی
سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی میڈیکل ڈاکٹر تھی انکی تحقیقات نے ہارٹ آپریشن کا زاویہ بدل کر رکھ دیا اس سلسلے میں ایک آلہ بھی ایجاد کر لیا تھا مگر 2005ء میں قتل کر کے ان کے ایجاد کردہ آلہ اور دیگر مسودات کو چرا لیا گیا۔

9- سلوٰی حبیب
یہ کویت سے تعلق رکھنے والی خاتون ساٸنسدان تھی انہوں نے عرب اور افریقہ کے بارے میں اسرائیل کی کئی سازشوں کوطشت از بام کیا تھا جس کی پاداش میں انکو اپنے ہی فلیٹ میں ذبح کر دیا گیا صہیونیوں کے اس ظلم و بربریت پہ حقوق نسواں کے علمبردار آج تک خاموش ہیں اور خاموش ہی رہیں گے۔

10-ابراہیم الظاہر
ایک عراقی جوہری ساٸنسدان جو کینیڈا میں مقیم تھے۔سقوط بغداد کے بعد عراق واپس آئے اور دیالا یونیورسٹی میں خدمات انجام دینے لگے مگر استعماری آلہ کاروں نے اپنے آقاٶں کے حکم پر 2004ء کو شہر یعقوبہ میں شہید کیا۔

11-محمد الزواری
تیونس کے ایرو اسپیس انجینٸر جنہیں 2016ء میں تیونس کے شہر سفاق میں قتل کیا ان پر اسراٸیل کی طرف سے فلسطین کے القسام بریگئیڈ کے لئے ڈرون بنانے کی مدد کرنے کا الزام تھا۔

12-فادی البطاش
ایک فلسطینی نوجوان ساٸنسدان تھے جو ملاٸشیا یونیورسٹی میں پروفیسر تھے ان پر بھی اسراٸیل کی جانب سے فلسطینی جہادی تنظیم حماس کے لیے ڈرون بنانے کا الزام تھا امسال چند ماہ قبل انہیں کوالالمپور میں صبح کے وقت حملہ کرکے شہید کیا گیا۔

13-مصطفی احمدی روشن
یہ ایران کے جوہری ساٸنسدان تھے جنہیں 2012ء میں فاٸرنگ کر کے شہید کیا گیا۔

14-مسعود علی محمدی
یہ ایک اور ایرانی ساٸنسدان تھے جسے 2010ء میں شہید کیا گیا۔ایرانی ایجنسی نے ان کے قاتل کو گرفتار کر کے پھانسی دی یہ ماجد جمالی نامی ایک باکسر تھا جس نے قتل کے بدلے موساد سے ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر لینے کا اعتراف کیا تھا۔

15- فریدون عباسی

ایران کا واحد ایٹمی ساٸنسدان جو جان لیوا حملے میں زخمی ہوکر بچ گئے تھے جب یہ اپنی گاڑی میں جارہے تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ کسی باٸیک والے نے چلتی ہوٸی گاڑی کے ساتھ کچھ چپکاکر نکل گیا ہے ۔انہوں نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوۓ گاڑی فورا سڑک کنارے روک کر بیوی کو باہر نکالنے لگے تو مقناطیسی بم پھٹ گیا تھا جس سے یہ اور انکی بیوی زخمی ہوۓ مگر شکر ہے زندہ بچ گٸے اور آج بھی بقید حیات اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

16-شہید ڈاکٹر محسن فخری زادہ
فریدون عباسی کےعظیم شاگرد ایٹمی ساٸنسدان جنہیں کراۓ کے استعماری آلہ کاروں نے تہران کے مضافات میں بےدردی سے شہید کیا۔

واضح رہے کہ کسی بھی مسلم مرد یا خاتون ساٸنسدان یا دانشور کے قتل پر علم دوستی یا عورت کی تعلیم و آزادی کے دعویداروں نے کوٸی احتجاج یا مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔یہ کہانی پھر سہی۔۔۔۔


بقیہ حصہ ب