اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات شہید رضوی اور نصاب تعلیم نصاب تعلیم ہی قوم کی تشکیل اور بقا کا ضامن ہوتا ہے۔ کسی بھی قوم کی آنے والی نسل کی باگ ڈور اس قوم کے نصاب اور نصاب سازوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے نئی نسل کو کس بنیاد اور نظریات کے ذریعے کہاں تک لےکر جانا ہے اس کا فیصلہ نصاب کرتا ہے۔ پاکستان میں یکساں نصاب تعلیم کا پہلا پرچم دار شہید آغا ضیاالدین رضوی کو بغیر کسی مبالغے کے ہم یکساں قومی نصاب کا اولین پرچم دار کہہ سکتے ہیں۔آپ کا ہم و غم آنے والی نسلوں کی تربیت پر تھا۔ شہید آغا نے موجودہ تعلیمی نصاب سے شیعہ عقائد کے منافی مطالب کو الگ درج کرکے حکومت کے سامنے سراپا احتجاج بن گئے۔ آپ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے متنازعہ و یک طرفہ مطالب کو درسی کتابوں سے حذف کریں۔ آخر کار اس مرد حُر کو، یکساں قومی نصاب کا خواب دیکھنے پر، ایک متحد ملت پاکستان کی آرزو کرنے پر، آنے والی نسلوں کی بہتر تربیت کا بھیڑا اٹھانے پر ، کم فہم لوگوں کو فہم دینے پر ، بےشعور لوگوں میں شعور بانٹنے پر ، خواب غفلت میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے پر، سینکڑوں نصابوں میں الجھے ہوئے لوگوں کو ایک ہی نصاب کے لئے سلجھانے پر،وطن عزیز کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے پر ملک و دین دشمن عناصر اور ابن ملجم کی اولادوں نے نو جنوری دوہزار پانچ کو نماز ظہر کے لئے مسجد جاتے ہوئے قاتلانہ حملہ کر کے شدید زخمی کردیا یوں تیرہ جنوری کو ہم ایک باشعور بابصیرت اور بےباک لیڈر سے محروم ہوگئے۔ آج پاکستان کے گوشہ و کنار میں سب کی زبان پر یہی نعرہ ہے۔ شہید کی بصیرت تو دیکھئے کہ آج عوام سے خواص اور خواص سے حکومتی ایوانوں تک یہی نعرہ گونج رہا ہے۔ اب حکومت پاکستان کی طرف سے معاشرتی ناہمواریوں اور مسلکی لڑائیوں اور طبقاتی تقسیمات کے خاتمے کے لئے یکساں قومی نصاب کے لئے عملی جدوجہد ایک مستحسن عمل قرار پایا ہے۔ ہمیں افسوس ہے کہ یہ مستحسن عمل بھی ہمارے ملک میں افتراق و اختلاف کا باعث بنتا جارہا ہے۔ یکساں قومی نصاب پر اختلافات کیوں؟ جب سب لوگ تسلیم کر چکے کہ یکساں نصاب تعلیم ہماری ضرورت ہے تو پھر اس میں اختلافات کیوں ہیں۔یہاں بھی لگتا ہے کہ ملک دشمن عناصر ملک سے مخلص لوگوں پر سبقت لے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بنیادی مسائل کو بلکل نظر انداز کیا گیا۔سب سے پہلے اسلامی نقطہ نظر سے تمام نصابی کتب کو تحریر کرنے کی بجائے لارڈ میکالے کی پیروی کرتے ہوئے دین کو فقط ایک سبجیکٹ تک محدود کرنا ہی غلط ہے ۔ دین اور شریعت ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے تو اس کا رنگ تمام سبجیکٹ میں عیاں ہونا چاہے تھا۔ متنازعہ نصاب کا نتیجہ حکومت نے دیگر سیبجیکٹس سے مذہبی تنظیموں اور شخصیات کی توجہات کو سمیٹ کر فقط اسلامیات پر لگادیا۔اسلامیات میں بھی جدید درود پاک کے ذریعے جزئیات میں الجھادیا۔اپنی پسندیدہ شخصیات کا ذکر شامل کرنے کے سبب سب سے پہلے ایک کالعدم تنظیم نے اس کی حمایت کی اور ریلیاں نکالیں ۔اس نصاب کے متنازعہ ہونے کے لئے کالعدم تنظیم کی یہی ریلی کافی تھی۔ اس صورت حال کے بعد کچھ شیعہ تنظیموں نے اس نصاب کے خلاف پریس کانفرنس اور بیانات دئے جس میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، مجلس وحدت مسلمین اور اسلامی تحریک پاکستان پیش پیش تھیں۔ شیعہ تنظیموں کی کوتاہی یکساں قومی نصاب کے خلاف شیعہ تنظیموں نے آواز تو اٹھائی لیکن پانی سر سے گزرنے کے بعد آواز اٹھائی گئی۔اگر ہم شہید آغاضیاالدین کے مشن پر چل رہے ہوتے تو اس موقع پر ہماری طرف سے سستی و کاہلی نہ ہوتی۔ اگر ہم شہید کی فکر و تحریک کو زندہ رکھتے تو اس موقع پر ہمارے پاس واضح روڈ میپ ہوتا۔ بدلا نہ تیرے بعد بھی موضوع گفتگو
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو

محمد بشیر دولتی
نصاب میں انصاف اور عدالت کی باتیں ہوں تو آنے والی نسل منصف مزاج ہوگی۔ نصاب میں عادل حکمرانوں اور شخصیات کے حالات زندگی ہوں تو اسے پڑھ کر بچے کے اندر ایک عادلانہ سوچ کا حامل انسان پروان چڑھتا ہے۔ نصاب میں سخاوت ، شجاعت اور کرامات والی شخصیات کی حالات زندگی شامل ہوں تو بچے میں ایک مضبوط اور رحم دل شخصیت کی تعمیر ہوگی۔ اگر نصاب میں ظالم جابر جھوٹے اور مکار لوگوں کی زندگی کو شامل کریں گے تو بچے کے اندر منفی صفات کی حامل ایک شخصیت بنے گی۔
اسی طرح اگر نصاب میں دین دار و ایمان دار افراد کا ذکر ہو تو بچہ بھی دین دار و ایمان دار ہی بنے گا۔
نصاب میں تاریخ کی غیر متنازعہ شخصیات کو شامل کریں گے تو نئی نسل میں اتحاد پروان چڑھے گا اگر متنازعہ افراد کا ذکر ہوگا تو نئی نسل اور معاشرے میں اختلافات و عدم برداشت فروغ پائےگا۔
نصاب میں اگر مسلکی شخصیات کا ذکر کریں گے تو بچے مسلک پرست ہونگے جس کے نتیجے میں دوسرے مسالک کے ساتھ دل میں بغض و عداوت کو جگہ دے کر یونہی منفی صفات کے ساتھ وہ معاشرے میں پروان چڑھیں گے ایسے بچے جوان ہوکر فرقہ واریت کو ہی ہوا دیں گے۔
دوسرا اہم ترین مطالبہ آپ نے یہ کیا کہ حکومت مستند سازی کے ساتھ تاریخ کی متفق علیہ شخصیات کو نصاب میں شامل کریں ۔ آپ کا یہ نعرہ یکساں قومی نصاب کے لئے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک قوم اور ایک نصاب تعلیم کا نعرہ شہید نے اس دور میں لگایا جب سب لوگ اس موضوع پر بلکل خاموش تھے اور اس موضوع کی طرف متوجہ بھی نہیں تھے۔ اس سوچ کے حوالے سے بلکل بھی شعور نہیں رکھتے تھے۔آپ نے اس جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔آپ نے اس ضرورت اور فکر کو عام کرنے کے لئے گلگت سے بلتستان تک اور کراچی سے اسلام آباد تک کئی دورے کئے۔
اس مطالبے کی عقلی و منطقی ضرورت کی دلیلوں کو شیعہ سنی عوام نے قبول کرلیا لیکن افسوس کہ دونوں طرف کے خواص اس نعرے کو ہضم نہ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی مقبولیت کے باوجود آپ خواص کےدرمیان تنہا ہوتے چلے گئے۔
اپنی تنہائی کے باوجود آپ اپنوں اور غیروں کو قانع کرنے کی مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ حکومت سے بھی مذاکرات کرتے رہے۔ مسلکی مطالب سے بھر پور نصاب کے نقصانات کو اجاگر کرنے کے ساتھ یکساں قومی نصاب کی ضرورت و افادیت کو واضح کرتے رہے۔ اپنوں اور غیروں میں ایک طبقہ مسلسل آپ کے جائز اور منطقی موقف کو کمزور سمجھتا رہا۔
بالآخر آپ نے تین جون دوہزار چار کو عوام کے درمیان آنے کا فیصلہ کیا یوں عوام نے آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حکومت کی غلط پالیسی کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔اس احتجاج کو روکنے کے لئے حکومت وقت نے طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید اور کئی زخمی ہوئے۔ تاہم شہید رضوی اپنے موقف پر مسلسل ڈٹے رہے ۔ حکومت وقت نے ڈرانے دھمکانے کے ساتھ دنیاوی مال و متاع اور عہدوں کے دروازے آپ پر کھول دئے مگر آپ نے حضرت علی ع کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان سب کو ٹھکرادیا البتہ خواص نے آپ کو تنہا کیا مگر عوام میں آپ کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی۔
یکساں قومی نصاب کا وژن
جی ہاں، جو بات رات کے اندھیرے میں بھی کرنے سے لوگ ڈرتے تھے آج دن کے اجالوں میں بھی کرنے لگے ہیں۔ جو بات آپ کو اپنے مسلک کے ہی کسی مدرسے میں کرنے کی اجازت نہیں تھی آج وہ ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز تک پہنچ گئی ہے۔ شہید آغاضیاالدین نے اپنی جدوجہد سے جس یکساں نصاب تعلیم کی بنیاد رکھی تھی آج اس کی ضرورت کے سب معترف ہیں۔
برصغیر کے لئے انگریزوں کے معین کردہ پاسنگ مارکس کو ختم کرنا چاہئے تاکہ ہم اپنی ذہنی استطاعت پر فخر کرتے ہوئے احساس کمتری کی کیفیت سے باہر نکل سکیں۔
یکساں قومی نصاب میں تاریخ کی متنازعہ شخصیات کو لانے کی بجائے تاریخ کی متفق علیہ شخصیات کو لاتے تاکہ ایک قوم ایک نصاب کا نعرہ عملی ہوجاتا۔ خلفا ء سے لے کر اصحاب کرام تک ،امھات المؤمنین سے لے کر تابعین تک ایسی شخصیات بھی ہیں جو سب کے لئے قابل احترام اور قابل قبول ہیں ۔ ایسی شخصیات کو نصاب میں لانے سے ایک قوم ایک نصاب کا خواب پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔
ہمارے پاس نہ صرف فقط اسلامیات کے لئے کمیٹی نہ ہوتی بلکہ پورے نصاب کے لئے پہلے سے ہی افراد کی ایک کھیپ بھی ہوتی اور نصاب سازی کے لئے ہم یوں تہی دست نہ ہوتے۔
غور کامقام یہ ہے کہ جب حکومتی نصاب کمیٹی کی طرف سے اول کلاس سے پنجم تک کے نصاب ترتیب دینے کے بعد اسی نصاب کے تحت سیلبس بھی چھپ کر آگیا تو تب ہماری تنظیموں کو ہوش آیا۔ واضح رہے کہ حکومت کی طرف سے تین ماہ تک نصاب ان کی سائیٹ پر عوامی نقد اور مشوروں کے لئے موجود رہا مگر کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس وقت اس نصاب پر تنقید کرئے اور اس کے نقائص کو اجاگر کرئے۔خیر دیر آید درست آید کے مصداق کے مطابق بعد میں اعتراضات کئے گئے اور اس سلسلے کو رکوادیا گیا۔
دوسری اہم کوتاہی ہماری طرف سے یہ ہوئی کہ اسلامیات میں متنازعہ مواد کے باوجود ہمارے نمائندگان نے اس پر دستخط کردئے۔
ایک اہم کوتاہی ہماری تنظیموں اور اکابرین سے یہ ہوئی کہ جب نصاب کمیٹی میں شامل ہمارے ایک بہت ہی لائق و قابل احترام بزرگ جناب قاضی نیاز صاحب انتقال کر گئے تو ہماری لاپروائی دیکھیں کہ تقریبا دو سال تک وہ سیٹ خالی رہی ۔اتنی اہم کمیٹی میں انتہائی حساس موڑ پر اس طرح کی کوتاہی شاید قابل معافی نہیں ہے۔
المختصر یہ کہ شہید آغاضیاالدین رضوی سوچ اور فکر کے متعلق ہم سے کافی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ان تمام کوتاہیوں کا بہترین ازالہ یہی ہے کہ ہماری تنظیمیں اور بزرگ شخصیات یکساں نصاب تعلیم کو شہید کے خوابوں کے سانچے میں ڈھالنے کی بھر پور کوشش کریں۔تمام ادارے،تنظیمیں بزرگان ملت کے نونہالوں کی تعلیم پر زیادہ سے زیادہ توجہ کے ساتھ ماہر تعلیم افراد پیدا کریں،اس کے لئے فنڈز مختص کریں،۔شاید اس طرح سے ہی ہم شہید کی روح کو شاد اور اپنی آنے والی نسلوں کو آباد کرسکیں۔![]()
تو جاچکا ہے پھر بھی میری محفلوں میں ہے
افکار و نظریات: نصاب تعلیم
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں