سانحہ پارا چنار۔۔۔ سویرا ضرور ہوگا
تنویر مطہری


ڈی ایس پی عابد اقبال صاحب ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔ اسی اثنا میں انہیں تین فائر لگے۔ فائر کرنے والے کوئی نامعلوم لوگ نہیں۔ ان کے ٹھکانے، نام و نسب، سہولتکار اور ٹریننگ کے مراکز سب کو معلوم ہیں۔ انہوں نے اس سے پہلے بھی ان گنت محب وطن پولیس اور فوج کے آفیسرز و جوانوں کا خون بہایا ہے۔قاتلوں نے اب تک بےشمار فرض شناس صحافی، ذہین و فتین اُستاد ، دانشور اور ڈاکٹر حضرات کو قتل کر کے وطن عزیز پاکستان کا ناقابلِ تلافی نقصان کیا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ ڈی ایس پی عابد اقبال صاحب زخمی حالت میں زندہ بچ گئے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں انسانیت بھی زندہ بچ گئی ہے؟
گزشتہ روز پارہ چنار میں مقتول و مظلوم اساتذہ کو دفنا دیا گیا۔ سچ پوچھیں تو ان کے ساتھ ہی انسانیت، شرافت، اخلاق اور سب کچھ دفن ہو گیا۔

قاتل پھر وہی ہیں۔ ان کے ٹھکانے، نام و نسب، سہولتکار اور ٹریننگ کے مراکز سب کو معلوم ہیں۔ ان اساتذہ کو عین اُن ایّام میں قتل کیا گیا کہ جب پارہ چنار کے قبائل میں ایک بڑا سنی شیعہ اتحاد ہونے جارہا تھا ۔ بھلا کون نہیں جانتا کہ یہ کارروائی کس کی ایما پر کی جا سکتی ہے؟

ہماری قومی و ملکی تاریخ ایسی کارروائیوں سے بھری پڑی ہے۔ انگوٹھا چھاپ مُلک دشمن عناصر کیلئے پولیس و فوج اور اساتذہ کرام کا قتلِ عام کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ صرف یہ جان لیجئے کہ تری منگل جہاں یہ واقعہ ہوا ہے وہاں کوئی زمینی یا علاقائی تنازعہ نہیں تھا۔ وقوعہ میں ملوث سرکاری عناصر جس تنازعے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ تری مینگل سے بہت دور پیواڑ کا کوئی تنازعہ ہے۔ پیواڑ کا علاقہ الگ سے اپنی ایک مستقل حیثیت اور مشخص شدہ قبائل رکھتا ہے۔ اسی طرح شہید ہونے والے اساتذہ میں سے بھی کسی کا تعلق پیواڑ سے نہیں اور یہ سب تری مینگل کے علاقے سے بھی تقریباً پچیس پچیس کلومیٹر کے دور دراز علاقوں مثلاً کڑمان، شلوزان اور دوراوی وغیرہ سے ہے۔
سرکاری اہلکاروں کی طرف سے وقوعہ کے علاقے میں لشکر جھنگوی و سپاہِ صحابہ کے سرگرم ٹولوں خصوصاً عید نظر منگل کے نیٹ ورک پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے واقعے کو پیواڑ کے ایک زمینی تنازعے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ سیکورٹی اداروں کی طرف سے ایسا کیا جانا ملتِ پاکستان کیلئے خلافِ توقع نہیں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بے گناہ عوام کے قتل کو جُرم سمجھا ہی نہیں جاتا۔ اس کی سزا ہم پہلے بھی بنگلہ دیش کی علیحدگی کی صورت میں بھگت چکے ہیں اور اب بھی مزید ملک کے ٹکڑے کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔ مانا کہ قاتل اور ظالم اتنے طاقتور ہیں کہ وہ دور تک تعاقب کر کے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، انہوں نے جیسے ارشد شریف کو کسی دوسرے ملک میں نشانہ بنایا ویسے ہی ڈی ایس پی عابد اقبال اور اساتذہ کرام کو بھی نشانہ بنایا تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، سویرا ضرور ہوتا ہے۔

طوری قبیلے کا تعارف


افکار و نظریات: سانحہ پارا چنار