سانحہ پارہ چنار۔۔۔

وائس آف نیشن کا آنلائن سیشن
تحریر :منظوم ولایتی


کل رات "سانحہ پاراچنار۔۔۔اسباب، محرکات اور ذمہ داریاں" کےعنوان سے ایک اہم تجزیاتی وتحلیلی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ جس کا اہتمام وائس آف نیشن کے پلیٹ فارم نے کیا تھا۔ پاکستانی وقت کے مطابق تقریباًدس بجے شب پروگرام کا آغاز ہوا اور گھنٹہ،سوا گھنٹہ تک جاری رہا۔اِس تجزیاتی وتحلیلی نشست کے مہمان ِ خصوصی مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری امور خارجہ حجة السلام علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی صاحب تھے اور میزبانی کے فرائض ہمارے دوست محترم منظور حسین حیدری نے انجام دئیے۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز تجزیاتی نشست کے میزبان محترم منظور حیدری نے ایک مختصر سی سورہ کی تلاوت سے کیا اور اِس کے بعد ڈاکٹر شفقت شیرازی صاحب سے ایک سوال کی شکل میں پرسوں کے تری منگل پارچنار کے افسوسناک سانحہ کے حوالے سے انہیں اظہارِ خیال کی دعوت دی۔
محترم ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی صاحب نے سب سے پہلے گزشتہ جمعرات کو وقوع پزیر ہونے والے اِس افسوسناک واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور پسماندگان اور اہلیانِ پارچنار کی خدمت میں تعزیت و تسلیت عرض کیا۔ ساتھ میں آپ نے یہ بھی کہا کہ پاراچنار کے اندر یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں ہے بلکہ اِس سے پہلے بھی اِس طرح کے قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن اِس دفعہ قوم کے بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کرام کو ٹارگٹ کیا گیا ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ سانحہ "سانحہ اے پی ایس" سے کسی صورت کمتر نہیں ہے۔
اس کے بعد محترم ڈاکٹرشفقت حسین شیرازی صاحب نے تفصیل سے پاکستان کے ندر تین چہار دہائیوں سے ہونے والی دہشت گردی اور بربریت پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ملک دشمن عناصر نے ملکی پرامن اور ہم آھنگی کی فضا کو ناامن بنانے اور سبوتاژ کرنے کیلیے جو مذموم ارادے اور منصوبے بنائے تھے ، بدقسمتی سے ہماری حکومتیں اور سکیورٹی ادرے ان کو روکنے میں ہنوز ناکام ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی پاراچنار اور کبھی کوئٹہ وغیرہ میں دہشتگرد پاکستان دشمنی اور خاص طور پر شیعہ دشمنی کا کھل کر اظہار کرتے ہیں اور محب وطن پاکستانیوں کو خاک و خون میں غلطاں کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ کل رات منعقد ہونے والی تجزیہ وتحلیلی نشست میں وائس آف نیشن کے مسئول محترم نذر حافی نے بھی اپنے خیال کا اظہار کیا اور سانحہ تری منگل پارچنار کی مذمت کی اور اِسے نہایت ہی افسوسناک قرار دیا۔مزید ایں کہ اِس نشست میں آزاد کشمیر،بلوچستان،گلگت بلتستان،پنجاب،پاراچنار اور سری نگر کے لوگ بھی آنلائن شریکِ ہوئے اور انہوں نے جہاں اس واقعے پر اظہارِ افسوس کیا وہیں پاکستان کی داخلی وحدت اور استحکام کیلئے قصاص کو ضروری قرار دیا۔مختلف گوش و کنار سے مہمانوں کی شرکت نے سیشن کی دلکشی اور جاذبیت میں خاطرخواہ اضافہ کیا۔ اراکین سیشن نے پارہ چنار کے مظلوم و مقتول اساتذہ کے خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ ہم سب ظلومین کے ساتھ ہیں۔
ذیل میں نامور شاعر افتخار عارف کی ایک رباعی احباب کی نذر ہے:

ذکر مظلوم کو انعام میں رکھا گیا ہے
ظلم کو زمرہ دُشنام میں رکھا گیا ہے
از ازل تا بہ ابد سارے یزیدوں کا حساب
ایک ہی دفترِبدنام میں رکھا گیا ہے

پی ڈی ایف


افکار و نظریات: سانحہ پارہ چنار