کل کا فلسطین کیسا ہوگا؟

تحریر رائے یوسف رضا دھنیالہ

اسرائیل طاقت کے زُعم میں اور اپنے سرپرست امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی آشیرباد سے اگلے چند دنوں میں پورے غزہ پر پھر سے مکمل قبضہ کرنے کے لئے فلسطینیوں پر جارحیت کر کے غزہ کی آزاد پٹی کو دوبارہ اپنے اندر سمونے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور بیرونی دنیا اور اسلامی ممالک سے فوری مدد نہ مل پانے کی وجہ سے فلسطینی اسرائیلی جارحیت کا زیادہ دیر تک مقابلہ نہیں کر پائیں گے اور صیہونی ریاست اپنے مذموم مقاصد میں بظاہر کامیاب ہو جائے گی، لیکن اس کے بعد پھر فلسطینی پورے اسرائیل کے اندر پھیل کر گوریلا اور خود کُش حملوں اور آزادی کی تحریک کا زیادہ زور وشور سے آغاز کر دیں گے جس سے اسرائیل کا جانی و مالی نقصان ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے گا، اور اسرائیل کی اکانومی بڑی تیزی کے ساتھ متاثر ہوگی، بڑے بڑے سرمایہ دار یہودی ترکِ وطن کر جائیں گے، عدمِ تحفظ یہودیوں میں سرایت کر جائے گا، اور یہودی خاندان جنگ زدہ اسرائیل سے اپنے بچوں کو دور لے جانے کے لئے اسرائیل سے بھاگنا شروع کر دیں گے، اسرائیلیوں میں جنگ، حملوں کا خوف اور ہر وقت سیکیورٹی الرٹ رکھنے سے نفسیاتی طور پہ ذہنی تناؤ بڑھے گا جس سے ان کی ذہنی صحت بگڑ جانے سے کسی کام میں یکسوئی باقی نہیں رہ پائے گی اور چند لاکھ یہودی جی ڈی پی کے موجودہ گراف سے کم تر درجے پہ آکر معاشی بحران کا شکار ہو جائیں گے، اسرائیل میں سیاحت کم ہو جائے گی، اور دھیرے دھیرے اسرائیل سوویت یونین کے انجام سے دوچار ہو جائے گا۔
لہذا غزہ پر دوبارہ قبضہ اسرائیلیوں کی نفسیاتی تسکین کا وقتی سبب تو بنے گا لیکن غزہ یہودیوں کے حلق میں ایسا اٹک جائے گا کہ جسے وہ نگل سکیں گے اور نہ اُگل سکیں گے، اور پھر صیہونی ریاست عربوں کی مزاحمت سے شدید عاجز آکر دو ریاستی حل کو قبول کرنے پہ آمادہ ہو جائے گی جس کے نتیجے میں ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا ظہور ہوگا۔

یہ میری پیشینگوئی نہیں بلکہ عمرانی اور سیاسی تجزیہ ہے۔لہذا اسرائیل کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ غزہ پر قبضہ کرنے سے باز رہے اور فوری طور پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے لئے مذاکرات کرے اور یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کرکے اپنی نسلوں کو ذہنی کرب اور جانی و مالی نقصان سے نجات دلائے۔

مورخہ 8 اکتوبر، 2023

ہماری نیوز پالیسی