میں کون ہوں!؟
تحریر. ابو ولی اللہ خان بہاولپور

مجھے اپنی تلاش ہے۔ غزہ میں ہونے والی بمباری میں مجھے خود کو ڈھونڈنا ہے۔مجھے ایک سوال کئی دنوں سے بے چین کئے ہوئے ہے۔اس سوال کا جواب اتنا مشکل بھی نہیں لیکن جواب سے بھی مجھےنفرت ہے، میں بھی آپ جیسا ایک فرد ہوں ایسا فرد جو پاکستان میں رہتا ہے اور خود کو نبی کریم ص کا امتی سمجھتا ہے۔
فلسطین سے مجھ جیسے فرد کا کیا تعلق ہے کوئی حتمی فیصلہ ہی نہیں ہوسکا۔ موجودہ حالات جب حماس جیسی غیرت مند تنظیم نے غیور رہنماؤں کی زیرپرستی ایک انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار گروہ پر حملہ کیا تو دنیا کے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ممالک فرط حیرت میں ڈوب گئے۔ اس حملے نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ، اس حملے کے بعد اسرائیلی صہیونیوں کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، دشمن تو انگشت بدنداں ہے ہی سہی، او آئی سی یا جیہڑی وی آئی سی کو بھی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے کہ حماس نے ایسے کیسے کردیا ؟
او آئی سی میں شامل نام نہاد مسلم امہ کے لیڈرز ایسا پانی تلاش کرنے پہ مجبور ہوگۓ کہ وہ اس پانی میں شرمندگی سے ڈوب مریں، لیکن یہ بھی میری خام خیالی ہے کیونکہ شرم کیلئے بھی غیرت چاہیے۔ حماس نے جب حملہ کیا تو ایسے ہی بیٹھے بٹھائے جذبات میں آکر ٹھا ٹھا ٹھا شروع نہیں کردی بلکہ اس حملے کے پیچھے ایک بہت بڑی محنت ہے، اس کے پیچھے غیرت مند لیڈرز ، کمانڈوز اور گمنام حسینی کردار ہیں، اس حملے کو 9/11 سے ملانے والے نابینا پن کا شکار نہ ہوں بلکہ دیکھیں کہ دنیا کی تاریخ میں ایسے حملے کی مثال نہیں ملتی ۔

ایسے Tactics کبھی تاریخ میں استعمال نہیں ہوۓ ،اور ایسے تربیت یافتہ مجاہدین جو بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو قتل نہیں کرتے، عصمت ریزی نہیں کرتے، ایسے عالی نسل و عالی مرتبت مجاہدین، اسلام کے احیاء کے تقدس کو پامال نہیں ہونے دیتے اور دشمن کو شکست فاش سے دوچار کر دیتے ہیں یہ حماس کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔
ایسے اسرائیل کو جسے عرب ممالک سمیت کئی عقل کے اندھے زمینی خدا کا درجہ دیتے ہیں، اور اس کے خوف سے لرزتے ہیں، فلسطینی حماسی شیر بہادروں نے اسے نیست و نابود کر کے رکھ دیا، جس کی جدید ٹیکنالوجی کے چرچے دنیا کے چپے چپے پر ہورہے تھے جس کے خوف سے سعودی عرب و عرب امارات اور ترکی جیسے مسلمان ممالک کانپ رہے تھے اور اس کے قدموں میں ڈھیر ہو کر معاہدے کررہے تھے، اس صہیونی غلیظ ترین ریاست کی شہہ رگ پہ حماس نے خنجر کا وار کردیا، یقیناً یہ کوئی کھیل نہیں ہے یقیناً یہ کوئ فلمی منظر نہیں ہے بلکہ یہ اٹل حقیقت ہے کہ حماس نے اسرائیل پہ ایسا حملہ کیا ہے جس کے ردعمل میں نہ صرف امریکہ، برطانیہ ، فرانس ،جاپان اور بھارت کی چیخیں نکلی بلکہ سعودی عرب اور دبئی کی بھی دھاڑیں نکل گئیں۔
یہ ایک جیتا جاگتا، بے تاب سا اور سسکتا سوال ہے کہ اس جنگ میں میری صف کون سی ہے اور میں کون ہوں ؟ اس سارے معاملے میں او آئی سی والے کون ہیں ؟ مسلم امہ کا اتحاد کیا ہے ؟ کس لئے ہے، کیوں مسلم امہ کے ممالک متحد ہوۓ جسے او آئی سی کا نام دیا، آج آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز کون ہے؟ کس کے ساتھ ہے؟ اس کے کیا مقاصد ہیں ؟
میں سوچتا ہوں کہ جب جناب امام حسین علیہ السلام نواسہ رسول حضرت محمد مصطفی کریم ص کرب و بلا کی تپتی ریت میں اپنے معصومین علیہم السلام اور خاص کر چھوٹے بچوں کے ساتھ یزیدی لشکر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے تھے تو تب کیا منظر ہوا ہوگا ؟
کوفیوں نے کیسے کیسے خط لکھے ہوں گے! کس سردار نے، کس امیر نے، کس غریب نے خط میں کیا لکھا ہوگا !؟ یہی ناں کہ آپ ؑ تشریف لائیں اور ہمیں اسلام سے روشناس کرائیں، آپ آجائیں اور ہماری رہبری کریں، آپ آ کر ہمارے امام بن جائیں، آپ رسول اللہ ص کے نواسے ہیں آپ کا مقام یہ ہے کہ ہم آپ کی ہر بات مان لیں اور ہمارا فرض ہے کہ آپ پہ اپنی جانیں قربان کردیں ، کسی کوفی نے لکھا ہوگا ۔۔۔۔

I love you Imam e Hussain

کسی نے لکھا ہوگا ہمارے پاس اتنے افراد و وسائل ہیں وہ سب آپ پہ قربان، اور بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی آپ وہاں سے اس سفر پہ روانہ ہوتے ہیں تو آپ یہاں پر بھی آپ کے چاہنے والے کچھ بزرگ نصیحتیں کرتے ہیں کہ آپ ؑ نہ جائیں اور کچھ مبارک ہستیاں چند قدم چلنے کے بعد آپ ؑ کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں اور آپ ؑ کربلا میں مستورات اور بچوں سمیت بھوکے پیاسے شہید کردئیے جاتے ہیں اور پھر تاریخ لکھی جاتی ہے کہ ہر فرد اپنے گریبان میں جھانکنا شروع کرتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں کون ہوں ؟
آج جب حماس نے ظلم و بربریت سہہ سہہ کر صبر کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا تو طاغوتی نظام فلسطینیوں کے شیر خوار بچوں کی مظلومیت کے سامنے ڈھیرہوگیا۔ ابھی تک اسرائیل ، امریکہ و برطانیہ اور شیطانی نظام سکتے میں ہے کہ آخر کیا کیا جائے؟
اسرائیل نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ حماس جیسی چھوٹی سی تنظیم اس کے جدید شیطانی سسٹم کو ناکام کرکے اسےگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی، آج تمام ایسے ممالک جن کے دل فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہیں لیکن آواز بلند کرنا اور تلوار اٹھانے کی سکت نہیں، اور جو نصیحتیں کررہے ہیں اور جو مصلحتیں تلاش کررہے ہیں انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ خود سے یہ سوال پوچھیں اور بار بار دن میں کئی مرتبہ پوچھیں کہ میں کس صف میں کھڑا ہوں اور " میں کون ہوں ؟ "
آپ کو یہ جان کر خوشی ہونی چاہئے کہ امریکہ، برطانیہ و صہیونی اور طاغوتی طاقتوں نے جو منصوبہ بندی کی تھی جس طرح انہوں نے دنیا کا نقشہ ترتیب دیا تھا ،حماس نے ان سب کے نقشوں پر پانی پھیردیا ہے، آج آپ کے اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد پہ سوالیہ نشان ہے ؟ آج آپ کے اتحاد کو ہیجڑوں کا اتحاد کہا جارہا ہے، اس سے پہلے کہ تاریخ میں آپ ہیجڑے مشہور ہوجائیں تجویز ہے کہ حسینی کردار ادا کرتے ہوۓ ایران، لبنان، قطر اور فلسطینی حمایتی ممالک کی طرح غیرت مندانہ اقدام کریں اور دنیا کو بتا دیں کہ مسلمان کیا کرسکتے ہیں۔ اب میں آپ کو آئینہ دکھاتا ہوں تاکہ کہ آپ خود آئینے میں دیکھ لیں کہ آپ کون ہیں؟۔
اگر منظر کشی یوں کی جاۓ کہ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اپنے اہل بیت و اطہار اور اصحاب کے ساتھ حالتِ قیام میں ہیں اور پیاسے شہید کیے جانے والے ہیں اور آپ کو امام حسین علیہ السلام آواز بلند کرکے کہتے ہیں کہ " اے امت محمدی ص نواسہ رسول اللہ ص کی مدد کرو " تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟
آج جب نہتے معصوم فلسطینیوں کا بچوں سمیت قتل عام ہورہا ہے تو جناب امام حسین علیہ السلام آپ کو مدد کےلیے بلا رہے ہیں آپ کیا ردعمل دیں گے اس سے پہلے ایک سوال خود سے پوچھیں کہ میں کون ہوں ؟ ہر ملک، ہر مسلمان حکمران یا عام فرد خود سے یہ سوال پوچھے کہ میں کون ہوں ؟
اگر آپ شہید کربلا امام حسین علیہ السلام کی آواز پر لبیک نہیں کہہ رہے اور بحث کیے جارہے ہیں تو پھر تو خود سے ضرور پوچھیں " کہ میں کون ہوں ؟ "۔

لکھاری کی دیگر تحریریں

سب سے زیادہ پڑھا جانے والامضمون


افکار و نظریات: میں کون ہوں