انتخابات میں تاخیر ۔۔۔؟
ایم اے راجپوت


پاکستان میں انتخابات سے پہلے 3 ماہ کیلئے نگران حکومت بنائی جاتی ہے۔ نگران حکومت کا کام منصفانہ و غیر جانبدارانہ انتخابات کرا کر حکومت قوم کے منتخب نمائندوں کے سپرد کرنا ہوتا ہے ۔لیکن آپ دیکھ لیں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران حکومتوں کو کئی تین ماہ گزر چکے ۔دسواں مہینہ جا رہا اور شاید پورا سال بھی گزر جائے اور انتخابات نہ ہوں۔انھیں صدر مملکت کہ چکے،عدلیہ حکم دے چکی اور صدر صاحب الیکشن کمشنر کو صدر ہاؤس بلا چکے لیکن وہ نہیں آئے ۔
جب یہ صورت حال ہے تو عوام پوچھنے کا حق تو رکھتی ہے کہ اب آپ نگران حکمران ہماری جان کیوں نہیں چھوڑ رہے ؟انتخابات کیوں نہیں کرا رہے ؟حکومت ہمارے منتخب نمائندوں کے سپرد کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں؟ کیا اب آپ محب وطن نہیں؟کیا آپ قوم کی امانت واپس کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر کے ملک کی ترقی میں رکاوٹ نہیں؟آپ اپنی ذمہ داری اور وظیفہ کیوں ادا نہیں کر رہے۔؟خصوصا پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے نگران حکمرانوں کو تو جواب دینا چاہئے۔تین ماہ کیلئے آنے والوں کو سال ہونے والا ہے اور ابھی تک الیکشن کی تاریخ بھی نہیں دے سکے۔ اگر حکومت کا شوق ہے تو الیکشن لڑ کر اسمبلی میں پہنچیں ۔
مرکز اور باقی صوبوں میں انتخابات کا حال بھی ایسا ہی ہے 9 اگست سے قومی اسمبلی جو پہلے ہی لولی لنگڑی(چونکہ ptiکے ارکان پہلے ہی مستعفی ہو چکے تھے)تھی توڑی جا چکی۔اور اس کے بعد باقی صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل ہو چکیں ۔ اور نگران حکومتیں بن چکیں ۔اب ان کے بھی3 مہینے مکمل ہونے والے ہیں لیکن ابھی تک انتخابات کی تاریخ بھی نہیں دی جا رہی۔ اور فی الحال تو کوئی امید بھی نہیں۔چونکہ 10 نومبر تک ان کے بھی 3 ماہ پورے ہو جائیں گے ۔
پی ڈی ایم کو تو pti سے شکست کا ڈر تھا اس لئے انھوں نے اپنی حکومت کے دوران نہ ہی مرکز میں انتخابات کرائے اور نہ ہی پنجاب د خیبر پختونخواہ ۔لیکن سوال یہ ہے کہ نگران حکمرانوں کو کیا مسئلہ ہے ؟! تاخیر کس وجہ سے؟
آج کل تاخیری حربے کی دلیل کے طور پر مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں جیسے عذر پیش کئے جارہے ہیں ۔لیکن عوام سمجھ دار ہے ۔عوام کو پتہ ہے کہ مردم شماری تو انتخابات سے پہلے بھی کرائی جاسکتی تھی۔pti و pdm حکومتوں کے 5 سالہ عرصہ میں بڑے آرام سے مردم شماری اور اس کے مطابق جدید حلقہ بندیاں کی جاسکتی تھیں۔الیکشن کمیشن کا یہی تو کام ہے۔الیکشن کمیشن کو چاہئے تھا نگران حکومتیں بننے سے پہلے انتخابات سے متعلق سو فی صد آمادہ رہتا۔الیکشن کمیشن کا یہی تو کام ہے۔ الیکشن کمیشن کو 2018والے الیکشن کے بعد 2023 والے الیکشنوں کی تیاری کر لینی چاہئے تھی۔الیکشن کمیشن نے گزشتہ پانچ سال میں یہ کام کیوں نہیں کئے جو اب کئے جا رہے اور الیکشن لیٹ ہو رہے ۔آئین پامال ہو رہا۔
خدا نخواستہ اگر بے چاری عوام آئین کے خلاف کوئی بات یا کام کر بیٹھے تو مجرم لیکن حکمران کریں تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکمرانوں کی ان زیادتیوں کا علاج تو یہ ہے کہ جب حکمران الیکشن کا اعلان کریں تو پھر عوام کہہ دے اب ہمیں الیکشن نہیں چاہئیں۔اب ہم الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے ۔تاکہ حکمرانوں کو بھی کچھ ہوش آئے ۔لیکن ہمارے حکمرانوں کے برخلاف، عوام بڑے مخلص ،محب وطن،شریف اور وطن کے خیر خواہ ہیں۔انھیں معلوم ہے جس طرح بروقت الیکشن نہ کرانا ملک کے نقصان میں ہے اسی طرح الیکشن میں شریک نہ ہونا بھی وطن عزیز کے نقصان میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ عوام ایک طرف حکمرانوں کی ان زیادتیوں کی مذمت بھی کر رہے اور اپنے طور پر اپنے آپ کو الیکشنز کیلئے آمادہ بھی کر رہے ہیں۔

مقبول ترین

غزہ۔۔۔ خون دیوانہ ہے


افکار و نظریات: انتخابات میں تاخیر ۔۔۔