غزہ اور چندہ مافیا
ڈاکٹر منیر بخاری

کسی کا کیا مشہور قول تھا کہ جب بھی کہیں جنگ ہوتی ہے یا حملہ ہوتا ہے تو امریکی بیڑے اور پاکستانی چندے کے بکس حرکت میں آ جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر سے کسی بھی بنکنگ چینل سے غزہ پیسے نہیں بھجوائے جا سکتے۔ تو پھر رہ جاتا ہے کہ پیسوں کی جگہ خوراک۔ دوائیوں اور دیگر امدادی سامان کے ذریعہ مدد کی جائے۔ تو ایسا بھی عملاً ممکن نہیں ہے اس لیے کہ اسرائیل اس کی اجازت نہیں دے رہا۔ اور جن اداروں کو مشروط اجازت مل رہی ہے وہ ایسے کسی سے سامان اور خوراک کی چیزیں نہیں لے سکتے۔ ان کے اپنے پروٹوکول ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے یہ سب اپنے اپنے پیٹ کا چکر ہے۔ یہ چکر صرف فلسطین کے مسئلہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوفٹ بزنس بن چکا ہے۔ جس میں جدید دور میں بہت سی نئی اختراعات ہوئی ہیں۔

فلسطین میں لاشیں دیکھ کر ہمارے ہاں کے ٹھگوں کو ایک موقع ہاتھ آ گیا ہے، ہر سوشل میڈیا کے گروپ ،گلی، بازار، مسجد اور میلے میں یہ ٹھگ، آپ کو چادر پھیلائے اور چارپائی رکھے یا ہاتھ میں ایک ٹوکری اٹھائے فلسطینیوں کے کفن دفن کے لیے چندہ مانگتے نظر آئیں گے۔ آج کل انہوں نے ہزار دو ہزار روپے میں پینا فلیکس اور پوسٹر بنا کر رقم انیٹھنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ پاکستان کے وہ مسلمان جو دفتروں میں رشوت لیتے ہیں، دکانوں میں ملاوٹ شدہ اشیاء بیچتے ہیں، وہ ڈاکٹر جو کلینکوں میں مریضوں کو لوٹتے ہیں، جو بجلی کی چوری کرتے ہیں، جو بہنوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔ وہ ان کو دھڑا دھڑ چندے دیتے ہیں کہ یہ پیشہ ور بھکاریاور فراڈیے ان کا چندہ فلسطین کے مظلوم لوگوں تک پہنچا دیں گے۔ اس کام میں دائیں بازو بائیں بازو اور جن کے بازو نہیں ہیں سب شریک ہیں۔
شہر کے سارے بے روزگار اور سوشل ایکٹویسٹ فلسطینیوں کے غم میں نڈھال ہیں۔ یقیناً پاکستان بھر سے اربوں روپے جمع ہوئے ہوں گے اور ہو رہے ہیں۔ لیکن حکومت نام کی کوئی شے اس ملک میں نہیں ہے۔ جو یہ پوچھے کہ اس چندے کا حساب کتاب کیسے ہو گا۔ اس کو فلسطینیوں تک پہنچائیں گے کیسے؟۔ یہ جو لوگ گلی محلوں اور بازاروں اور دفتروں میں چندہ مانگ رہے ہیں۔

ان کے پاس ایسا کون سا طریقہ کار ہے جس کے تحت یہ لوگ امداد یا پیسے فلسطینیوں تک پہنچائیں گے؟

کیا ان چندہ خور ٹھگوں کی کوئی ٹولی یہ بتا سکتی ہے کہ اس سلسلے میں بنکنگ چینل سے اب تک کتنے پیسے فلسطین بھیجے گئے ہیں؟

آپ جھوٹ اور فراڈ پکڑنے کیلئےپاکستان میں سٹیٹ بنک سے رجوع کریں وہ ایک منٹ میں بتا دے گا۔
چندہ خور ٹھگ اپنے اپنے ادارے رجسٹرڈ کرالیتے ہیں۔ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز بناتے ہیں، یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس مقصد کے حصول کے لیے اب کرائے پر بھی لوگ پکڑ لیتے ہیں۔ جو یہ کام اپنا کمیشن لے کر زیادہ پروفیشنل طریقے سے کرتے ہیں۔ اس کاروبار سے وابستہ سارے لوگ خوشحال ہیں،ان کے بچے سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں، بڑی بڑی مساجد اور مدرسے بنوا کر خود ہی ان کے متولی بن جاتے ہیں اور پھر ان کے بعد ان کے بچے ان بلڈنگوں کے متولی بن کر نسل در نسل کماتے رہتے ہیں.

کسی نے بڑے بڑے ہوٹل اور پلازے بنا لیے ہیں، کسی نے بیرون ملک جائیداد بنا لی ہے، کچھ کے تو دوسرے ممالک میں بھی ہوٹلز اور پلازے ہیں، استفسار پر یہ کہاجاتا ہے کہ یہ تو ہمارے مدرسے یا مسجد کے ہوٹلز یا پلازے ہیں جبکہ سارا پیسہ نسل درنسل ایک ہی تجوری میں جاتا ہے، کچھ کے تو رشتہ دار بھی ارب پتی ہو گئے ہیں۔
کچھ مذہبی اور لسانی جماعتوں کے ارکان کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی روزگار ہی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ڈونیشن دینے والوں اور حکومت کے پاس اس مسئلہ کو حل کرنے یا ریگولیٹ کرنے کا کوئی منصوبہ یا قانون نہیں ہے۔

اس عمل نے پاکستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا ہے۔ انہی چندوں سے ہمارے ہاں شدت پسند بنے، اور اب بھی بن رہے ہیں۔ ہر مسجد مدرسے اور معروف مقام پر ایسے لوگ چندہ کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں گداگری ، مفت خوری اور فراڈ کے کلچر نیز شدت پسندی کو عام کیا۔
اسی چندے نے ہمیں ایف ای ٹی ایف کے نرغے میں رکھا۔ مگر اس ملک میں اس کی آج بھی کھلی اجازت ہے۔ جس کے جی میں آتا ہے ایک سووزوکی پر لاؤڈ سپیکر لگا کر اپنی دکان لگا لیتا ہے۔ مگر مجال ہے قانون نافذ کرنے والے ان کو کچھ بھی کہیں۔ اس ملک سے افغان مہاجرین کا انخلاء اس لیے بھی ضروری ہے کہ نظام کو خراب کرنے میں ان کا بھی کلیدی کردار ہے۔خدا کے بجائے وہاں امریکی مفاد پر مبنی جہاد کے لیے بھی یہاں ڈٹ کر چندے اکٹھے کئے گئے لوگ اس وقت بھی چندہ دینے کو ثواب ہی سمجھتے رہے۔
اب یہ چندے بڑے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی ہونے لگے ہیں۔ ہر مسجد و مدرسے کے صحن میں اور گیٹ پر یہ بہروپیے اور ٹھگ غریب لوگوں کو ٹھگنے کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور ان غریب دیہاتیوں کے مذہبی جذبات کو کیش کرتے ہیں۔ یہ کام افغان روس جنگ کے بعد یہاں شروع ہوا اور اس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ یہ اب ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
چندہ دینے والوں اور ڈونرز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بیوقوف نہ بنیں۔ اب چونکہ دنیا بدل رہی ہے۔ پرانے تقاضوں کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی عوام تک پہنچ رہی ہے۔ لوگوں کو لوٹنے کے نت نئے طریقے بھی عام ہو رہے ہیں۔ ٹھگوں کو نہ روکنے سے یہ ٹھگ بازی و مفت خوری معاشرتی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کو ٹھگنا ایک معمول بن چکا ہے۔ کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسے لوگوں کو چندے مت دیں جن کا کاروبار اور پیشہ ہی چندے مانگنا ہے۔

[ادارے نے حسبِ ضرورت متن میں ترمیم کی ہے]

کاپی پیسٹ کے بجائے ہمیں جوائن کیجئے

پسندیدہ ترین

جہاں امریکہ کا اشارہ