اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات غزہ اور چندہ مافیا کسی کا کیا مشہور قول تھا کہ جب بھی کہیں جنگ ہوتی ہے یا حملہ ہوتا ہے تو امریکی بیڑے اور پاکستانی چندے کے بکس حرکت میں آ جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر سے کسی بھی بنکنگ چینل سے غزہ پیسے نہیں بھجوائے جا سکتے۔ تو پھر رہ جاتا ہے کہ پیسوں کی جگہ خوراک۔ دوائیوں اور دیگر امدادی سامان کے ذریعہ مدد کی جائے۔ تو ایسا بھی عملاً ممکن نہیں ہے اس لیے کہ اسرائیل اس کی اجازت نہیں دے رہا۔ اور جن اداروں کو مشروط اجازت مل رہی ہے وہ ایسے کسی سے سامان اور خوراک کی چیزیں نہیں لے سکتے۔ ان کے اپنے پروٹوکول ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے یہ سب اپنے اپنے پیٹ کا چکر ہے۔ یہ چکر صرف فلسطین کے مسئلہ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوفٹ بزنس بن چکا ہے۔ جس میں جدید دور میں بہت سی نئی اختراعات ہوئی ہیں۔ فلسطین میں لاشیں دیکھ کر ہمارے ہاں کے ٹھگوں کو ایک موقع ہاتھ آ گیا ہے، ہر سوشل میڈیا کے گروپ ،گلی، بازار، مسجد اور میلے میں یہ ٹھگ، آپ کو چادر پھیلائے اور چارپائی رکھے یا ہاتھ میں ایک ٹوکری اٹھائے فلسطینیوں کے کفن دفن کے لیے چندہ مانگتے نظر آئیں گے۔ آج کل انہوں نے ہزار دو ہزار روپے میں پینا فلیکس اور پوسٹر بنا کر رقم انیٹھنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ پاکستان کے وہ مسلمان جو دفتروں میں رشوت لیتے ہیں، دکانوں میں ملاوٹ شدہ اشیاء بیچتے ہیں، وہ ڈاکٹر جو کلینکوں میں مریضوں کو لوٹتے ہیں، جو بجلی کی چوری کرتے ہیں، جو بہنوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔ وہ ان کو دھڑا دھڑ چندے دیتے ہیں کہ یہ پیشہ ور بھکاریاور فراڈیے ان کا چندہ فلسطین کے مظلوم لوگوں تک پہنچا دیں گے۔ اس کام میں دائیں بازو بائیں بازو اور جن کے بازو نہیں ہیں سب شریک ہیں۔ ان کے پاس ایسا کون سا طریقہ کار ہے جس کے تحت یہ لوگ امداد یا پیسے فلسطینیوں تک پہنچائیں گے؟ کیا ان چندہ خور ٹھگوں کی کوئی ٹولی یہ بتا سکتی ہے کہ اس سلسلے میں بنکنگ چینل سے اب تک کتنے پیسے فلسطین بھیجے گئے ہیں؟ آپ جھوٹ اور فراڈ پکڑنے کیلئےپاکستان میں سٹیٹ بنک سے رجوع کریں وہ ایک منٹ میں بتا دے گا۔ کسی نے بڑے بڑے ہوٹل اور پلازے بنا لیے ہیں، کسی نے بیرون ملک جائیداد بنا لی ہے، کچھ کے تو دوسرے ممالک میں بھی ہوٹلز اور پلازے ہیں، استفسار پر یہ کہاجاتا ہے کہ یہ تو ہمارے مدرسے یا مسجد کے ہوٹلز یا پلازے ہیں جبکہ سارا پیسہ نسل درنسل ایک ہی تجوری میں جاتا ہے، کچھ کے تو رشتہ دار بھی ارب پتی ہو گئے ہیں۔ اس عمل نے پاکستان کو تباہی کے دھانے پر پہنچایا ہے۔ انہی چندوں سے ہمارے ہاں شدت پسند بنے، اور اب بھی بن رہے ہیں۔ ہر مسجد مدرسے اور معروف مقام پر ایسے لوگ چندہ کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں گداگری ، مفت خوری اور فراڈ کے کلچر نیز شدت پسندی کو عام کیا۔ [ادارے نے حسبِ ضرورت متن میں ترمیم کی ہے] کاپی پیسٹ کے بجائے ہمیں جوائن کیجئے پسندیدہ ترین
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

ڈاکٹر منیر بخاری
شہر کے سارے بے روزگار اور سوشل ایکٹویسٹ فلسطینیوں کے غم میں نڈھال ہیں۔ یقیناً پاکستان بھر سے اربوں روپے جمع ہوئے ہوں گے اور ہو رہے ہیں۔ لیکن حکومت نام کی کوئی شے اس ملک میں نہیں ہے۔ جو یہ پوچھے کہ اس چندے کا حساب کتاب کیسے ہو گا۔ اس کو فلسطینیوں تک پہنچائیں گے کیسے؟۔ یہ جو لوگ گلی محلوں اور بازاروں اور دفتروں میں چندہ مانگ رہے ہیں۔
چندہ خور ٹھگ اپنے اپنے ادارے رجسٹرڈ کرالیتے ہیں۔ ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز بناتے ہیں، یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس مقصد کے حصول کے لیے اب کرائے پر بھی لوگ پکڑ لیتے ہیں۔ جو یہ کام اپنا کمیشن لے کر زیادہ پروفیشنل طریقے سے کرتے ہیں۔ اس کاروبار سے وابستہ سارے لوگ خوشحال ہیں،ان کے بچے سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں، بڑی بڑی مساجد اور مدرسے بنوا کر خود ہی ان کے متولی بن جاتے ہیں اور پھر ان کے بعد ان کے بچے ان بلڈنگوں کے متولی بن کر نسل در نسل کماتے رہتے ہیں.
کچھ مذہبی اور لسانی جماعتوں کے ارکان کے پاس تو اس کے علاوہ کوئی روزگار ہی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ڈونیشن دینے والوں اور حکومت کے پاس اس مسئلہ کو حل کرنے یا ریگولیٹ کرنے کا کوئی منصوبہ یا قانون نہیں ہے۔
اسی چندے نے ہمیں ایف ای ٹی ایف کے نرغے میں رکھا۔ مگر اس ملک میں اس کی آج بھی کھلی اجازت ہے۔ جس کے جی میں آتا ہے ایک سووزوکی پر لاؤڈ سپیکر لگا کر اپنی دکان لگا لیتا ہے۔ مگر مجال ہے قانون نافذ کرنے والے ان کو کچھ بھی کہیں۔ اس ملک سے افغان مہاجرین کا انخلاء اس لیے بھی ضروری ہے کہ نظام کو خراب کرنے میں ان کا بھی کلیدی کردار ہے۔خدا کے بجائے وہاں امریکی مفاد پر مبنی جہاد کے لیے بھی یہاں ڈٹ کر چندے اکٹھے کئے گئے لوگ اس وقت بھی چندہ دینے کو ثواب ہی سمجھتے رہے۔
اب یہ چندے بڑے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بھی ہونے لگے ہیں۔ ہر مسجد و مدرسے کے صحن میں اور گیٹ پر یہ بہروپیے اور ٹھگ غریب لوگوں کو ٹھگنے کے لیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اور ان غریب دیہاتیوں کے مذہبی جذبات کو کیش کرتے ہیں۔ یہ کام افغان روس جنگ کے بعد یہاں شروع ہوا اور اس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ یہ اب ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
چندہ دینے والوں اور ڈونرز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بیوقوف نہ بنیں۔ اب چونکہ دنیا بدل رہی ہے۔ پرانے تقاضوں کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی عوام تک پہنچ رہی ہے۔ لوگوں کو لوٹنے کے نت نئے طریقے بھی عام ہو رہے ہیں۔ ٹھگوں کو نہ روکنے سے یہ ٹھگ بازی و مفت خوری معاشرتی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کو ٹھگنا ایک معمول بن چکا ہے۔ کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسے لوگوں کو چندے مت دیں جن کا کاروبار اور پیشہ ہی چندے مانگنا ہے۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں