غزہ پر خاموشی کیوں ؟!
ایم اے راجپوت


غزہ والے سارے الحمد للہ پکے سنی مسلمان ہیں۔ حماس فکری حوالے سے ہماری جماعت اسلامی کی ہم فکر جماعت ہے ۔ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا غزہ پر ممنوعہ بم برسائے جا رہے۔غزہ کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا۔ہزاروں بچے اور خواتین شہید ہو چکے ہیں۔غزہ والوں کے دشمن اور قاتل کے کافر ہونے میں بھی کوئی شک نہیں۔یہ دشمن اس دفعہ نبی اکرم صلي اللہ علیہ وآلہ کی نواسی کے حرم پر حملہ آور نہیں بلکہ اللہ تعالی کے گھر مسلمانوں کے قبلہ اول پر حملہ آور ہے ۔لیکن اب نہ تو چترالی صاحب کو ناموس اسلام و مسلمین و حرمت خانہ خدا کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی لدھیانوی صاحب کو ،نہ کامل علی آغا کو اور نہ ہی بعض نون لیگی سنیٹروں کو،آصف جلالی اور ابتسام الہی ظہیر بھی خرگوش کی نیند سو چکے۔کہاں ہیں داعش اور طالبان ، القاعدہ و لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ ۔۔۔۔

مسلمانوں کے خلاف تو یہ سب جہاد کرتے ہیں لیکن کافروں کے خلاف یہ کیوں میدان میں دکھائی نہیں دیتے۔ پاکستان کے اکثر تکفیری اگرچہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تکفیریوں کا کوئی خاص فرقہ یا مسلک نہیں ہوتا۔
تکفیریوں نے ایک زمانے میں کافر کافر لکھ کر دیواریں کالی کیں۔پھر کلاشنکوف اٹھائی اور ملک کا امن تباہ کر کے رکھ دیا۔

مندر،چرچ،مساجد،امام بارگاہیں، مجالس، جلوس، شخصیات اور مسافرین ان کے نشانے پر رہے۔کلاشنکوف کے بعد خودکش بمبار بھی اسی ٹولے نے تیار کئے۔پھر یہ اور آگے بڑھے اورپولیس و پاک فوج پر بھی حملے کرنے لگے۔

سکولوں کے بچوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے گولیوں کا نشانہ بنانے لگے۔مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کرکے ان کے گلے کاٹنے لگے۔پاک فوج نے انھیں کنٹرول کرنے کیلئے بہت قربانیاں دیں اور ابھی تک دے رہی ہے لیکن ان کا شر ابھی تک جاری ہے۔
تکفیریوں کے دوسرے دستے نے مختلف قومی اداروں کے اندر مہم پوسٹوں پر پہنچ کر اپنے ہم فکر افراد کو سپورٹ کرنا شروع کردیا ۔یوں فوج ،پولیس،سیاست ،تعلیم، عدلیہ اور دیگر مہم اداروں وغیرہ میں ایک خاص فرقے کی دھونس قائم ہے۔ابھی نصاب تعلیم کا تازہ مسئلہ بھی انہی تکفیری لوگوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے خراب ہوا۔
تکفیریوں کے تیسرے دستے نے سیاسی میدان سنبھالا اور مختلف جماعتوں کے اندر گھس گئے۔ان جماعتوں کے ووٹ کی بدولت اسمبلیوں میں پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنی حرکات شروع کردیں۔کبھی پنجاب اسمبلی میں ایسا بل پیش کیا جو گلی محلے میں جنگ و جدال کا باعث بنے اور کبھی قومی اسمبلی میں۔
پھر یہ لوگ اسی پر نہیں رکے بلکہ لولی، لنگڑی، گونگی، بہری ،ٹوٹی ، پھوٹی ناقص قومی اسمبلی سے دھوکے سے یہ بل پاس کرا لینے کے بعد کبھی اپنے بڑوں کی قبروں پر کھڑے ہو کر انھوں نے باقی مسلمانوں کو دھمکانے کی مجرمانہ کوشش کی اور کبھی اجتماعات کر کے۔
تکفیریوں کے یہ تینوں دستے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔جب بھی ملک میں امن ،سکون،اخوت،وحدت اور بھائی چارے کی فضا دیکھتے تینوں دستے کوئی نہ کوئی حرکت کر کے ملک کی فضا کو خراب کر دیتے۔
چند سالوں سےانہوں نے پولیس کے اندر موجود تکفیری افسران کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا ہر وائرال ہونے والی پوسٹوں کا بہانہ بنا کر عام جوانوں کے خلاف پرچے کٹوانے شروع کر دئیے ، یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔
سوال یہ ہے کہ جو تکفیری حضرات مسلمانوں کے خلاف کلاشنکوف اٹھا چکے ہیں،تکفیری نصاب تعلیم مسلط کر چکے ہیں،تکفیری بل پاس کرانا چاہتے ہیں، عید میلاد النبی ﷺپر طوفان بدتمیزی مچا دیتے ہیں، اپنی فوج اور پولیس پر حملے کرتے ہیں ،وہ غزہ کے حوالے سے خاموش کیوں ہیں؟
چاہئے تو یہ تھا کہ تکفیریوں کے مسلح دستے غزہ پہنچتے ، اور ان سنی مسلمان بہن بھائیوں اور بچوں کو کافروں کے ظلم سے نجات دلاتے۔خودکش بم باروں کو اسرائیل کے شہروں ،بازاروں،اجتماعی مقامات اور یہودی عبادت گاہوں میں اتارا جاتا۔

سیاسی دستہ پاکستان میں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں خصوصا امریکہ اور برطانیہ کے خلاف اجتماعات کرتا ۔ کافر کافر یہودی کافر ،کافر کافر صہیونی کافر،کافر کافر اسرائیلی کافر کے نعرے لگاتا۔ اسی طرح اداروں میں گھسے ہوئے تکفیری کوشش کرتے کہ کم از کم اتنی فوج تو بیت المقدس کی حفاظت کیلئے جائے جتنی مسجد الحرام کی حفاظت کیلئے سالہا سے سعودی عرب گئی ہوئی ہے۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ جب سعودی فوجی اتحاد نے ایک مسلمان ملک یمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو اس وقت یہ تکفیری سڑکوں پر تھے۔مظلوم کی حمایت میں نہیں ظالم اتحاد کی حمایت میں۔ خود بھی جنگ میں شرکت کیلئے بے تاب تھے اور حکومت سے بھی کہتے تھے کہ حرمین شریفین کو خطرہ ہے فوج کو سعودی عرب بھیجا جائے۔لیکن اب نہ خود جانے کیلئے آمادہ ہیں اور نہ ہی حکومت سے مطالبہ ۔ جب کہ حرم الہی بیت المقدس کی مسلسل بدترین توہین ہو رہی۔ناموس مسلمین غزہ میں پائمال ہو رہی اور تکفیریوں کو سانپ سونگھ چکا۔

وجہ کیا ہے؟سبب کیا ہے؟

دشمنان اسلام خصوصا امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل تکفیریوں کے سرپرست ہیں۔تکفیری نہ سنی ہیں نہ شیعہ بلکہ دونوں کے دشمن ہیں ۔اب غزہ میں نقصان مسلمانوں کا ہو رہا ہے ۔شہید سنی ہو رہے۔بچے سنیوں کے شہید ہو رہے۔عورتیں سنیوں کی شہید ہو رہیں۔گھر سنیوں کے اجڑ رہے اور شہید کرنے نیز اجاڑنے والے والے تکفیریوں کے سرپرست ہیں۔

اس صورت حال میں اگر تکفیری اپنے سرپرستوں کے حق میں کھل کر آواز اٹھائیں تو سب کے سامنےبے نقاب ہو جائیں گے اور اگر غزہ کے اہل سنت کے حق میں آواز اٹھائیں تو ان کے سرپرست ناراض ہو جائیں گے ۔اس وجہ سے تکفیریوں نے موجودہ صورت حال میں سکوت ہی میں نجات سمجھی ہے۔

کاپی پیسٹ کے بجائے ہمیں جوائن کریں

غزہ اور چندہ مافیا