جماعت اسلامی ۔۔۔

بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں


ایم اے راجپوت
غزہ یعنی عورتوں اور بچوں کا مقتل ۔ جماعت اسلامی کا شمار اس ظلم کے خلاآواز اٹھانے والی چند تنظیموں میں ہوتا ہے۔البتہ بعض لوگ جماعت اسلامی کے اس عمل پر بھی معترض ہیں؟
اُن کا اعتراض ہے کہ جب اپنے وطن عزیز میں ایک ایک دھماکے میں دو دو سو پاکستانی شہید ہوتے رہے تو اس وقت جماعت نے اس طرح کے پروگرام کیوں نہیں کئے؟کیا کوئٹہ والے ہزارے مظلوم نہیں تھے؟ کیا پارہ چنار میں ظلم و ستم کم ہوا ہے؟ کیا گلگت و بلتستان میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کرنے کا فعل قابلِ مذمت نہیں تھا۔۔۔
اچھا اپنے ملک سے باہر نکل کر ہی دیکھ لیں۔یمن بھی فلسطین کی طرح ہمارا برادر اسلامی ملک ہے ۔یمن پر مسلسل سات سال تک شب و روز غزہ کی طرح ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ظلم کے بم برسائے گئے۔ یمنیوں کا ہولوکاسٹ آج بھی جاری ہے۔غزہ سے زیادہ عورتیں اور بچے یمن میں شہید ہوئے لیکن جماعت نے پاکستان کے کسی ایک شہر میں بھی یمنی مظلوموں کی حمایت میں ریلی نہیں نکالی۔ اسی طرح عراق اور شام میں داعش نے جو مظالم کئے اس پر جماعت اسلامی نے داعش کی تو حمایت میں کچھ نہ کچھ کہا لیکن شام و عراق کے عوام کی کبھی حمایت میں کوئی بیان نہیں دیا ۔ داعش نے جو ظلم کی داستانیں رقم کیں اور جس طرح بچوں کے سر قلم کئے اس ظلم کی مثال بھی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی مظلوموں کی حامی اور ظالموں کی دشمن جماعت نہیں ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جماعت نے پاکستان میں اور پاکستان کے باہر یمن، عراق اور شام میں کبھی بھی مظلوموں یا عوام کی حمایت نہیں کی۔
اب جماعت کو اچانک مظاہروں کی کیوں سوجھی اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حماس کا تعلق اخوان المسلمین سے ہے اور ہماری جماعت اسلامی بھی پاکستان میں اخوان المسلمین ہی کی شاخ ہے ۔اخوان کی شاخیں بعض دیگر ممالک میں بھی ہیں ۔ بہت کم لوگ یہ جانتے ہونگے کہ اخوان المسلمین کے نظریات دیگر اہل سنت سے مختلف ہیں۔ آج بھی جماعت اسلامی کسی شیعہ یا اہلِ سُنّت گروہ کی حمایت میں نہیں نکلی بلکہ اپنے نظریاتی بھائیوں اور ہم مسلک لوگوں کی حمایت میں یہ سب کر رہی ہے۔ ورنہ پاکستان میں ان دنوں سب سے پہلے تکفیریوں کے حامی چترالی کو جماعت سے باہر نکال دیا جاتا۔ جماعت کے جلسے میں غزہ کیلئے تو جہاد کا بھی اعلان کر دیا گیا لیکن پاکستانی مظلوموں کے پاس تو سراج الحق صاحب فاتحہ خوانی کیلئے بھی نہیں جاتے۔پس باقی آپ خود سمجھدار ہیں کہ مظلوم کی حمایت والی کوئی بات نہیں، دراصل جماعت کو صرف اپنے تنظیمی بت کی حمایت مقصود ہے۔

پسندیدہ ترین

میں اور جماعتِ اسلامی

جماعت اسلامی اور تجزیہ و تحلیل


افکار و نظریات: islamic, party, pakistan, jamat