غزہ اور کردار کے غازی
ایم اے راجپوت


ہماری حکومت نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت کا فقط اعلان ہی کیا ۔او آئی سی کے اجلاس میں بھی ہماری حکومت کی طرف سے کوئی خاص راہ حل پیش نہیں کیا گیا ۔ غزہ کی حمایت میں نہ پی ٹی آئی میدان میں اتری نہ پی پی اور نہ ہی نون لیگ۔باقی چھوٹی اور صوبائی سطح کی جماعتوں نے بھی خاموشی ہی اپنائی ہوئی ہے۔

ایم کیو ایم بھی کراچی میں ایک ریلی نکالنے کے بعد شاید تھک گئی ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اوّل اور انبیا کی سر زمین ہونے کے علاوہ غزہ کا ایک اور تعارف یہ ہے کہ یہ امام شافعی رحمۃ اللہ کی جائے پیدائش بھی ہے ۔
ہماری بڑی سیاسی جماعتوں نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر سرگرمی انجام نہیں دی۔بعض سیاسی راہنماوں نے اس قسم کے بیان تو دئیے کہ اے نبی پاک صلي اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم شرمندہ ہیں ، قیامت کے دن ہم آپ کو کیا منہ دکھائیں گے ۔ آپ کی امت غزہ میں ذبح کی جاتی رہی اور ہم بس دیکھتے رہے۔ وغیرہ وغیرہ
لبرل، سیکولر یا قوم پرست جماعتوں کی طرح مذہبی سیاسی جماعتوں کا کردار بھی سرد مہری پر مبنی رہا۔ غزہ میں اکثریت اہل سنت برادران کی ہے ،حماس اور جہاد اسلامی بھی دونوں سنی جماعتیں ہیں ۔دنیا بھر کے اہل سنت نے اسرائیل کے خلاف کوئی قابلِ توجہ ردّ عمل نہیں دیا۔ گویا دنیا میں جیسے اہلِ سنت کی کوئی حکومت یا علمی مرکز ہی نہ ہو۔ سنی جوانوں کو بھی کسی نے جہاد کیلئے غزہ پہنچنے کا فتوی نہیں دیا۔البتہ فقط جماعت اسلامی نے آواز اٹھائی ،مظاہرے کئے ،ریلیاں نکالیں ،جلسے کئے اور اپنی حکومت و بین الاقوامی اداروں پر کچھ دباؤ ڈالا ۔

جماعت اسلامی کے احتجاج کی وجہ اہلِ غزہ کی مظلومیّت کے بجائے حماس اور جماعت اسلامی کا ہم فکر ہونا تھا ۔ یعنی اگر حماس کا تعلق اخوان المسلمین سے نہ ہوتا تو جماعتِ اسلامی نے کوئی احتجاج وغیرہ نہیں کرنا تھا۔ جیسا کہ یمن اور شام میں ہونے والے ظلم پر جماعت اسلامی آج تک خاموش ہے، اس نے ویسے ہی خاموش رہنا تھا۔ یمن اور شام کے مظلومین جماعت اسلامی کے ہم فکر ،ہم مسلک اور ہم مکتب نہ تھے چنانچہ جماعت کی طرف سے کوئی احتجاج بھی نہ ہوا۔اپنے ہم وطن عیسائیوں پر ظلم کو جماعت اسلامی نے دیکھا ،اہل تشیع پر خودکش حملے دیکھے ، چرچ ،امام بارگاہیں اور مساجد جلتی دیکھیں لیکن چونکہ یہاں مسالک جدا تھے، ہم وطن ہونے کے باوجود جماعت اسلامی نے اس ظلم کے خلاف کوئی ریلی نہیں نکالی۔
میں نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی جستجو کی۔ غزہ میں ہونے والے ظلم کےخلاف صرف ایک پاکستانی تنظیم پہلے دن سے لے کر آج تک مسلسل میدان میں ہے۔ آپ بھی تحقیق کر کے تاریخ اور اعداد و شمار کے ساتھ بات کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ پاکستانی سیاسی مذہبی جماعتوں میں صرف ایک ایسی جماعت ہے کہ جس کے منشور میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ ہم ہر مظلوم کے حامی ہیں چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ہر ظالم کے مخالف ہیں چاہے وہ مسلم ہی کیوں نہ ہو۔اس جماعت نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ مظلوم کا وطن کونسا ہے؟اور نہ کبھی یہ دیکھا کہ اس کا مذہب کونسا ہے؟
پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر بھی جب کبھی کوئی ظلم ہوا تو یہ جماعت ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔یمن پر جب نام نہاد اسلامی فوج نے سعودی عرب کی قیادت میں ظلم شروع کیا تو بھی یہ جماعت اس ظلم کے مقابلے میں کھڑی ہوگئی ۔شام پر ظلم کے خلاف بھی صرف یہی جماعت باہر نکلی اور اِن دنوں غزہ کی حمایت میں بھی اس تنظیم نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ دمِ تحریر یہی جماعت وطن عزیز کے مختلف شہروں میں بڑے بڑے احتجاجی پروگرام کر چکی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ حتی کہ ملک سے باہر بھی جہاں جہاں اس جماعت کے شعبے فعال ہیں وہاں وہاں بھی غزہ کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت میں پروگرام ہوئے ہیں ۔خصوصا اسلام آباد ،کراچی اور لاہور میں اس جماعت نے اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا کہ جسے پوری پاکستانی قوم کی آواز کہا جا سکتا ہے ۔
اس جماعت کا تعلق ہے تو شیعہ مذہب سے لیکن اس جماعت نے جماعت اسلامی کی طرح یہ تعصب نہیں کیا کہ غزہ کے مظلومین تو شیعہ نہیں بلکہ سنی ہیں لہذا ہم خاموش تماشائی بن جائیں۔ اس جماعت نے صرف اور صرف یہ دیکھا کہ وہ مظلوم ہیں اور ہم نے مظلوم کا حامی ،ناصر اور مدد گار بننا ہے چاہے وہ کافر ہی ہو ۔جبکہ غزہ کے مظلومین تو ہمارے مسلم بھائی بلکہ آیت ا۔۔۔سیستانی کے حکم کے مطابق ہماری جان ہیں ۔لہذا جس طرح کہ اس جماعت کے نام میں لفظ شیعہ کے بجائے لفظ مسلمین ہے اس جماعت نے غزہ کے مسلمانوں کو اپنا مسلمان بھائی بلکہ اپنی جان سمجھ کر ان کی حمایت اور نصرت میں زبردست انداز میں احتجاجات کئے ۔لہذا پاکستانی مذہبی سیاسی جماعتوں میں سے صرف مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے ہی اس حق کو ادا کیا ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس تنظیم نے دوسروں کے پروگراموں میں جا کر فاتحہ خوانی اور بیان بازی کے بجائے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے خود میدان میں اتر کر بھرپور احتجاج کرنے کی شاندار تاریخ رقم کی ہے۔ یعنی فقط گفتار کا غازی بننے کے بجائے کردار کا غازی بننے کا راستہ اختیار کیا۔

پسندیدہ ترین

وائس آف نیشن کی ریسرچ کمیونٹی کا ممبر بننے کیلئے ہمیں وٹس ایپ پر جوائن کیجئے

ٹاپ اسٹوری: میں اور جماعتِ اسلامی


افکار و نظریات: mwm, majlis, oic, party