دنیا تشنہ ہے مگر آمادہ نہیں
تحریر: منظوم ولایتی


فلسطین پر حملے کل سے دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی کا کہیں وجود باقی نہیں رہا۔ مصر سے منسلک رفع بارڈر دوبارہ مسدود کردیا گیا ہے۔ گزشتہ روز تقریبا ۱۷۸فلسطینی شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ تازہ دم ہوکر صہیونیوں نے از سرِ نو قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ قرآن کے مطابق فرعون لوگوں کے صرف بچوں (بیٹوں) کو ذبح کرتا تھا جبکہ آج کے جدید فراعین فلسطینیوں کے بچے،بچیوں،ماں باپ حتی کہ پوری کی پوری نسل کشی کر رہے ہیں۔
دوسری طرف حماس کی مقاومت میں بھی ذرّہ بھر کمی نہیں آئی۔حزب اللہ کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔انصار اللہ بھی میدان میں ہے۔یعنی سیز فائیر نام کی اب کوئی شئے باقی نہیں رہی ۔
اسرائیل کسی کی نہیں مان رہا۔اس کے سامنے یو این او،سلامتی کونسل، او آئی سی وغیر سب ہیچ ہیں۔ساری دنیا کے مسلمان مل کر بھی فلسطینیوں کیلیے پانی کا ایک ٹینکر بھی نہ بھجواسکے۔ عرب حکمران اس جنگ کو اپنا امتحان سمجھ ہی نہیں رہے۔مسلم امہ بھی اس نہایت اہم موڑ پر صرف نعرہ بازی میں مصروف ہے۔بدقسمتی سے کئی مسلم ممالک تو کھل کر فلسطینیوں کی حمایت بھی نہ کر سکے۔شرمندگی ہے اور بہت دور تک شرمندگی کے آثار کھل کر سامنے آرہے ہیں۔
آج کی ایک اہم خبر یہ بھی ہے کہ اُدھر امریکہ چیچنیا،بوسنیا سے لیکر عراق، فلسطین، شام اور افغانستان تک لاکھوں انسان کا قاتل اور کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو اجیرن کرنے والا سابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ اور دانشورڈاکٹر ہنری کسنجر بھی چل بسا ہے۔
ہنری کسنجر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اکیلا شخص ایک مکمل امریکی تھنک ٹینک ہے۔اسی طرح اسے استعماری نظام کا چلتا پھرتا پرزہ سمجھا جاتا تھا۔ موصوف کی کئی کتابیں دنیا کی تقریبا تمام اہم زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ اردو میں ان کی ایک کتاب " ڈپلومیسی" پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے،جس کا ترجمہ سعید نقوی صاحب نے کیا ہےاور جہلم بک کارنر سے چھپی ہے۔اسی طرح سے استعماری فکر کو سمجھنےکیلیے"نیو ورلڈ آرڈر" بھی نہایت اہم کتاب سمجھی جاتی ہے۔

آج کے دِن مجھے ڈاکٹر علی شریعتی کا ایک جملہ بھی بہت یاد آ رہا ہے۔ انہوں نے بہت خوب کہا تھا کہ حق و باطل کی جنگ میں جب تم حق کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتو پھر فرق نہیں پڑتا کہ تم شراب پی رہے ہو یا نماز پڑھ رہے ہو! پھر تم باطل کی ہی صف میں ہو۔ آج ڈاکٹر شریعتی ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن غزہ کی جنگ نے ہم پر واضح کر دیا ہے کہ ہم کس صف میں ہیں؟
حضرت علیؑ کا قول ہے کہ حکومت کفر پر تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم پر نہیں۔ امریکہ کا ہاتھ آج ساتوں براعظموں کے کسی نہ کسی ملک میں بے گناہوں کے خون سے ضرور رنگین ہے۔دنیا اب استعماری چالوں اور گماشتوں کو پہچان چکی ہے اور ان سے گلو خلاصی چاہتی ہے۔دنیا کو اب عقل و حکمت کی بنیاد پر درست ہدایت و رہنمائی کی ضرورت ہے ، دنیا منتظر اور تشنہ ہے اپنے زمانے کے مہدیؑ کیلئے۔ ابھی دنیا میں تشنگی تو ہے آمادگی نہیں۔ ہمیں حماس ، حزب اللہ اور انصاراللہ کی مانند، دشمن شناسی، قربانی، مقاومت اور آمادگی کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج سای دنیا ظہور امام مہدی ؑ کے لئے تشنہ ہے مگر آمادہ نہیں اور فلسطین تشنہ بھی ہے اور آمادہ بھی۔


بقول علامہ اقبال
دنیا کو ہے اُس مہدی برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگاہ زلزلہ عالم افکار

پسندیدہ ترین

ہمیں جوائن کیجئے


افکار و نظریات: thirsty, world, war, fire