سانحہ چلاس۔۔۔ لوگ پوچھتے ہیں!
تحریر ✒️ م ع شریفی


گزشتہ دنوں چلاس میں ایک اور سانحہ رونما ہوا ۔ یہ سانحہ اچانک نہیں ہوا۔ اس میں پاک فوج کے جوانوں سمیت 9 افراد شہید ہوگئے ۔ اس سانحے کی روک تھام کیلئے نگر یوتھ نے نگر کے تین تھانوں چھلت ،سکندر آباد، اور نگر خاص میں ایف آئی آر درج کروا رکھی تھی ۔ جو لوگ اس سانحے کی تیاری کر رہے تھے اُن کے بارے میں شواہد بھی فراہم کئے گئے تھے۔ تاہم کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ سانحے کے بعد اس بیانیے پر اکتفا کر لیا گیا ہے کہ " دہشتگردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا" اور یہ انڈیا اور را کی کارروائی ہے۔ ظاہر ہے کہ بیانیے کے پیچھے دماغ، پلاننگ اور پیسہ ہوتا ہے۔ اب یہ بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ پاکستان کے اندر اس بیانیے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ہمارے ہاں جب بھی کوئی دہشتگردی ہوتی ہے تو حکومت سے لے کر دیگر اعلی حکام اور سکیورٹی اداروں تک سب اسی بیانیے کو استعمال کر کے بری الذّمہ ہو جاتے ہیں۔
اگر یہ سچ ہی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں فتح و کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی، اغوا اور فتنہ و فساد میں ،، را ،، اور انڈیا ہی ملوث ہیں تو پھر تو انڈیا اور را کی پلاننگ اور برتری کیا کہنے!۔ کمال ہو گیا ہے کہ بھارت پاکستان کے اندر جب چاہتا ہے اور جہاں چاہتا ہے وہاں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا دیتا ہے۔ اس طرح تو ہماری حکومت اور سکیورٹی ایجنسیاں خود انڈیا و را کے سامنے اپنی ناکامی و شکست کا اعتراف کرتی ہیں۔ کئی دہائیوں سے ہر حادثے کے بعد ایک پریس کانفرنس کرکےسارا ملبہ انڈیا پر ڈالنا اب عوام کیلئے قابلِ ہضم نہیں۔
کیا ہمارے مقتدر ادارے انڈیا کے سامنے اتنے ناکارہ ہیں کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ کرائے کے قاتل کہاں پلتے ہیں۔ کون لوگ انہیں پالتے اور ان کی برین واشنگ کرتے ہیں اور کونسے مدارس و مساجد میں ان کے ٹھکانے اور سرپرست و سہولتکار رہتے ہیں؟؟؟
اگر یہ سچ ہے کہ ہمارے ادارے ہندوستان کے آگے بے بس ہو چکے ہیں تو یقین جانئے ہندوستان کے ساتھ دشمنی اپنی جگہ لیکن اس کے اداروں کی پروفیشنل تربیت کی داد تو دینی ہی پڑے گی۔
اتنے سارے شیعہ سنی علماء، شاعر، قوّال، بیوروکریٹس،سیاستدان ، اے پی ایس پشاور کے بچے ، اور بیگناہ عوام کا خون بہایا گیا اور نہ صرف یہ کہ قاتلوں کو سزا نہیں ہوئی بلکہ احسان اللہ احسان جیسے کئی بڑے بڑے دہشت گردوں کو سہولتکاری کر کے اُنہیں کہیں اور بھیج دیا گیا۔ کہیں اور نہیں کیا حساس ادارے نہیں جانتے کہ اسلام آباد میں ہی کتنے مدارس ہیں جو دہشت گردی کے مراکز ہیں؟ کیا اُن کا خاتمہ کیا گیا ہے؟
دہشتگردی اور قاتلوں کی فیکٹریاں چلانے والے دن دہاڑے ملک کے دارالحکومت میں آئے روز سیمینارز، جلسے اور کانفرنسیز کر رہےہیں ۔ حکمرانوں نے انہی کے ساتھ مل کر یہ بیانیہ لانچ کر رکھا ہے کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔
اسی بیانیے سے ان دنوں جی بی حکومت بھی فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جی بی کے وزیر داخلہ صاحب نے بھی سانحہ چلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اسی کو دہرا کر دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو گرین سگنل دیا اور ان کے جرائم چھپانے کی کوشش کی۔ لوگ اب پہلے کی مانند نہیں ہیں۔اب لوگ پوچھتے ، سوچتے، تحقیق اور سوال کرتے ہیں۔ یہ سوال اب ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ اگر ہمارےسکیورٹی ادارے اتنے ہی بے بس ہو چکے ہیں کہ ہندوستان اور را کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی تو انہیں کیا صرف اپنے عوام کو ہراساں، لاپتہ اور مضروب کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے؟؟؟ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا تحفظ، سلامتی اور اُن کی سیکورٹی آخر کس کی ذمہ داری ہے؟

آخر ہمیں کب عقل آئے گی؟

ہمیں جوائن کیجئے


افکار و نظریات: police, responsibility, attacks, people