🙏یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے🙏
ایم اے راجپوت


5 جنوری بروز جمعہ کو ایک کالعدم جماعت کے مرکزی عہدیدار مولانا صاحب کو قتل کر دیا گیا۔ قتل کا یہ واقعہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ کالعدم جماعت کے کارکنوں نے ایک پُر امن اسلامی مکتبِ فکر کے خلاف خوب نعرے بازی کی۔

اسلام آبادمیں یہ دونوں واقعات سیکیورٹی اداروں کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہیں۔
کیا سیکیورٹی اداروں کو یہ معلوم نہیں کہ پاکستان اور اسلام آباد کے اندر تکفیریوں کے علاوہ اہلِ سُنّت و شیعہ مسلمانوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد رہتی ہے۔ سُنّی اور شیعہ سب جانتے ہیں کہ اس تکفیری ٹولے کا تعلق کس مسلک سے ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے کبھی اس مسلک کا نام لیکر اس کے خلاف کافر کافر کے نعرے نہیں لگائے ۔
کسی مسلمان فرقے کو کافر کہنایہ ایک جرم ہے اور اس جرم پر خاموشی اور سکوت دوسرا جرم ہے ۔ہمارے سیکیورٹی ادارےاس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔البتہ ہمارا یہ شکوہ صرف سیکیورٹی اداروں سے نہیں، قومی اسمبلی اور سینٹ جیسے اداروں سے بھی ہے جو متنازعہ قراردادیں اور فسادی بل تو چور دروازے سے بھی پاس کر لیتے ہیں لیکن تکفیرکے خلاف انہوں نے ابھی تک کوئی بل یا قرار داد پاس نہیں کی۔ہمارے نگران وزیراعظم صاحب بھی قائد اعظم سے اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن تکفیریوں کے اس جرم بولنے سے عاجز ہیں۔بڑے بڑے سیاستدان ووٹ لینے کیلئے تو شیعہ و سنی کو نہیں دیکھتے اور سب کے قدموں میں گرتے ہیں لیکن جب اہلِ تشیع اور اہلِ سُنّت کی تکفیر کی جاتی ہے تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔
بزرگ سنی علماء کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے۔ماضی کو ہم بھلا دیتے ہیں اس واقعے کو آج کتنے دن ہو گئے ہیں لیکن کسی دیوبندی ،بریلوی یا اہل حدیث بزرگ عالم دین نے اس تکفیری ٹولے کے خلاف لب کشائی نہیں کی۔ ہماری سیکورٹی اداروں، پارلیمنٹ کے ممبران، سیاستدانوں، صحافیوں، میڈیا پرسنز ، وکلا اور سنی و شیعہ علما سے دست بستہ گزارش ہے کہ اس آگ کو اپنی خاموشی سے ہوا نہ دیں۔۔۔

بقولِ شاعر
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

LIKED


افکار و نظریات: google, print, voice, nation