کیا یہی ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ہے؟
ایم اے راجپوت


میاں نواز شریف صاحب کی ایبٹ آباد کی تقریر اپنے پیچھے بہت سارے سوالات چھوڑ گئی۔ انھوں نے اپنے دور کی مہنگائی کا بعد والے ادوار سے تو مقایسہ کیا لیکن اپنے سے پہلے والے دور سے مقایسہ نہیں کیا۔انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کے بعد دو سال سے زیادہ عرصے تک جب پوری دنیا پر کرونا چھایا رہا اور کرونا کی وجہ سے پوری دنیا میں نا قابل برداشت حد تک مہنگائی ہوئی تو اس دوران پاکستان کیسے ان سخت حالات سے نمٹا۔انہوں نے اپنے بھائی کے ۱۶ ماہ پر مشتمل دورِ حکومت میں ہونے والی ریکارڈ ساز مہنگائی کا جائزہ بھی نہیں لیا۔گویا اس تقریر میں عوام کے کام کی کوئی بات نہیں تھی اور عوام کیلئے ان کا تقریر کرنا اور نہ کرنا برابر تھا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا وہ سب کے سامنے ہے ۔یہ جماعت دوسری دو بڑی جماعتوں کی طرح الیکشن کمپین بھی نہیں چلا سکتی۔البتہ پیپلز پارٹی اپنی الیکشن کمپین بہت اچھے طریقے سے چلا رہی ہے ۔پی پی کے چئرمین اپنے مرحوم نانا،مرحومہ والدہ اور اپنے والد کی سابقہ حکومت وغیرہ سب کا تذکرہ ہر جگہ کرتے ہیں ۔
ن لیگ کے پاس اس سے پہلے چار دفعہ حکومت کرنے کا تجربہ ہے ۔پہلے دو دور میں میاں نواز شریف صاحب وزیر اعظم تھے ۔تیسرے دور میں زیادہ عرصہ خود میاں نواز شریف صاحب اور کچھ عرصہ شاہد خاقان عباسی صاحب ن لیگ کے وزیر اعظم تھے ۔اور چوتھے دور میں میاں شہباز شریف صاحب وزیر اعظم تھے۔
اس جماعت کے اکثر قائدین کہتے ہیں کہ ہم یہ الیکشن اپنی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر لڑیں گے۔لیکن جب کارکردگی بیان کرتے ہیں تو معمولا پہلے تین ادوار کی کارکردگی بیان کرتے ہیں ۔چوتھا اور نزدیک ترین دور بھول جاتے ہیں ۔اور اگر کہیں چوتھے دور کی کار کردگی بیان کریں تو وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ کرنے سے بچایا ۔چلیں چوتھے دور کے بارے میں ہم بتائے دیتے ہیں کہ ن لیگ کی حکومت کا یہ دور اتنا ناکام تھا کہ اگر میاں نواز شریف صاحب کو پاکستان نہ لایا جاتا تو ن لیگ کا حال ق لیگ والا ہو چکا ہوتا۔یعنی جو حال شوکت عزیز صاحب نے ق لیگ کا کیا وہی حال شہباز شریف صاحب نے ن لیگ کا بھی کر دیا تھا۔بس اتنے فرق کے ساتھ کہ شوکت عزیز صاحب ، چوھدری شجاعت صاحب کے سگے بھائی نہیں تھے جبکہ یہ نواز شریف صاحب کے سگے بھائی ہیں۔
اسی طرح جہاں تک چوتھے دور حکومت میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے دعوے ہیں تو لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کہ انہوں نے ملک کو کیسے ڈیفالٹ سے بچایا؟کیا ن لیگ نے اپنی جیب سے ملک پر کچھ خرچ کر کے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا؟کیا شریف فیملی نے ملک سے باہر رکھی ہوئی اپنی دولت ملک میں لاکر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا؟کیا شریف فیملی نے اپنی کسی مل ،کارخانے یا جائیداد کو بیچ کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا؟یا الٹا ملک کو مزید مقروض کیا؟
حقیقتِ حال میں انہوں نے ملک کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کا مزید محتاج بنادیا ہے۔اس ظالم ادارے کی ساری شرائط بلا چون و چرا مان کر لوگوں کو خودکُشیوں پر مجبور کر دیا ہے۔مہنگائی کے علاوہ ملک میں عدل و انصاف ، امن عامہ اور عوامی مسائل میں صرف اضافہ ہی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پر وہ وہ ظلم ہوئے جو باقی حکومتوں کے دور میں کم ہوئے یا اصلا نہیں ہوئے۔نون لیگ نے اقلیتوں کے ساتھ اپنا سابقہ معاندانہ رویّہ برقرار رکھا اسی طرح مذہبی شدّت پسندی اور تکفیریت کی حوصلہ افزائی بھی جاری رہی۔ سیاسی انتقام اور لوگوں کو لاپتہ کر دینے والا سلسلہ بھی از سرِ نو اسی ن لیگ ہی کے آخری دور میں شروع ہوا۔تکفیری بل بھی ن لیگ ہی کے آخری دور میں چور طریقے سے پاس ہوا۔ایسے درجنوں حقائق ہیں جو چھپانے سے چھپائے نہیں جا سکتے۔ خیر پھر بھی ان کا دعوی ہے کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا دیا۔

آپ کا فیڈ بیک

مقبول ترین: قائداعظم حنفی تھے


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face