ملکی عدالت کے بعد عوامی عدالت کا انتظار کیجئے
ایم اے راجپوت

27 مارچ 2022کو عمران خان نے ایک عوامی جلسے میں سائفر لہرایا تھا۔ انہوں نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیا تھا ۔
سائفر کیس کے متعلق جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے فیصلے نے سائفر ، خان صاحب اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے حوالے سے بہت سارے حقائق روشن کتاب کی طرح کھول کر رکھ دئیے ہیں جن میں سے کچھ کی طرف ہم اشارہ کر دیتے ہیں۔
1=سائفر جعلی نہیں تھا حقیقی تھا ۔پی ڈی ایم نے امریکہ کے ساتھ ملکر خان کی منتخب حکومت کو گرایا لیکن عوام کی آنکھوں میں جھول ڈالنے کیلئے الٹا عمران خان پر تھمت لگا دی کہ سائفر جعلی ہے۔اب ظاہر ہے حکومت بھی پی ڈی ایم کے ہاتھ میں تھی تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے قانون کے تحت پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں 16 ماہ اس حقیقت کا انکار کرتی رہیں اور ڈنڈے کے زور پر عوام کو چپ کراتی رہیں۔
2=عمران خان سچا تھا اور اس کے مخالف سب جھوٹے ہیں۔عمران خان تو اب بھی جیل میں کھڑے ہو کر بھی ڈونلڈ لو کے وہی الفاظ دہراتا ہے جو 27 مارچ 2022 کو پہلی دفعہ کہے تھے لیکن اس کے مخالفین جو اس وقت سائفر کے جعلی ہونے کے دعوے کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر سچ ہو تو ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوں گے آج پینترا بدل کر کہتے ہیں ملکی راز فاش کردیا۔شھباز شریف صاحب سے گزارش ہے کہ اگر مرد ہیں تو اپنی بات پر ڈٹے رہیں اب سائفر کا سچ ہونا ثابت ہو گیا ہے ۔آئیں خان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔
امریکی ترجمان نے تو آج بھی بیان دیا ہے کہ ہم سائفر کیس کی کاروائی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ میں بھی ہر روز ھزاروں کیس چلتے ہیں ہم تو ان پر نظر نہیں رکھتے۔ہماری طرف سے تو ایسا کوئی سائفر کسی امریکی صدر کو ہٹانے کیلئے نہیں ۔؟!دال میں کچھ تو کالا ہے کہ امریکہ نظر رکھے ہوئے ہے۔
3=اگرچہ اس وقت بھی قومی سلامتی کمیٹی اور کابینہ نے سائفر کا جائزہ لیکر اس بات کی تائید کی تھی کہ مداخلت ہوئی ہے لیکن اب جو فیصلہ آیا ہے اس نے لوہے پر لکیر کی طرح امریکی مداخلت کو واضح طور پر منقش کر دیا ہے ۔اگر معمولی مداخلت پر سے عمران خان نے پردہ اٹھایا ہوتا تو سزا بھی معمولی ہوتی ۔دس سالہ قید کی سزا دلیل ہے کہ امریکہ نے بہت بڑی سطح کی مداخلت کی تھی جس پر سے خان نے پردہ اٹھا دیا چونکہ خان کا نظریہ یہ ہے کہ ہم امریکہ کے نوکر نہیں۔اور یہی بات امریکہ اور اس کی لابی کو چبھتی ہے لہذا سزا سخت دلوائی ہے۔
4=خان قوم کا وفادار ہے ۔وطن کا وفادار ہے ۔خان جنرل مشرف کی طرح جو ایک کال پر امریکہ کے آگے جھک گیا تھاجھکا نہیں ،زردای کی طرح جو ایران سے گیس کا معاھدہ کر کے امریکہ سے ڈرتا رہا ڈرا نہیں،خان نے نواز شریف کی طرح جس نے اپنی حکومت کے دوران امریکیوں کو پاکستان کے اندر گھس کر کاروائیاں کرنے کی اجازت دی اور انھوں نے کہا پاکستانی پیسے کی خاطر ماں بھی بیچ دیتے ہیں امریکہ کو بکواس کرنے کی اجازت نہیں دی ۔خان نے اپنی حکومت قربان کردی لیکن حق سچ بات اپنی قوم سے نہیں چھپائی ۔جو بکواسات امریکی ڈولڈ لو نے کئے تھے قوم کو بتا دئیے ۔یہی خان کا کمال ہے ۔قومی لیڈر اپنی قوم کے ساتھ حق اور سچ کی بات کرتا ہے ۔امپورٹڈ لیڈر حق سچ چھپاتے ہیں اور پھر فخر بھی کرتے ہیں کہ ہم نے قوم کے سامنے کبھی بیرونی سازشیں اور مداخلت کا ذکر نہیں کیا۔ظاہر ہے ذکر کریں تو امپورٹ کرنے والے ناراض ہوتے ہیں۔
5=انتھائی افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ پہلے سائفر کیس اور اب اس کا فیصلہ یہ ثابت کر گیا ہے کہ ہم خود مختار نہیں ۔ہم امریکہ کی کالونی ہیں۔یہ فیصلہ سن کر وہ سب لوگ ہم پر ہنس رہے ہیں جنھیں ہم کہتے تھے کہ پاکستان ایک مستقل ،آزاد اور خود مختار ملک ہے ۔سائفر میں جو کچھ کہا گیا تھا وہ تو ہر پاکستانی کو پتہ ہونا چاہئے تھا اور ہر ایک کو اجازت ہونی چاہئے تھی کہ اسے بیان کر کے امریکی مداخلت کی مذمت کرے ۔کیا اس سے پہلے ہمارے فوجیوں ،ہمارے ہم وطنوں کے قتل اور اغوا کا مجرم امریکہ نہیں ۔پھر خان نے جب سائفر والی دھمکی عوام کو بتائی اس وقت وہ ہمارے ملک کے وزیراعظم تھے ۔ملک کے سب سے بڑے اختیاراتی عھدے پر تھے ۔ہم اگر خود مختار ،آزاد اور مستقل ملک ہیں تو خان پر فخر کرنا چاہئے تھا اور امریکہ کو جواب دینا چاہئے تھا۔امریکہ اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کیلئے الٹا خان کو سزا دینا ہماری خودمختاری و آزادی کو زیر سوال لے جاتا ہے۔جس کے ذمہ دار خان کے مخالفین ہیں ۔چونکہ امریکہ تو ہر مسلمان ملک کا دشمن ہے ۔وہ تو ہمیں اپنی کالونی ہی سمجھتا ہے ۔اپنی خود مختاری کی حفاظت تو ہم نے خود کرنی ہے جو امریکہ کے مقابلے میں ہم نہیں کر پاتے ۔
ہاں خان نے امریکہ کو بھی کہا تھا کہ ہم تمھارے نوکر نہیں اور امریکی لابی کو چوک میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ رجیم چینج کا حصہ نہ بنو ۔یہ وطن کے خلاف سازش ہے ۔اس وقت حکومت ملنے کے لالچ میں پوری پی ڈی ایم بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے نچانے پہ ناچنے لگی اور خان کی ہر بات کو جعلی اور جھوٹ کہنے لگی جبکہ پاکستانی قوم کو سب معلوم تھا اسی لئے وہ خان کے ساتھ تھی ۔اب سائفر کیس کے فیصلے نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں امریکی مداخلت اور سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے ملکی ادارے اور سیاستدان اس کے باوجود اپنا قبلہ درست کرتے ہیں یا نہیں۔
جب سے عمران خان نے سائفر کی بات کی تھی تو تب سے امریکہ اور امریکی لابی یعنی پی ڈی ایم کا ایک ہی بیانیہ تھا کہ سائفر جعلی ہے اور خان نے اپنی حکومت بچانے کیلئے یہ جھوٹ گھڑا ہے ۔اس کی کوئی واقعیت نہیں۔ اب عدالت نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ سائفر اور پاکستان میں امریکی مداخلت و سازش ایک حقیقت ہے۔ عمران خان کے مخالفین اور پاکستان میں امریکہ کے آلہ کار تمام سیاسی و غیر سیاسی عناصر بھی اس فیصلے سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔
یہ تو ملکی و قانونی عدالت تھے اب آٹھ فروری کو انتخابات کی صورت میں عوامی عدالت لگے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ عمران خان کے مخالفین عوامی عدالت میں بھی منہ کی کھائیں گے۔

آپ کا فیڈ بیک


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly