انتخابات میں حصّہ "ہاں یا نہیں"
تحریر: ساجد مطہری


جمہوریت اور ڈیموکریسی جسے عوامی حکومت کہا جاتا ہے، اس طرز حکومت میں عوام کی اکثریتی رائے قانونی اور آئینی حیثیت رکھتی ہے۔اگر جائزہ لیا جائے تو جمہوریت خوبیاں بھی رکھتی ہے اور خامیاں و نقائص بھی۔
ویسے تو دنیا میں کئی طرز حکومت رائج ہیں، جیسے آمریت (ڈکٹیٹرشپ)،democracy (جمہوریت)، So-called damocrecy(نام نہاد جمہوریت) یعنی ایسی جمہوریت جو فوج یا کسی دوسری قوت زیر سایہ وجود میں آتی ہے، پاکستان میں اس وقت نام نہاد جمہوریت چل رہی ہے۔
جمہوریت کا سب سے بڑا نقص اور عیب یہ ہے کہ جمہوریت میں دانشور اور جاہل کی رائے برابر اور یکساں ہوتی ہے،حالانکہ قرانی نقطہ نظر سے عالم اور جاہل برابر نہیں ہیں۔
جمہوریت میں ملاک و معیار اکثریت ہوتی ہے جبکہ قرانی نقطہ نگاہ سے اکثریت معیار نہیں بلکہ حقانیت معیار ہے اگرچہ وہ اقلیت ہی کیوں ہو۔ جمہوریت میں عوام فیصلہ کرتی ہے جبکہ قرانی اعتبار سے یہ حق صرف اللہ کو حاصل ہے۔
جمہوری نظام میں بعض عہدے اور مناصب کو عمومی قوانین سے استثناء حاصل ہے جبکہ اسلامی طرز فکر کے مطابق تمام افراد قانون کے مقابلے میں برابر ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے موجودہ موجودہ نظام میں الیکشن کے دوران دھاندلی کی شرح بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ خلائی مخلوق کا بھی انتخابات میں عمل دخل ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا تمام حقائق کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انتخابات میں شیعہ اہم رول اور کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، وہ اپنے ووٹ کے ذریعہ سے بد اور بدتر کے مابین اقل الضررین کی بنیاد پر بد کا انتخاب کرکے بدتر کا راستہ روک سکتے ہیں جبکہ صالح اور اصلح کے درمیان اصلح کے لیے راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔
اگر کسی حلقہ میں شیعہ مخالف تکفیری کے مقابلے میں کوئی معتدل سنی کھڑا ہے تو انکا ووٹ تکفیری اور ناصبی کا راستہ روک سکتا یے۔
ملک بھر میں ایسے بھی علاقے ہیں کہ جن میں شیعوں کی اکثریت ہے تو کیا یہ عقلمندی اور ہوشیاری ہے کہ وہ اس مفروضے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہاتھوں کو ہاتھوں پر رکھ کر بیٹھ جائیں کہ چونکہ ولایت فقیہ کا نِظام نافذ نہیں ہے اور ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، شیعہ مخالف تنظیمیں ہم پر حکومت کرتی رہیں؟
بھلا! کیا یہ عقل مندی ہے کہ پاراچنار جیسے شیعہ اکثریتی خطہ میں ہم انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور عید نظر جیسے متعصب ناصبی ممبر منتخب ہو کر علاقے کی نمایندگی کریں؟
کیا ایسا کرنا منطقی ہے کہ جھنگ کے شیعہ نظام کو طاغوتی سمجھ کر انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور لدھیانوی اور معاویہ اعظم جیسے تکفیری اور ناصبی منتخب ہو کر شیعوں کے خلاف قراردادیں پاس کرتے رہیں؟
کیا ایسا کرنا ہوشیاری اور سیاسی بصیرت پر مبنی ہوگا کہ ہنگو کے شیعہ انتخابات سے لاتعلق رہیں اور مولوی ظفرالرحمن جیسا فتنہ گر علاقے میں شیعوں کا جینا حرام کر دیں؟
یقیناً ان سب کا جواب منفی میں ہوگا۔۔۔۔لہذا آئیے! بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات سے لاتعلق رہنے کے بجائے ملک کی تقدیر بدلنے میں اپنا حصّہ ڈالیں۔

فیڈ بیک

رابطہ برائے میڈیا ورکشاپ


افکار و نظریات: google, print, voice, nation