🇵🇰قومی امنگوں کی ترجمان مجلس وحدت مسلمین🇵🇰

ایم اے راجپوت

جب یہ تحریر لکھی جارہی ہے اس وقت تک 98 فی صد نشستوں کے نتائج آچکے ہیں ۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان اپنے خیمے کے نشان سے این اے 37 سے جناب حمید حسین صاحب کو قومی اسمبلی اور جناب راجہ اسد عباس صاحب کو پی پی 18 سے پنجاب اسمبلی میں پہنچا چکی ہے۔ان کے علاہ این اے 230 سے پی پی کے آغا رفیع اللہ کو قومی اسمبلی پی بی 88 سے پی پی کے سید مزمل شاہ کو سندھ اسمبلی تک پہنچانے میں بھی مجلس وحدت کا مرکزی کردار ہے ۔اور اس سے بڑا کردار موجودہ حالات میں امریکی غلاموں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کا ساتھ دینا ہے ۔
اس وقت تک موصولہ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی سب سے زیادہ سیٹیں ہیں۔پی ٹی آئی کی اس واضح برتری میں بھی مجلس وحدت مسلمین کا کردار نمایاں ہے ۔پی ٹی آئی کے ان 99 ایم این ایز میں سے اکثر کی کمپین مجلس وحدت مسلمین نے بھی چلائی اور انھیں کامیاب بنایا۔
اسی طرح خیبر پختونخواہ اسمبلی میں مجلس وحدت مسلمین کے تعاون سے پی ٹی آئی کو اتنی بر تری ملی ہے کہ وہاں اپوزیشن نہ ہو نے کے برابر ہے ۔لہذا کہا جا سکتا ہے کہ اب صرف گلگت بلتستان اسمبلی نہیں بلکہ پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بھی شیعہ قوم کی حقیقی ترجمان جماعت کی صدا گونجے گی۔
کافی عرصے سے قوم کی خواھش تھی کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہماری قومی ترجمانی بھی ہوتی جسے مجلس وحدت مسلمین نے پورا کر دیا ہے ۔یہ راستہ شہید قائد نے دکھیا تھا۔مراجع عظام تقلید بھی اسی راستے کی تاکید کرتے ہیں ۔اور مجلس وحدت مسلمین نے اپنے شہید قائد کے بتایے ہوئے راستے کو اپنے لئے نمونہ عمل بنا کر آج یہ منزل طے کی ہے جو ان شاءاللہ رکے گی نہیں۔
قومی اسمبلی میں جناب حمید حسین صاحب تنھا نہیں ہوں گے۔پی ٹی آئی کے شیعہ سنی ارکان اور اسی طرح دیگر جماعتوں کے معتدل خصوصا شیعہ ارکان اسمبلی کو ساتھ ملاکر شیعیت کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنا سکیں گے۔صوبائی اسمبلیوں میں بھی ایسا ہی ہو گا ۔ان شاءاللہ اب کسی اسمبلی میں شیعیت کے خلاف سازشی بل لانے کی جرئت کوئی نہیں کرے گا۔اور اگر کسی نے کی تو اسمبلی میں شیعیت کے ترجمان بیٹھے ہوں گے جو چور دروازے سے آنے والے بل کو بل میں ڈال دیں گے۔
ماضی میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تکفیری پہنچ جاتا تھا۔قوم کا ہر فرد سوچتا تھا ایسے لوگوں کا راستہ کیوں نہ روکا گیا۔اس دفعہ الحمد للہ مجلس وحدت مسلمین نے ایسی پالیسی اپنائی کہ تقریبا سب تکفیریوں کو شکست ہوئی بلکہ ان کے بعض سپوٹروں کو بھی اسمبلی سے آوٹ کرا دیا۔فیصل آباد این اے 100 سے رانا ثناءاللہ کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ڈاکٹر نثار جٹ کو سپورٹ کر کے اسے اسمبلی تک پہنچایا ہے اور سپاہ صحابہ کے حامی رانا ثناءاللہ کو شکست دلوائی ہے۔
8 تکفیری مولوی جو شیعہ کے خلاف سازشوں میں سب سے آگے آگے ہوتے تھے انھیں شکست فاش دلوائی ہے۔مجلس وحدت کا اتحاد پی ٹی آئی سے تھا لیکن جب دو حلقوں میں دیکھا کہ یہاں پر تکفیری مولوی کے مقابل پی پی کا امید وار مضبوط ہے اور اگر ہم اسے سپورٹ کریں تو وہ جیت سکتا ہے تو ان حلقوں میں پی ٹی آئی سے معذرت کر کے پی پی امید وار کی سپورٹ کی گئی ۔یوں این اے 230 سے اورنگزیب فاروقی اور پی ایس 88 سے خورشید ھزاروی جیسے تکفیریوں کو سبق سکھایا۔
باقی 6 حلقے جن میں تکفیری مولوی تھے ان کے مقابل مجلس وحدت کی اتحادی جماعت پی ٹی آئی کے امید وار مضبوط تھے مجلس نے انھیں زبردست طریقے سے سپورٹ کیا اور حق نواز جھنگوی کے بیٹے مسرور نواز جھنگوی پی پی 127،رمضان مینگل این 263 ،مولوی عصمت اللہ این اے 37،احمد لدھیانوی این اے 109،آصف معاویہ این اے 110،اور اکبر چترالی (سازشی بل لانے والا)این اے 1کو شکست دلوا کر اسمبلیوں سے باہر پھینک دیا۔
اب یہ مولوی اسمبلیوں میں ہوں گے ہی نہیں ۔سینٹ میں ان کی حمایت کرنے والوں کی مدت بھی مارچ میں ختم ہونے والی ہے ۔اور ان شاءاللہ آئندہ سینٹ میں بھی شیعیت کی نمائندگی ہو گی اور قومی امنگوں کا تحفظ کرنے والے نظر آئیں گے۔
ان تمام کامیابیوں کا کریڈٹ قائد وحدت ناصر ملت قبلہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب اور شعبہ سیاسیات خصوصا برادر اسد عباس نقوی صاحب کو جاتا ہے۔ناصر ملت اور ان دوستوں نے شب و روز ایک کر کے محنت کی تاکہ قوم کی امنگوں کو پورا کر سکیں۔اور آج اللہ تعالی نے سرخرو کیا ۔ہر قسم کے ظلم و نا انصافی کے باوجود مجلس وحدت اسمبلیوں میں پہنچ گئی ہے۔اس کی اتحادی جماعت کی اکثریت ہے ۔اور تکفیری اسمبلیوں سے آوٹ ہو گئے ہیں۔یہ بڑی بڑی کامیابیاں مجلس وحدت کی قیادت کی بصیرت اور ان کے ساتھیوں کی محنت کا ثمر ہیں۔اور قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔

تعلیم کے بغیر تبلیغ کا اُسترا


افکار و نظریات: google, print, voice, nation