علامہ ناصر عباس جعفری کا نام

تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا


موجودہ انتخابات کے بعد مجلس وحدت مسلمین کی حکمتِ عملی نے کچھ کے منہ بند کر دئیے ہیں اور کچھ کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ہیں۔

اس کامیابی کی ابتدا اُسی دن ہوگئی تھی جس دن ایم ڈبلیو ایم نے پاکستان تحریک انصاف کیساتھ ایک سیاسی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔

جب پی ٹی ائی کے کارکنوں اور قائدین کے خلاف سخت ایکشن شروع ہوا تو علامہ راجہ ناصر عباس نے گرفتاری دی، جب عمران خان کو مقدمات میں پھنسا کر نااہل قرار دیا گیا تب ان کی حمایت میں بیانات جاری کیے۔ ملک میں امریکی مداخلت اور سازش نیز رجیم چینج آپریشن کو ملکی وقار اور قومی غیرت کے منافی قرار دیا۔ اسی وجہ سے ایم ڈبلیو ایم نے عمران خان کیساتھ سیاسی اتحاد کیا اور ساتھ دیا۔
لمحہ بھر کیلئے بھی مجلس وحدت مسلمین اپنے اصولی موقف سے بھی نہیں ہٹی۔ راجہ ناصر عباس، عمران خان کے اتنے قریب ہو گئے کہ تکفیری ٹولہ پی ٹی آئی کے سیاسی وزن کو، وسیع اور مضبوط ووٹ بینک ہونے کے باوجود، اپنے حق میں استعمال کرنیکی پوزیشن میں نہیں رہا۔
شیعہ عمامہ پوش لیڈر کی موجودگی میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی کہ وہ پی ٹی آئی سے سیاسی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا عارضی بھائی بندی بنا سکیں۔

اسی طرح شیعہ ووٹر بالخصوص شیعہ یوتھ کی حمایت بھی عمران خان کی وجہ سے ایم ڈبلیو ایم کو مل گئی۔ اب یہ پاکستان کی تاریخ میں منفرد سیاسی کامیابی ہے، جس کی نظیر تحریک پاکستان کی کامیابی میں اہل تشیع کے نمایاں کردار سے کم نہیں۔

تاریخ میں جب بھی پاکستان میں جمہوریّت کے استحکام، استعماری و امریکی نفوذ کے انخلا، جابر طاقتوں کے سامنے ڈٹنے اور نظریات پر سمجھوتہ نہ کرنے کی بات ہوگی تو علامہ ناصر عباس جعفری کے ذکر کے بغیر وہ بات مکمل نہیں ہو گی۔

فیڈ بیک


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly