شوہروں کی اقسام

پہلی قسم ایسے شوہروں کی ہے جو خود کو اپنی بیویوں کے سامنے ہر وقت قائداعظم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔گلی کے مودے دکان والے سے لے کر شکورے حلوائی تک سب سے قرض لے لے کر اپنی بیوی کے سامنے اپنے نمبر بنانے کی کوشش میں ہی لگے رہتےہیں۔ یہ اپنے بہن بھائیوں پر پھوٹی کوڑی بھی خرچ نہیں کرتے۔ یہ خاندان میں مشہور ہوجاتے ہیں کہ چمڑی جائے مگردمڑی نہ جائے۔یہ بیوی کی ناک کے بال بنے رہتے ہیں، پھر بھی انہیں بیوی ہمیشہ یہی کہتی ہے فلانی کے شوہر کو دیکھو ، اس کی گاڑی، اس کا گھر، اس کا لباس، اس کا بنگلہ لہذا ڈو مور ۔ یہ بے چارے کبھی انگلش یاد کرتے ہیں، کبھی اپنے آپ کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کیلئے بیوی کو اپنے قصے سناتے ہیں، کبھی بیوی سے کہتے ہیں کہ مجھے تم بھی ڈاکٹر صاحب، وکیل صاحب، انجینئر صاحب کہہ کر پکارا کرو، کبھی گھر کی دیوار پر اپنی بڑی سی تصویر فریم کروا کر لگاتے ہیں۔اس کے باوجود یہ اپنی بیوی کی نگاہ میں اُٹھ نہیں سکتےان کی بیوی ہمیشہ انہیں یہی کہتی رہتی ہے کہ تم نے میری ناک کٹوا دی۔ سال کے بارہ کے بارہ مہینے ان سے ان کی بیوی سمیت سب دوست و عزیز اور رشتے دار ناراض ہی رہتے ہیں ، انہیں خود بھی اس ناراضگی کی وجہ سمجھ نہیں آتی ۔
دوسری قسم کے وہ خاوند ہیں جو اپنی بیوی کو علامہ اقبال سمجھتے ہیں۔ ہر جگہ اپنی بیوی کی شان میں مقالات پڑھتے، اور بیوی کے اقوال و فرمودات کی تشریح و تفسیر کررہتے ہیں۔ خوشی ہو یا غم ان کی اپنی نہیں ہوتی بلکہ ان کی بیوی کے رشتے داروں کی ہوتی ہے۔ اگر سسرال کے ایک جنازے سےرو روکر اٹھتے ہیں اور تصویروں اور مووی میں روتے ہوئے نظر آتے ہیں تو اُسی دن بیوی کی سہیلی کی بچی کی برتھ ڈے پر ہنستے ہوئے اور قہقہے لگاتے ہوئےنظر آتے ہیں۔
تیسری قسم کے شوہر اپنی بیویوں کو آسمانی بجلی کی طرح ناگہانی سمجھتے ہیں۔ان کی بیویاں ہمیشہ چابک لئے ان کے ساتھ بیٹھی رہتی ہیں۔ان کے شوہر بڑے افلاطون بنے پھرتے ہیں لیکن ان کے بیگ میں کیا چیزں ڈالنی ہیں یہ ان کی بیویوں کو پتہ ہوتا ہے۔ یہ اپنے شوہروں کی مسواک کی لمبائی سے لے کر پائنچے کی چوڑائی تک خود طے کرتی ہیں۔ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ بچے کا نام اناردانہ رکھنا ہے یا چپاتی ؟ دہی مذکر ہے یا مونث؟ گاڑی کو کس اسٹاپ روکنا ہے؟ کہاں پر گاڑی سے اترنا ہے اور روڈکے کس طرف چلنا ہے ! فطرانہ کسے دینا ہے اور افطاری پر کس کو بلانا ہے یہ ان کی بیویاں ہی فیصلے کرتی ہیں۔ گاڑی میں شوہر کو فرنٹ سیٹ پر بٹھاتی ہیں اور پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ کر شوہر کے کان میں مسلسل کچھ بڑبڑاتی رہتی ہیں۔
جیسے ہی شوہر کچھ عرض کرنے لگے تو فورا چلا کراُسے چابک مار دیتی ہیں۔ ایسے شوہروں کے بارے میں لوگ سوچتے رہتے ہیں کہ ان کے خاندان میں تو کوئی گنجا نہیں پھر یہ کیوں گنجے ہیں؟ ان کا تو کوئی سخت کام نہیں پھر یہ ہمیشہ بیمار کیوں رہتے ہیں؟ یہ تو جب چاہیں سو جائیں پھر ان کے سرمیں درد کیوں رہتا ہے؟ لوگوں کو کیا پتہ کہ چابک کتنی بُری بلا ہے؟
شوہروں کی چوتھی جماعت وہ ہے جو اپنی بیویوں کو فلاسفر سمجھتے ہیں۔ ان کی بیویاں انہیں جس کام پر چاہیں لگا دیتی ہیں اور پھر کہتی ہیں، یہ تو ہے ہی ایسا۔۔۔یہ تو خود ہی کسی کام کا نہیں۔ایسے بیویاں شوہروں سے کام لینے کے بعد فلسفیانہ دلیلوں سے یہ ثابت کر دیتی ہیں کہ یہ تو تمہارا اپنا قصور ہے ہم نے تو پہلے ہی منع کیا تھا۔ ایسے لوگ بیویوں کو فلسفی سمجھتے ہوئے اپنی بیویوں کو پریاں اور حوریں اور خود کو خطا کے پتلے سمجھتے ہیں۔ کوئی مسئلہ ہو یا نہ ہو بیوی سے رائے لینا ان کا اوّلین فریضہ ہے اور ہر دفعہ بے عزتی کے بعد سب سے یہ کہنا کہ یہ میری بیوی کا نہیں میرا اپنا قصور ہے۔ لہذا یہ سارے خاندان میں اپنے آپ کو بے وقوف اور اپنی بیویوں کو عقلمند مشہور کر دیتے ہیں۔
شوہروں کی پانچویں قسم وہ ہے جنہیں بیوی کے رشتہ داروں سے خدا واسطے کا بیر ہوتا ہے۔ یہ بھلے مانس کم ظرف سے کم ظرف بیوی کے ناز اٹھا سکتے ہیں لیکن سسرالی رشتہ داروں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بیوی ہمیشہ ان پر یہ ثابت کرنے میں لگی رہتی ہے کہ اس کے خاندان والے بہت زیادہ مالدار، بہت زیادہ پیسے والے اور بہت زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے میاں کو سب پتہ ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ خاموشی سے بیوی کی باتیں سنتے رہتے ہیں اور بیوی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ان کے سارے سسرالی رشتے دار جو ان کی بیوی کے بقول انتہائی مالدار، شریف اور پڑھے لکھے ہوتے ہیں وہ خاوند صاحب کو شکار کرنے کا موقع ڈھونڈتے رہتے ہیں۔یہ رشتے داروں کی آمد کے وقت اتنے تھکے ہوئے ہوتے ہیں کہ مہمان سے بات تک نہیں کر سکتے۔ بیوی اس بے رخی پر پنجے جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑی رہتی لیکن یہ بار بار جھوٹی قسمیں کھا کر اسے یقین دلاتے ہیں کہ آج ہماری طبیعت ناساز ہے۔
شوہروں کی چھٹی قسم بیویوں کےوکیل کہلاتی ہے۔ انہیں بیویاں سست، کاہل، نکما، نکٹھو جیسے الزامات سے یاد کرتی ہیں۔ اس کے باوجود یہ ہر مہینے میں نہ سہی تو ہر دومہینوں میں ایک مرتبہ چھٹی کر کے یا دکان بند کر کے خاندان والوں کے ساتھ بیویوں کے مقدمات لڑتے ہیں اور کچہریاں کرتے ہیں۔ چھٹی لیتے ہی سب سے پہلے یہ بیویوں کی سہیلیوں کے سامنے وکیل صفائی کے طور پر پیش ہوتے ہیں۔ وہاں سے جو وقت بچتا ہے وہ محلّے اور خاندان کی خواتین کو بیوی کی صفائیاں دینے میں گزر جاتا ہے۔ وہ خواتین کے ساتھ الگ جرگے اور مردوں کے ساتھ الگ کچہریاں کرتے ہیں۔ جب بھی واپس گھر آتے ہیں تو بیوی خوب ڈانٹتی ہے کہ تم نے یہ کیوں نہیں کہا اور یہ دلیل کیوں نہیں دی؟ بیوی سے ڈانٹ ڈپٹ کے بعد ہمیشہ وہ یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگلی دفعہ چھٹی لے کر پھر جائیں گے اور زنانہ عدالتوں نیز مردانہ کچہریوں میں ان نکات کو از سرِ نو پوری طاقت سےاٹھائیں گے۔
چنانچہ ان کی ساری چھٹیاں، ذہنی سکون ، اورجسمانی توانائیاں بیوی کے مقدمات لڑتے صرف ہوجاتی ہیں۔ بعض موقعوں پر انہیں بیوی کے دفاع میں دلیلوں کے بجائے، آنسووں، ٹھنڈی آہوں، سسکیوں، بد دعاوں اور جھوٹی قسموں سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ خواتین کے جرگے میں بعض اوقات انہیں اس وقت سخت خطرہلاحق ہو جاتا ہے جب ان کی بیوی کی سہیلی، یا کوئی ہمسائی،ان کی بیوی کا نام لے کر مسلسل گالیوں کی بوچھاڑ کر رہی ہو اور ساتھ ساتھ اپنی جوتی کو بھی ہوا میں لہرا رہی ہو۔
بڑی عمر کی ساری عورتیں انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتی ہیں چونکہ یہ اپنی بیوی کا ایسا جانانہ اور دلبرانہ دفاع کرتے ہیں کہ بوڑھی سے بوڑھی اور جرگوں کی تجربہ کار عورت بھی ان سے مات کھا جاتی ہے۔ اس کے باوجود ان کی بیوی کو ان سے شکایت رہتی ہے کہ انہوں نے ڈٹ کر بات نہیں کی اور مقدمہ اچھی طرح نہیں لڑا۔

نوٹ:۔

یہ تحریر بیویوں سے چھپا کر رکھیں اور سب شوہروں کے موبائلوں میں ہونی چاہیے۔ کنواروں کے مفاد میں ہے کہ شادی سے پہلے حکیم صاحب کے پاس جاتے ہوئے راستے میں اسے ایک مرتبہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کر لیں۔

دانشمندوں کی اقسام

خواتین کی اقسام


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly