بزمِ خراج عقیدت
/____کمیل گردیزی______/
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
/__________/


قم المقدس میں شہدا کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک محفل میں جانے کی توفیق نصیب ہوئی۔
بزم سے مجھے یہ پیغام ملا کہ شہادت سب کو نصیب ہو سکتی ہے۔ البتہ اس کیلئے ہمیں اپنی زندگی کو اپنی شہادت کا مقدمہ بنانے کی ضرورت ہے۔
ملک خداداد پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے۔ اس ملک نے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ سیاسی انحطاط ہو یا بین المسالک کشیدگی، اقتصادی بحران ہو یا اخلاقی گراوٹ اس ملک نے سب کچھ دیکھا ہے۔ کرپشن، انتشار اور فساد کسی چیز کی کبھی کمی نہیں رہی۔
یہ عظیم اور مدبر شخصیات ہی ہیں جن کی وجہ سے یہ ملک آج تک باقی ہے۔

ہاں تو بات کر رہا تھا، محفل کی۔ رمضان کی پہلی شب بھی تھی اور شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی و سید ثاقب اکبر مرحوم کی یاد کی محفل تھی۔ زمان و مکان کی کاموں پر ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔
مجلس وحدت المسلمین شعبہ قم کی جانب سے شہر علم و اجتہاد قم المقدس میں یہ محفل اپنی مثال آپ تھی۔

محفل کا آغاز کلام مجید کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد مجلس وحدت المسلمین قم کے صدر علامہ سید شیدا حسین جعفری نے بزم خراج عقیدت کا افتتاحیہ بیان کیا۔ انہوں نے شہید ڈاکٹر کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کا واقعہ سنانے کے بعد اپنے تاثرات کچھ اس طرح سے بیان کئے کہ شہید ڈاکٹر نقوی میں ذرہ بھر انانیت نہیں تھی۔ سادہ اور نفیس مزاج شخصیت تھے۔ شہید نے اپنی زندگی میں یی شہید ہو چکے تھے۔
اب برادر رفیق انجم صاحب نے ترانہ شہادت پڑھ کر محفل کے حسن کو مزید بڑھا دیا۔

بعد ازاں مجلس وحدت المسلمین پاکستان شعبہ امور خارجہ کے مسئول حجۃالاسلام ڈاکٹر سید شفقت شیرازی نے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی اور انکے قریبی دوست مرحوم سید ثاقب اکبر کی علمی اور عملی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا ان دونوں کی پاکستان کے لئے عظیم خدمات ہیں۔ ان کی خدمات سے نہ صرف اہل تشیع بلکہ پورے پاکستان کو فائدہ پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بڑے بڑے بحران آئے مگر مدبر شخصیات نے طوفانوں کا رخ موڑا۔ عظیم شخصیات میں سے ایک بڑا نام قائد شہید علامہ عارف حسین الحسيني کا بھی ہے۔ جن کی خدمات کوئی بھلائے نہیں بھول سکتا۔ شہید نقوی اور مرحوم ثاقب اکبر امام خمینی اور شہید قائد کے لگائے ہوئے دو پودے تھے۔
سچ پوچھیں تو اس وقت پاکستان میں استعمار کی مخالفت اور امریکہ سے آزادی کی باتیں ہو رہی ہیں یہ ایسی ہی شخصیات کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
آخر میں عرض کروں گا کہ شہدا کی یاد منانا بھی شہادت سے کم نہیں، شہدا کا ذکر مردہ دلوں اور منجمد دماغوں کو زندگی عطا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شہدا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں، لکھیں اور ان کے راستے کو اپنائیں۔

کل کی بات


افکار و نظریات: news, twitter, islamic, face