احمد جاوید صاحب کے

اندازِ فکر کا مختصر جائزہ

ابو محسن

اخوان المسلمین کی سالہا سال کی مسلسل قربانیوں کے بعد، مصر میں آمرانہ نظامِ حکومت کا تختہ الٹا اور ڈاکٹر مرسی پہلے اخوانی صدرِ مملکت کے طور پر منتخب ہوئے۔اخوان المسلمین کے ساتھ اپنے دیرینہ سیاسی فکری تعلقات کی بنیاد پر اس انتخاب کو ایران میں ایک نیک شگون کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

کچھ ہی عرصہ بعد غیر وابستہ ممالک کی تحریک(NAM) کے اجلاس میں شرکت کیلئیے ایران میں انقلاب کی کامیابی کے بعد پہلی بار مصر سے ایک اعلی سطحی شخصیّت تہران آئی۔
ڈاکٹر مرسی کیلئے اس سطح کے اجلاس میں اپنے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کو بیان کرنے کا بڑا اچھا موقع تھا۔

اب دیکھنا یہ تھا کہ وہ اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنے میزبان ملک کی توقعات کے برعکس شام کی حکومت کے خلاف انتہائی جارحانہ موقف تو اختیار کیا ہی کہ جس کے نتیجے میں شامی وفد نے احتجاج کے طور پر تقریر کا بائیکاٹ کیا، لیکن اس سے پہلے سرنامہ کلام میں انہوں نے خلفائے راشدین پر بطورِخاص درود بھیجا۔
مجھے سرِدست اس رویےّ کے صحیح اور غلط ہونے سےکوئی سروکار نہیں ہے لیکن سیاسی فضا میں اس غیر ضروری“منفرد انداز” کے معنی اور مفہوم کو سمجھنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ اس طرز بیان کا مقصد تو اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ میزبان کے سامنے اپنا “مذھبی فکری تقابُل “رکھنا چاہتے ہیں۔
کچھ ہی عرصہ بعد مصری شیعہ شخصیّت حسین شحاتہ کو ان کے تین ساتھیوں کے ہمراہ کچھ سلفی فکر کے مالک افراد نے اپنے گھر سے نکالا، ان کے گلے میں رسیوں کا پھندا ڈال کر انہیں گلیوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر سب کے سامنے شہید کر دیا۔

اسی طرح کے واقعات کچھ اور علاقوں میں بھی پیش آئے۔ لیکن مصری حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی جس کی وجہ سے کم از کم عالم تشیع میں غم و غصّے کی ایک لہر دوڑ گئی۔

انتہائی کم سیاسی عمر کے دوران مرسی حکومت کا تیسرا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنا سفیر تل ابیب بھیج کر صہیونی حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ امریکہ اور یورپین ممالک سے بھی خوشگوار تعلقات رکھنے کا اعلان کیا۔

سعودی اور قطری حکومتوں سے مالی امداد لے کر اپنے گذشتہ تعلقات برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا۔
اب یہ سیاست صحیح تھی یا غلط؟مجھے سردست اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ البتہ یہ رویےّ ایرانی حکومت کو نہ صرف پسند نہیں آئے بلکہ ان کی نظر میں یہ ان کے ساتھ “مکمل محاذ آرائی”کا عندیہ تھا۔
کچھ ہی عرصہ بعد ہوا وہی جو ہونا تھا، مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ گیا۔کہا یہ جاتا ہے کہ اس کے پیچھے مغربی ممالک کی حمایت اور عرب ممالک خاص طور پر خدّامِ حرمین شریفین کا با برکت سرمایہ تھا۔ لیکن مجھے یہاں اس مسئلے کے صحت اور سقم سے بھی کوئی سروکار نہیں۔
اب ان حالات میں مجھ جیسی فکری سطح کے مالک افراد کے نزدیک، جب ایک حکومت آپ کے ساتھ “مذھبی تقابل”کا غیرضروری اعلان پوری دنیا کے سامنے کرئے۔

آپ کے ہم مسلک افراد کا جینا دوبھر کر دے اور آپ کی ناراضگی کی بالکل کوئی پرواہ نہ کرے اور آپ کے خونی دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائے، ایسی حکومت کا تختہ الٹنے پر ہونا تو یہ چاہئیے کہ آپ خوشی سے پھولے نہ سمائیں۔
ہماری توقعات کے بالکل برعکس، اس ملک کے راہنما نے ان تمام حقائق اور ڈاکٹر مرسی کی ذاتی سادہ لوحی اور سیاسی ناپختگی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے، اخوانی حکومت کا تختہ الٹنے پر، یہ کہتے ہوئے گہریے دکھ اور رنج کا اظہار کیا کہ یہ حکومت، اخوان المسلمین کی کئی سالوں کی قربانیوں کا نتیجہ تھی اور ان کی اتنی محنت اور قربانیاں ضائع ہو گئیں۔

ان کےمطابق یہ اسلام پسندوں کی علمبردار حکومت تھی۔ اس کے بعد اسلام پسند مزید کمزور ہو جائیں گے۔ اس حکومت کا تختہ الٹنے سے سیاسی اسلام کو شدید دھچکا لگا ہے۔ جس کے بعد سیاسی اسلام کی طاقت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے، جو نہیں ہونی چاہئیے تھی۔
مزید میں محترم احمد جاوید صاحب کی خدمت میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہوں گا صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ اپنے آپ کو قومی دانشور سمجھتے ہوئے اپنے اندازِ فکر پہ بھی نگاہ کیجئیے اور اس اعلی ظرفی،بلند فکری اور دوراندیشی کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔

البتّہ بقول شاعر:
چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک

احمد جاوید صاحب کی

روشِ استدلال کا مختصر جائزہ


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly