جناب احمد جاوید صاحب کی

روشِ استدلال کا مختصر جائزہ

ابومحسن
سب سے پہلے اس بات کی یادآوری ضروری ہے کہ موصوف نے اپنی گفتگو میں اس بات پہ بہت تعجُّب کا اظہار فرمایا ہے کہ میں نے ایرانی نظام حکومت پہ اعتراض کیا ہے اور یہ نظام بھی دوسریے نظام ہائے حکومت کی مانند ایک نظام ہے اس کے دفاع کی خاطر اتنے سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ یہ اعتراض نظامِ ولایت فقیہ سے عدم آگاہی کی دلیل ہے چونکہ جو افراد اس نظام کو قبول کرتے ہیں وہ اسے نظامِ امامت کا تسلسل سمجھتے ہیں اور نظام ولایت پہ تنقید کو نظامِ امامت پہ تنقید سمجھتے ہیں اور جس طرح نطامِ امامت پہ تنقید کو قومی مسئلہ سے ماوراء سمجھتے ہیں اسی طرح اس نظام پہ نظریاتی تنقید کو قومی مسئلے سے ماوراء سمجھتے ہیں۔
بہرحال یہ ایک ضمنی مسئلہ تھا اس مرقومہ میں ہمارا بنیادی مقصد موصوف کے اپنے دعویے کو ثابت کرنے کیلئیے استعمال کیا جانے والا “طرزِ استدلال “(Method of reasoning)ہے۔چونکہ طرزِاستدلال کی صحَّت (validity)اور قوت سے ہی دعویے کی صحَّت اور قوت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔البتّہ یہ بات واضح ہے کہ طرزِاستدلال کے غیرمنطقی ہونے کا لازمی نتیجہ دعویے کا غلط ہونا تو نہیں ہوتا لیکن بہرحال دعوی اپنے صحیح ہونے (validity)کیلئیے ایک نئے اور قابلِ قبول طرزِاستدلال کا منتظر ضرور رہتا ہے۔
موصوف”آغا جواد نقوی!آپ بھی”کے عنوان کے تحت اپنی گفتگو کے آغاز میں اپنے طرزِ استدلال کی وضاحت کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ہم اپنی گفتگو میں ولایتِ فقیہ کے باریے میں نظریاتی دلائل کے بجائے عینی حقائق(concrete facts) کو بنیاد بنائیں گے اور مزید یہ کہ یہ طرزِ استدلال، نظریاتی طرزِ استدلال سے زیادہ محکم ہوتا ہے۔
الحادِ جدید کے حوالے سے ان کی کچھ گفتگووں سے اس طرز کا بہتر پتہ چلایا جا سکتا ہے جب وہ جدید الحاد کے باریے میں توضیح دیتے ہیں کہ اس نوع کا الحاد صرف اس دعویے کو قبول کرتا ہے جو عینی حقائق(concrete facts)کے ساتھ ھم آھنگ ہو ورنہ یہ الحاد اس دعویے کو ہی باطل سمجھتا ہے۔
اب یہاں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کیا کسی بھی نظریےکیvalidity کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے عینی حقائق سے ھم آھنگ ہو سادہ لفظوں میں جب کوئی نظریہ کسی معاشریے میں عملی جامہ پہنتا ہے تو اس کے معاشرتی رویّوں سے اس نظریے کی validity کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔نتیجہ یہ کہ اگر معاشرتی رویے ٹھیک نہ ہوں تو ہم اس نظریے اور سوچ کو غلط قرار دیے سکتے ہیں۔بالکل سادہ الفاظ میں یہ کہیں کہ
“کیا مسلمانوں کے اخلاق اور معاشرت کو دیکھ کر ھم کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی نظریہ غلط ہے؟”
میری سوچ کی مطابق بالکل ایسا نہیں ہے بلکہ ایک سوچ کے مکمل طور پر اپنی تمام تر شرائط کے ساتھ عملی جامہ پہننے کے بعد ہی اس سوچ کے باریے میں کوئی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ورنہ ممکن ہے نظریہ اور سوچ صحیح ہو لیکن مکمل طور پر عملی نہ ہو سکی ہو لہذا آپ اس کا غلط ہونا ثابت نہیں کر سکتے۔ہاں اگر ایک سوچ مکمل طور پر تجربیّتی(pragmatic)ہو ایک ایسی سوچ جب اپنی شرائط کے ساتھ معاشریے میں عملی ہو رہی ہو اور اس کے نامناسب نتائج سامنے آ رہے ہوں تو اس سوچ کو ان نتائج کی بنیاد پہ آپ غلط کہہ سکتے ہیں۔
بقول شیخ بہائی؛
اسلام به ذات خود ندارد عیبی
هر عیب که هست از مسلمانی ماست
بنابراین کسی سوچ کے عملی نمونوں کا لازمی نتیجہ یہ نہیں ہوتا کہ یہ سوچ ہی غلط ہے۔لہذا یہ طرزِ استدلال ہر مقام پہ کارساز نہیں ہوسکتا۔
دوسری بات یہ کہ اگر ان کی گفتگو میں بیان کئے گئے عیوب کو مان بھی لیا جائے تو نظامِ امامت کے پیروکاروں کا بالکل بھی یہ عقیدہ نہیں کہ نظامِ ولایت فقیہ ہر طرح کی لغزش سے محفوظ (infallable)نظام ہے لہذا اس میں عملی غلطی اور کوتاہی کی (theorically)گنجائش موجود ہے۔اور اس نظام کے حکّام کا بھی کبھی یہ دعوی نہیں رہا کہ وہ ہر طرح کی لغزش سے محفوظ ہیں بلکہ وہ ظہورِ حضرت امام مہدی عج کے بعد ایک آئیڈیل نظامِ حکومت کے منتظر ہیں۔
یہاں تک تو تھی ایک نظریاتی (theoric)گفتگو جہاں تک تعلق ہے حقائق کا تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اس طرح کے مسائل مغربی میڈیا کی طرف سے عام طور پر بیان کئے جاتے تھے ان کے اس غیر اخلاقی رویے کے پسِ پردہ دلائل کا تو ہر آزاد انسان کو علم ہے۔
اس سے ہٹ کر گلی کوچوں کے دو ٹکے کے ثروتِ عقل اور ثروتِ دنیا سے محروم ملّا کا بھی یہی وردِ زبان تو تھا ہی لیکن ہمارا آپ جیسے افراد کے بارے میں بہت ہی نیک گمان تھا کہ سنجیدہ اور بالیدہ فکر افراد کو ان حقائق کا علم ہے۔لیکن بہرحال بہت تعجُّب ہوا۔اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہوں گا۔

احمد جاوید صاحب کے اندازِ فکر کا مختصر جائزہ


افکار و نظریات: google, print, voice, nation