فطرانہ کسے دیں ۔۔۔؟؟
ساجد گوندل


ضروری نہیں کہ ضرورت مند ہمیشہ فقیر کہلانا پسند کرے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ضرورت مند میلے کچیلے کپڑے ، بڑھے ہوئے ناخن ، الجھے بال، ، پابرہنہ ، نحیف جسم اور پریشان سوچ کے ساتھ ہی ہمیں نظر آئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سفید کپڑوں میں ملبوس ہمارے درمیان بیٹھا وہ شخص کہ جس کی ہنسی اس کا ساتھ نہ دے رہی ہو ، جو بیٹھا تو ہمارے پاس ہو مگر ہو کہیں اور۔۔۔ جس کو بے روزگاری ، تنگدستی ، بھوک و افلاس اور قرض جیسی آفات نے گھیر رکھا ہو ۔۔۔جو محنت مزدوری کے باوجود تنگدست ہومگر وہ شکل و صورت سے فقیر نہ لگ رہا ہو ۔۔۔ ایسا سفید پوش ہمارے فطرانے کا حقدار ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسا خود دار اور غیرت مند جو ہرگز ہاتھ پھیلانے کے لیے تیار نہیں، مگر بیماری ،غربت اور وسایل کی عدم دستیابی نے اس کی کمر توڑ دی ہے، اس کیلئے ضروی ہے کہ شام کو وہ ہنستے منہ گھر جائے تاکہ اس سے وابستہ امیدیں کہیں ٹوٹ نہ جائیں اور کہیں بیٹھے ہم اگر کسی کو پانچ سو یا ہزار سے نوازتے ہیں تو وہ بھی جیب سے سو ، دوسو نکال کے دیتا ہے تاکہ اس کا معاشرتی بھرم باقی رہے ۔۔۔اس کے پاس ایک سال کا تو دور کی بات ہے ، ایک ہفتے کا بھی خرچ نہیں ہوتا۔ اپنی طرف سے کام کاج میں بھی لگا رہتا ہے لیکن اُس کی آمدن سے اُس کا خرچ پورا نہیں ہوتا ، اگر آپ ایسے کسی شخص کو جانتے ہیں تو وہ بھی آپ کے فطرانے کا مستحق ہے۔
ہیں ایسے بہت سے افراد ہیں۔۔۔۔ہمارے ہی شہروں میں ۔۔۔۔۔۔ہمارے ہی گاؤں اور دیہاتوں میں۔۔۔۔ہمارے ہی محلوں و گلیوں میں اور حتی بعض اوقات تو ہمارے ہی اپنےگھروں میں ۔۔۔۔۔مگر ہمارے خیالات میں ضرورت مند یعنی جو کام کاج چھوڑ کر کشکول اٹھا لے۔ جو ہمارا رشتہ دار نہ ہو ، جو ہمارا قریبی نہ ہو، جو ہمارا ہمسایہ نہ ہو۔۔۔ المختصر ہمیں اپنے نزدیکیوں میں کوئی فطرانے کا حقدار ملتا ہی نہیں ۔۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟ کیوں کہ ہمارے دماغوں میں فطرانے کے حقدار کی غلط تصویر بٹھا دی گئی ہے۔۔۔
عید عربی کے لفظ عُود سے ہے کہ جس کا مطلب ہے بار بار آنا ، پلٹ کر آنا ۔۔۔۔ یہ اس لیے آتی ہے کہ کہیں ہم اپنوں کو بھول تو نہیں گئے ، کہیں دوریاں بڑھ تو نہیں گئیں ، کہیں پیار ، محبت ، احسان ، ایثار اور احساس جیسے جذبات دب تو نہیں گئے ، کہیں بہن، بھابی، ہمسائی ، یا بھائی مالی حالات سے پریشان تو نہیں، کہیں ہمارے بھانجے یا بھتیجے فیسیں نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے تو پیچھے نہیں رہ گئے، کہیں ہمارا ہمسایہ قرض کے بوجھ تلے تو نہیں دبا ہوا۔۔۔یہ عید اس لیے بار بار آتی ہے اور اسی لیے اس کو عید کہتے ہیں ۔۔۔ لہذٰا اس بار کوشش کریں اپنوں کو ڈھونڈیں ۔۔۔۔یقین کریں ڈھونڈنے سے ہمیں اپنوں میں موجود مستحق افراد مل جائیں گے ۔۔۔۔ مکمل احترام ۔۔۔۔رازدای ، پردہ پوشی، حرمت اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے اپنا فطرہ ان تک پہنچائیں ۔۔۔ فطرانہ اگر مستحق تک نہ پہنچے تو وہ ادا ہی نہیں ہوتا لہذا کیوں نہ خود ہی فطرانے کو اپنے ہاتھوں سے اپنے اطراف میں موجود مستحق افراد تک پہنچایا جائے ۔۔۔۔۔۔پیار ،محبت ، احسان و ایثار ، احساس و نفرتیں مٹانے اور انسانیت کی خدمت کا نام دین اسلام ہے لہٰذا کسی کے توسط کی بجائے اپنے ہاتھ سے انسانیت کی خدمت کرنا سیکھیں اور یقین کریں ایسا کرنے سے عید کا مزہ دوبالا ہو جائے گا ۔۔۔آپ کی زندگی میں برکت آئے گی اور اس برکت کو آپ خود محسوس کریں گے۔ تجربہ کر کے دیکھیں۔۔۔ فطرانہ مستحق تک خود پہنچائیں۔

متعلقہ موضوع:

فطرانہ کس کو دیں؟

نذر حافی


افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly