سوچ میں کھوٹ
تبرید حسین


کچھ اہم موارد پر لکھنے کی خواہش تھی۔ مگر محرم الحرام کے دوران عزاداری کو برپا کرنے کے عنوان سے جو خدمت لندن میں میرے ذمہ ہوتی ہے اس کے سبب اور کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اب بھی کچھ خلاصے ( بلٹ پوائنٹس) پیش کرنا ہیں۔ تفصیل کیلئے پھر کبھی ممکن ہوا تو انشاءاللہ حاضر ہوں گا۔
ٹوپی والے خطیب بھائی تو عرصہ دراز سے عزاداری کو مجروح بلکہ مذبوح کرنے کا عمل جاری رکھے تھے مگر اب کچھ صاحب جبہ و قبا و دستار ( عمامہ) بھی اس میں کود گئے ہیں۔ آئیے کم ازکم تین احباب ( نام نہاد علماء ) نے اس عنوان سے کیا فرمایا وہ دیکھتے ہیں۔ جی تو پہلے "صاحب عمامہ" فرماتے ہیں۔
1- یہ حسینیت کیا ہوتی ہے یہ یزیدیت کیا ہوتی ہے۔ اس نعرہ سے سیاست کی مشام ( بو آتی ہے) اور فرمایا کہ آئندہ مجلس میں حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد کا نعرہ مت لگائیں۔ پھر کہا امام حسین اور ساتھیوں کا پورے راستے میں ایک امر بالمعروف یا نہی عن المنکر دکھائیں جو امام یا ان کے ساتھیوں نے کیا ہو۔ پھر کہا مراجع و مجتہدین کی تصاویر جلوس عزاداری کو متنجس ( نجس) کر دیتی ہیں۔اب اسی گروہ کے دوسرے صاحب عمامہ فرماتے ہیں۔
2- امام حسین کو "پیور مجلس/ عزاداری" درکار ہے۔ یعنی عصر حاضر کے یزیدوں اور زینبیوں کا ذکر، مظلوم و قہر زدہ فلسطینیوں کیلئے آواز اور دعا مجلس حسین کو ناخالص کر دیتی ہے۔ یہی صاحب پھر اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ایک روائیت کا عنوان دے کر توہین آمیز انداز سے بیان کرتے ہیں کہ یزید جب مدینہ آیا تو امام سجاد نے معاذاللہ مرنے کے خوف سے یزید کی بیعت کر لی تھی ۔صاحب کی دیدہ درہنی یہاں پر بھی کب رکی پھر اگلی مجلس میں اپنی کذب بیانی اور توہین آمیزی کو معراج عطا کرتے۔
ہوئے امام زمانہ سے منسوب ایک اور روائیت سنا ڈالی کہ امام مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے علاوہ گیارہ آئمہ کے گلے میں طاغوت کی بیعت کا طوق تھا۔ (استغفراللہ)
پھر کہا فرمان امام حسین، کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ یہ من گھڑت ہے اس کی کوئی سند نہیں...اور تیسرے "صاحب عمامہ" فرماتے ہیں۔
3- فلسطینی لوگ ناصبی ہیں۔ ان کیلئے دعا کرنا درست نہیں۔پھر فرمایا بائیکاٹ کا کیا فائدہ، کھائیں کے ایف سی ،میں بھی کھاتا ہوں بہت مزیدار ہوتا ہے۔ مجھے بھی بلائیں دعوت پر۔یہ فقط چند اقوال ان نام نہاد ملاوں کے نقل کئے ہیں بطور حوالہ ورنہ تو ایک دفتر ہے جو پیش کیا جا سکتا ہے۔
ان موضوعات پر میرے بہت سارے فاضل دوستوں حتی علماء نے تفصیل سے لکھا اور بولا ہے اور فقہی اور شرعی اعتبار سے یہ انہیں کو زیبا تھا کہ وہ اس گروہ کو مناسب جواب دیتے۔فقط ایک ایک جملہ مذکورہ بالا اعتراضات پر اور پھر اپنے موضوع یعنی فکر خمینی پر بات کرتے ہیں۔
1-طباطبائی صاحب سے گزارش ہے کہ حسینیت ان الھی خصوصیات ( اخلاق و کردار) کے مجموعے کا نام ہے جو حسین ابن علی نے سفر کربلا اور ہنگام عاشور میں ہمیں تعلیم فرمائیں مثلا ہر ظلم سے نفرت اور مظلوم سے ہمدردی، بدترین حالات میں یاد خدا / عبادت خدا سے غافل نہ ہونا، اسلام کو ہر چیز پر مقدم رکھنا اور وقت آنے پر اپنا تن من دھن حتی عزت ناموس اسلام پر قربان کر دینا، ایثار و قربانی اور ہر حال میں اطاعت امام کا سبق، وغیرہ جبکہ یزیدیت انہیں اوصاف اور خصوصیات کی ضد کا نام ہے۔ اب آپ ان اوصاف حمیدہ سے کیوں نفرت فرماتے ہیں، اور حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد سے کیوں خار کھاتے ہیں وہ ہمیں معلوم ہے مگر اس پہ ایک الگ پوسٹ درکار ہو گی۔
امام حسین اور ان کے ساتھیوں نے پورے راستے میں کوئی امر و نہی کیا یا نہیں اس پر ہم آپ کی لا یعنی بات کیوں سنیں جب میرے مولا خود فرما رہے ہیں کہ انما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی۔۔۔ اور ارید ان آمر بالمعروف وانھی عن المنکر۔۔۔ اور اسی طرح دیگر خطبات وکلمات سے ذرا سی بھی آشنائی رکھنے والے ایسی احمقانہ بات کرہی نہیں سکتا۔اور دوسرے صاحب سے فقط اتنی گزارش ہے کہ جتنی ناقص تحقیق آپ نے مِثْلِی لا یُبایِعُ لِمِثْلِهِوالے فرمان کی کی ہے اس سے کم تحقیق اگر یزید کے ہاتھوں امام زین العابدین کی بیعت ( معاذاللہ ) والے نامعقول واقعہ کی کرتے تو فقط اس بات سے ہی حقیقت عیاں ہو جاتی کہ یزید واقعہ کربلا کے بعد کبھی مدینہ آیا ہی نہیں کجا کہ وہ امام سجادؑ سے بیعت کا طالب ہوتا۔
اسی طرح مزید وضاحت کیلئے "بیعت اجباری" ایک الگ موضوع ہے جس پر موقع ملا تو الگ سے پوسٹ لکھوں گا۔
ان صاحب نے کئی مجالس اپنی جھوٹی پاکدامنی ثابت کرنے میں پڑھ دیں جو فرما رہے تھے کہ مظلومین جہاں کا ذکر کرنے سے مجلس نا خالص ہو جاتی ہے ۔ آئیے اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔
امام راحل امام خمینی کون ہیں ؟گزشتہ صدی کے سب سے بڑے فکری، انقلابی ، اسلامی رہنما، حقیقی پیروئے حسین و کربلا اور معمار انقلاب اسلامی۔امام خمینی وہ وارث انبیاء ہیں کہ جنہوں نے انبیاء کی گمشدہ میراث کو زندہ کیا۔ نظام امت کا قیام کیا۔ جن کی محنتوں سے کتابوں کے اندر پڑے ہوئے اسلام کو نفاذ ملا۔ جو آج پوری شان و شوکت کیساتھ وقت کے استعمار کے مقابلے میں نبرد آزما ہے۔ الحمداللہ
مجھے شرمندگی ہے کہ ان بونوں کی فکر کا بھلا فکر خمینی سے کیا موازنہ اور مقابلہ مگر اپنی بات اور نقطہ کے ابلاغ کیلئے شائید یہ موضوع ضروری تھا۔آئیے دیکھتے ہیں امام راحل امام خمینی کربلا، عاشورہ اور عصر حاضر کے بارے کیا فرماتے ہیں۔
انقلاب اسلامی کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کربلا میں کرپٹ اموی حکمران یزید کے خلاف امام حسین (ع) کے قیام اور ہمارے دور میں اس کی اہمیت کے حوالے سے بہت سے روشن قول ارشاد فرمائے ہیں۔امام حسین (ع) کی تحریک سیاسی اسلام کا ایک مظہر ہے، جو اپنے نانا کے مذہب اور اس کی اقدار کے تحفظ کے لیے تمام مشکلات سے لڑتی ہے جو اس وقت کی اموی حکومت کے ہاتھوں تباہ ہو رہی تھیں۔عاشورہ امام خمینی کے انقلابی نظریے کا سرچشمہ تھا اور طاغوت سے لڑنے کے لیے ان کی مقبول دعوت تھی، جو کہ ایک قرآنی اصطلاح ہے جو زمین پر ظالم طاقتوں کی نشاندہی کرتی ہے۔وہ سیاسی اسلام کے کلیدی حامی تھے، جیسا کہ نظریہ ولایت فقیہ۔
امام خمینی نے اپنے پہلے ریکارڈ شدہ انقلابی پیغام میں مسلمانوں کو الہی اقدار کے لیے کھڑے ہونے اور طاغوت کے خلاف بغاوت شروع کرنے کی دعوت دی۔اس پیغام میں، جو مغرب کے حمایت یافتہ حکمران رضا شاہ پہلوی کی معزولی کے فوراً بعد جاری ہوا، انہوں نے متنبہ کیا کہ مسلمانوں کے اٹھنے میں ناکامی کی وجہ سے وہ استعمار کے ہاتھوں محکوم اور استحصال کا شکار ہو گئے ہیں۔
امام خمینی کے زیر قیادت اسلامی انقلاب کی اصل تاریخ پیدائش عاشورہ تھی۔ جون 1963 کو، جو کہ اسی سال عاشورا کے موقع پر تھا، امام خمینی نے ایک دبنگ خطبہ دیا، جس میں انہوں نے محمد رضا پہلوی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ اس رای ل ایرانی مسلمانوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ دو دن بعد سیکورٹی فورسز نے انہیں راتوں رات مرکزی شہر قم میں ان کے گھر سے گرفتار کر کے قید کر دیا۔ اگلی صبح، حکومت نے تہران اور کئی دوسرے شہروں میں سڑکوں پر نکلنے والے مسلمان عقیدت مندوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈاؤن شروع کیا، جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے۔
یہ دن ایران کی جدید تاریخ میں ایک اہم لمحہ تھا۔1978 میں عاشورہ ایک اور اہم موڑ تھا جب لاکھوں سوگواروں نے حکومت مخالف مظاہرے کیے، امام خمینی نے بارہا اس اہم کردار کی طرف اشارہ کیا جو ماتمی تقریبات نے آمرانہ پہلوی حکومت کے خلاف لوگوں کو متحد کرنے میں ادا کیا اور انقلاب کو عاشورا کا عکس قرار دیا۔
انہوں نے انقلاب کی فتح کے چند ماہ بعد 1979 میں ایک تقریر میں کہا۔"ان آنسوؤں اور نوحوں نے ہمیں زندہ رکھا ہے۔ ان آنسوؤں نے اس مکتب کو اب تک برقرار رکھا ہے … اور اس تحریک کو آگے بڑھایا ہے۔ اگر امام حسین ہمارے سردار اور آقا نہ ہوتے تو یہ تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی تھی،''
20 جون 1982 کو مغربی تہران میں علماء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امام نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو عاشورہ کو فقط ماتم کا معاملہ نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ شیعہ "رونے والی قوم" نہیں ہیں۔ وہ (اسلام کے دشمن) ان ماتمی جلسوں سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہ مظلوموں کی حمایت میں پکارنا ہے۔ یہ ظالموں کے خلاف احتجاج ہے۔ سوگواروں کے یہ منظم گروہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مارچ کرتے ہیں، ان کے مظاہرے جاری رہنے چاہئیں،‘‘ انہوں نے اپنی گرجدار تقریر میں کہا۔
"ان ادیبوں سے بیوقوف نہ بنیں، یہ لوگ جو مختلف ناموں اور نظریات سے آپ سے سب کچھ چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہ دیکھتے ہیں کہ یہ عاشورہ کے ماتم، یہ نوحہ خوانی کے اجتماعات، مظلوموں کے دکھوں کا بیان اور ظالم کے جرائم پر آواز اٹھانے والے لوگوں کو ظالموں کے خلاف کھڑا کرتے ہیں۔
پہلوی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد، عاشورہ امام کے قائم کردہ نئے نظام کے لیے رہنما اصول بن گیا جیسا کہ ان کے بعد کے اقوال اور عمل سے واضح ہے۔جب عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین نے مغرب کی مدد سے ایران کے خلاف جنگ شروع کی تو عاشورہ لاکھوں ایرانی رضاکار جنگجوؤں کا محرک بن گیا اور امام حسین (ع) کا مشہور قول
"هیهات منا الذله"
فرنٹ لائن پر لڑنے والے ایرانیوں کا نصب العین بن گیا۔
اسلامی انقلاب کے بعد سے کئی دہائیاں گزرنے کے بعد، عاشورا کی تقریبات انقلاب کے جھنڈے تلے لوگوں کو متحد کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اسلامی جمہوریہ استکباری طاقتوں کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔حقیقی پیروئے امام حسین، امام خمینی اور جمہوری اسلامی ہی دراصل اس موجودہ عالمی استکباری نظام میں نظام محمدی، کربلا اور عاشورہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اب یہ کون سے خطیب پیدا ہوگئے ہیں جنہیں مظلوم کربلا کے منبر سے مظلومین کیلیے فقط دعا بھی عزاداری کے خلاف نظر آتی ہے ۔آپ نے عزاداری کو کیا سمجھ رکھا ہے؟آپ کہتے ہیں یزیدان عصر اور کربلائے وقت کا تذکر نہ ہو یہ سیاسی موضوعات ہیں دراصل یہی موقف ظالموں کی حمایت کا موقف ہے اور مظلوم کو نہتا اور تنہا کرنے کا موقف ہے۔عزادری سیرت جناب زینبِ سلام اللہ علیہ ہے۔ جناب زینب نے تو ظالموں کے چہروں سے نقاب اتارنا سکھایا ہے۔کیا یہ فقط سلیقہ میں اختلاف ہے؟
نہیں نہیں یہ ایک مشخص طبقہ ہے جو عزادری کو محض ایک رسم بنا دینا چاہتا ہے جبکہ جناب زینب سلام اللہ علیھا نے عزادی کو ظالموں کے خلاف ایک بھرپور رزم اور مظلوموں کی حمایت کا عزم بنا کر پیش کیا تھا۔عین حج کے موقع پر جب کعبتہ اللہ حاجیوں سے بھرا تھا امام عالی مقام نے احرام توڑ کر کربلا کی طرف رخت سفر کیوں باندھا تھا ؟ تاکہ ہمیں بتا سکیں کہ جب یزید جیسے حکمران تم پر مسلط ہو جائیں تو پھر طوافِ حج نہیں قیامِ کربلا واجب ہو جاتا ہے۔ پھر وہ وقت جانوروں کی قربانیوں کی بجائے آپکے بچوں کی قربانیاں مانگتا ہے ظالم حکمرانوں کے چہروں سے نقاب نوچنا ضروری ہو جاتا ہے ورنہ حُسین علیہ السلام کے یزیدی لشکر کو کہے جملے اب بھی فضاوں میں گونج رہے ہیں
میں تم جیسے بے ضمیروں کیساتھ زندہ رہنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔
علامہ طالب جوہری صاحب فرمایا کرتے تھے۔کربلا کیوں کھٹکتی ہے؟ کیونکہ کربلا کا جب بھی ذکر ہو گا ہر ظالم کا تذکرہ ہو گا اور ہر ظالم پر لعنت بھی ہو گی۔ہمارا دعوی تو ہے کہ پیغام حسینیت اور کربلا و عاشورہ انسانیت کیلئے ہے۔ تو اسکا کیا مطلب ہے؟ انسان کیا حسین کیلئے روایئئتی مجالس اور اور حلقے بنا کر نوحہ و ماتم منعقد کریں یا ان کی انقلابی و سیاسی سوچ کو اپنا کر راہ حریت پر گامزن ہوں اور کامیاب ہو کر حسین کو خراج پیش کریں اور اس کی بیسیوں مثالیں ہمارے دور میں موجود ہیں مثلا نیلسن مندیلا کہتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی زندگی کے بیس سال قید میں گزارے ،پھر ایک رات میں نے فیصلہ کیا کہ حکومت کی تمام شرائط کو تسلیم کرلوں لیکن اچانک میرے خیال میں امام حسینؑ اور تحریک کربلا آئی جس نے مجھے آزادی اور آزاد ی کے لیے ڈٹ جانے کی طاقت مہیا کی‘‘
مہاتماگاندھی، ڈاکٹر راجندرا پرساد، سوامی شنکرا چاریا، اینٹائن بارہ، چارلس ڈکنز، تھامس کارلائیل، گورونانک اور اسی طرح کے بیسیوں غیر مسلم رہنماؤں اور آتھرز نے امام عالی مقام اور تحریک کربلا سے رہنمائی لی اور خراج تحسین پیش کیا۔تحریر بہت طولانی ہو گئی۔ جوش ملیح آبادی کے اشعار کیساتھ اجازت چاہتا ہوں جو تفہیم کربلا میں موجودہ دور کے کٹھ ملاوں سے زیادہ اپنے اندر گہرائی و گیرائی سمیٹے ہوئے ہے۔
کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے
کربلا تخت کو تلووں سے مسل سکتی ہے
کربلا خار تو کیا آگ پہ چل سکتی ہے
کربلا وقت کے دھارے کو بدل سکتی ہے
کربلا قلعۂ فولاد ہے جراروں کا
کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا
12 ستمبر 2024/2 بجے سہہ پہر