اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
ایٹم اور ملا صدرا
✍️ حمزہ ابراہیم
🪢 جدید سائنس کا یہ کہنا ہے کہ چیزیں مالیکیولز سے مل کر بنی ہوتی ہیں۔ مالیکیولز کو ایٹمز تشکیل دیتے ہیں۔ مالیکیولز تو کروڑوں اقسام کے ممکن ہیں، جبکہ ایٹموں کی اقسام ایک سو سے کچھ اوپر ہیں۔ ایٹم کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنے میں مغرب کے محققین کی بہت محنت صرف ہوئی ہے۔ آج کل بعض غالی قسم کے خطیب ان معلومات تک رسائی کا کریڈٹ بھی ملا صدرا کو دے دیتے ہیں، جو درست نہیں۔ سچ یہ ہے کہ ایٹم کی سمجھ میں سبھی مسلم فلاسفہ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں پہلے ایک مختصر تاریخچہ پیش کر کے پھر ملا صدرا کی اپنی عبارات بمع حوالہ جات پیش کی جائیں گی تاکہ قارئین کرام اپنی انکھوں سے ملا صدرا کا موقف پڑھ کر اس غلط فہمی سے نجات حاصل کر سکیں۔
📚 تعارف
ایٹم کا لفظ یونانی زبان سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ناقابلِ تقسیم ہونا ہے۔ دی مقراطیس (متوفیٰ 370 قبل مسیح) کا خیال تھا کہ دنیا کی چیزیں ناقابل تقسیم ذرات سے بنی ہیں۔ آج بھی عام لوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ کسی اینٹ کو اگر توڑتے جائیں تو آخر میں مٹی کے بہت چھوٹے ذرات رہ جائیں گے جنہیں مزید توڑنا ممکن نہ ہو گا۔ اگرچہ مٹی کے ذرات کو ناقابل تقسیم سمجھنا درست نہیں ہے۔
دی مقراطیس (Democritus) کی بات پرانے دور کی زبان کی محدودیت اور خیالات کی پراکندگی کے ہمراہ تھی۔ دی مقراطیس اور اس کے ساتھیوں اور پیروکاروں کے ایٹم کے تصور کی تفصیلات درست نہ تھیں اور انہوں نے اس بنیاد پر مظاہر فطرت کی جو توجیہ پیش کی وہ غلط تھی۔ جیسا کہ افلاطون اور ارسطو کی اکثر باتیں بھی غلط تھیں۔ البتہ ان لوگوں کی اصل قدر و قیمت اس میں ہے کہ انہوں نے اپنے تئیں ٹھیک سوچنے اور کائنات کی درست تشریح کرنے کی کوشش کی۔ ان کی باتوں کو یاد کر لینا درست نہیں، لیکن ان کی روش اور سچائی کو پانے کی تڑپ کو سراہا جا سکتا ہے۔
🟠 اس کے بعد ایٹم کے بارے میں دو ہزار سال تک کوئی سنجیدہ کام نہیں ہوا۔ انیسویں صدی عیسوی میں جان ڈالٹن نے یہ دیکھا کہ مرکبات کے آپس میں ری ایکشن سے جو نئے مرکبات بنتے ہیں ان کے وزن میں فرق چند مخصوص اعداد کی صورت میں ہوتا ہے۔ گویا ان کا وزن مخصوص باٹوں کی صورت میں بدلتا ہو، یہ اضافہ مسلسل نہ ہو بلکہ وزن یکدم ایک درجے سے دوسرے درجے پر جاتا ہو، جیسے ایک کے بعد دوسری سیڑھی چڑھی جاتی ہے۔ ان باٹوں کا نام اس نے دی مقراطیس سے لفظ مستعار لے کر ایٹم رکھا۔ یہ صرف لفظی اشتراک تھا، بظاہر ایک جیسی اصطلاحوں کے معنی الگ الگ تھے۔ 1803ء میں ڈالٹن نے کیمسٹری کا ایک قانون تجویز کیا جس کے مطابق ایسے مرکبات جو دو الگ الگ عناصر پر مشتمل ہوں، ان میں عناصر کی مقدار کا تناسب چھوٹے مکمل اعداد (integers) کی صورت میں ہو گا۔ چار سال بعد ہی اس کا مشاہدہ بھی کر لیا گیا۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب عراق کے شہر نجف پر نجد کے وہابی لشکر نے حملہ کیا تھا۔
🧫 یہ دیکھا جا رہا تھا کہ بعض اوقات مختلف صفات والے مرکبات اصل میں ایک جیسے عناصر کی ایک جیسی مقدار اور تناسب سے بنے ہوتے ہیں۔ 1860ء میں لوئی پاسچر نے بتایا کہ اصل میں ان کی ترکیب مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے تشکیل پانے والے مالیکیولز مختلف ہوتے ہیں۔ 1867ء میں مینڈلیو نے عناصر کا جدول تیار کیا، ہر عنصر اپنے ایٹم کے وزن کے حساب سے درست مقام پر رکھا گیا۔ انیسویں صدی کے آخر تک جدید کیمسٹری کی بنیادیں تیار ہو چکی تھیں۔
🔻 اب کیمسٹری اور فزکس کے اتحاد کی طرف قدم بڑھنے لگے۔ 1899ء میں جے جے تھامسن نے ایٹم کے اندر پایا جانے والا نیا ذرہ دریافت کیا جس کا نام الیکٹران رکھا گیا۔ 1911ء میں ردر فورڈ نے نیوکلیئس دریافت کیا، جو ہر ایٹم کے مرکز میں ہوتا ہے اور ایٹم کا زیادہ تر مادہ اسی میں ہوتا ہے۔ یہ نیوکلیئس (ہستہ) بھی پروٹانز اور نیوٹرانزسے مل کر بنا ہوتا ہے۔ 1912ء میں بوہر نے بتایا کہ الیکٹران نیوکلیئس کے گرد مخصوص مداروں میں ہی حرکت کر سکتے ہیں۔ اب معلوم ہو چکا تھا کہ ایٹم مرکب اور قابل تقسیم ہوتا ہے۔ اب ایٹموں کے ڈھانچے کے خدوخال اعداد کی شکل میں بیان کئے جانے لگے اور مینڈلیو کے جدول کی توجیہ ممکن ہو گئی۔ ادھر سیاست کی دنیا میں جنگ عظیم اول چھڑ گئی اور وطن پرستی کی درندگی نے علم و تہذیب کے سفر کو سست کر دیا۔
🔷️ ایٹم کی سمجھ میں ایک بڑی پیشرفت تب ہوئی جب 1926ء میں شوڈنگر نے اپنی مشہور زمانہ مساوات پیش کی جس کی مدد سے اشیاء کے اعراض کی وضاحت ان کو تشکیل دینے والے مالیکیولز کی بنیاد پر کی جانے لگی۔ کیمسٹری کی بنیاد کوانٹم فزکس میں ڈھونڈی جا چکی تھی۔ یہ اس پر پیچ سفر کی ایک مختصر داستان ہے۔
💠 ملا صدرا کیا کہتے تھے؟
ملا صدرا (متوفیٰ 1640ء) نے ایٹم کے بارے میں ہمارے علم میں کوئی اضافہ کرنے کے بجائے دیمقراطیس کے خام قسم کے ابتدائی خیال کی بھی مخالفت کی ہے۔ ان کی کتاب اسفار اربعہ میں یہ لکھا ہے:
1️⃣ ”اتصالی وحدت حقیقی وحدت کی ایک قسم ہے۔ پس اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو چیز اتصالی وحدت رکھتی ہے اس کو موضوع کے اعتبار سے بھی واحد ہی ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس کی تقسیم مختلف صورتوں کی طرف نہیں بلکہ ایسے اجزاء کی طرف ہونی چاہئے جو اپنی حقیقت میں متحد ہوں اور جن کا وجود بالفعل نہیں بلکہ بالقوہ ہوتا ہے، جیسا کہ عنقریب اس پر بحث آئے گی۔ اور چونکہ یہ بھی ایک بدیہی مقدمہ ہے کہ جس میں وحدت بالفعل ہو گی اس کی کثرت بالقوہ ہو گی، اس کے بعد یہ دعویٰ کہ جس چیز کی وحدت اتصالی ہوتی ہے ایسے وحدانی متصل کے اجزاء کا صورتوں کے لحاظ سے مختلف ہونا ممکن ہے، نہایت بیہودہ بات ہے۔“ (1)، (2)یہ سب خیال بافی ہے۔ آگے ایک اور جگہ دیمقراطیس کا ذکر یوں کرتے ہیں:
2️⃣ ”دی مقراطیس کا خیال ہے کہ عالم کا وجود محض اتفاق کا نتیجہ ہے، اور اس کی دلیل میں اس کی تقریر یہ تھی کہ عالم کے مبادی (ابتدائی اجزا) ایسے چھوٹے چھوٹے اجرام و ذرات ہیں جن کی ان کی سختی کی وجہ سے تقسیم نہیں ہو سکتی۔ اس کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ یہ ذرات اس خلاء اور فضا میں جو غیر محدود ہے، بکھرے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان ذروں کی فطرت اور طبیعت تو واحد ہے، یعنی طبیعت میں سب ایک ہیں لیکن ان کی شکلیں مختلف ہیں اور وہ ہمیشہ دائمی حرکت اور گردش کے ساتھ متحرک رہتے ہیں۔ اتفاقاً انہی ذرات کے کسی مجموعے کی دوسرے مجموعے کے ساتھ مٹ بھیڑ ہوگئی، اور ایک خاص شکل میں وہ اکھٹے ہو گئے۔ اس سے عالم کی پیدائش ہوئی۔ عالم کے متعلق اگرچہ دی مقراطیس اسی خیال کا قائل تھا، لیکن اسی کے ساتھ حیوانات و نباتات کی پیدائش کے متعلق وہ اتفاق کا مدعی نہ تھا۔“ (3)، (4)
اگلے صفحات پر وہ اس خیال کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
3️⃣ ”پس معلوم ہوا کہ دی مقراطیس اور انباذقلیس کی طرف جو خیالات اس باب میں منسوب ہیں، سب غلط اور بے بنیاد ہیں۔“ (5)، (6)
⬅️ ملاصدرا نہ صرف خود دیمقراطیس کی رائے سے اختلاف رکھتے ہیں بلکہ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ مشائیوں، یعنی ابنِ سینا وغیرہ نے، بھی اس کو باطل کہا ہے۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:
4️⃣ ”مشائیوں نے کیفیتوں کی شدت پذیری اور ضعف انگیزی کے متعلق ثابت کیا ہے کہ یہ حرکت کے جسمانی موضوع و محل سے اس حرکت کا نام ہے جو کیفیات کے مراتب میں واقع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ان لوگوں نے حکیم دیمقراطیس کی اس رائے کو باطل کرتے ہوئے، جو اجسام کے مبادی کے متعلق ہے، اپنے دعوے کو بدیہی قرار دیا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ جسم کے سیاہ ہونے میں سواد یعنی سیاہی کے جو مختلف مراتب شدت و ضعف کی بنیاد پر پیدا ہوتے ہیں، یہ ماننا پڑے گا کہ تمام مراتب نوعی ماہیت کی رو سے متحد ہیں۔ اور اس میں کوئی محال بات لازم نہیں آتی۔“ (7)، (8)
⚠️ ملا صدرا کی اس کتاب میں کئی مقامات پر دیمقراطیس کا ذکر آیا ہے اور ہمیشہ ملا صدرا نے ایٹم کے تصور کی مخالفت ہی کی ہے۔ یہ کتاب کسی قسم کی ریاضی سے بالکل پاک ہے۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ ایٹم کا جدید تصور ریاضی کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر یہی ہو گا کہ ایسے لوگوں کے جعلی فضائل گھڑنے کے بجائے اپنی معلومات میں اضافہ کر کے دنیا کو ٹھیک سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
♻️ حوالہ جات
1۔ مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحات 362، 363، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔
2۔ ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 94، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
3۔ مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 475، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔
4۔ ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 253، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
5۔مناظر احسن گیلانی،”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 477، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔
6۔ ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 2، صفحہ 256، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
7۔ مناظر احسن گیلانی، ”فلسفۂ ملاصدرا“، ترجمۂ اسفار اربعہ، صفحہ 299، حق پبلیکیشنز، لاہور، 2018ء۔
8۔ ملا صدرا ،”اسفار اربعہ“،جلد 1، صفحہ 437، دار احیاء التراث العربی، بیروت۔
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں