اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات آزاد میڈیا ہے کیا!؟ حسنین جمال عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کسی فلم ساز، اداکار، شاعر، سیاست دان، لکھاری یا کسی بھی ایسے شخص کی وہ بات سنتے ہیں جو ہمارے دماغ کے خانے میں فٹ نہیں آتی تو ہم اس کے پیچھے فنڈنگ ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں، ہمیں ایجنڈے کی خوشبوئیں آنا شروع ہو جاتی ہیں، ہم سازشوں کا راگ الاپتے ہیں، ہم تھڑوں پر بیٹھ کر جتنا ممکن ہو سکتا ہے انہیں گالیاں دیتے ہیں، ہمارا بلڈ پریشر ہائی ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر، ڈھونڈ ڈھانڈ کر جب کوئی ایک بھی ہم خیال ملتا ہے تو ہماری طبیعت قابو میں آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دو چار دن بعد لگتا ہے کہ یار سب کچھ نارمل ہی تو ہے، کیوں خواہ مخواہ اتنی توانائی ضائع کی۔ سب سے پہلے یہ جاننا چاہئیے کہ منافقت کسی کی میراث نہیں ہے۔ اگر اپنے اردگرد ایویں ایک ہلکی سی نظر ڈالیں تو آپ کو بہت سے کردار ایسے نظر آئیں گے جو آپ کے ساتھ بالکل یس ہوں گے لیکن آپ کے مخالفین سے بھی ان کی گاڑھی دوستی ہو گی۔ بقول افضل ساحر، جندے نیں کی لچھن تیرے، پھنیر نال یرانے وی نیں، جوگی ول وی پھیرے۔ ایسا اتفاق سوشل میڈیا پر بھی ہو سکتا ہے اور عام زندگی میں تو خیر ہر دوسرا بندہ فلمی ہیرو بنا یہی گاتا پھرتا ہے، مجھے دوستوں نے لوٹا، مجھے زندگی نے مارا۔ لیکن یہ روئیے صرف اس زندگی میں ہی ممکن ہیں جو عام آدمی گزارتا ہے۔ جس لمحے آپ فلم ساز، اداکار، شاعر، سیاست دان یا لکھاری بن کے بات کرتے ہیں تو آپ کی ہر بات، ہر دوستی، ہر مخالفت، ہر رویہ، سب کچھ آن دا ریکارڈ ہوتا ہے۔ اب یا تو بات کرنے والا چکنا گھڑا ہو، اس صورت میں کہی گئے لفظوں سے پھر جانا ممکن ہے، اگر ایسا نہیں ہے تو منافقت ایک نہایت مشکل کام بن جاتا ہے۔ اگر آپ ایکسپوزڈ ہیں، لوگ آپ کو جانتے ہیں، ذمہ دار جگہ پر بیٹھے ہیں تو بیان دے کے یو ٹرن مارنا آپ کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں ایک راستہ بچتا ہے، اپنے پوائنٹ آف ویو پر قائم رہتے ہوئے اس کا دفاع کرنا۔ وہ کچھ بھی ہو، کوئی بھی بات ہو، اسے ممکنہ طور پر ثابت کرنا۔ اور اگر وقت گزرنے کے ساتھ کبھی ایسا لگے کہ یار ہم غلطی پر تھے تو شرافت سے اس نظرئیے کو خیرآباد کہہ دینا۔ سوچنا ہر انسان کا حق ہے اور تمام سوچ بچار کی ایکسرسائز کے بعد جو راستہ بہتر لگے اسے نظریاتی طور پر اپنا لینا بھی جائز بات ہے۔ نئی تہذیب کے اصول ہرگز منع نہیں کرتے کہ لکھنے والا جانبدار نہ ہو۔ یہاں معاملات تھوڑے سکوئیز کر کے دیکھنے ہوں گے۔ پاکستانی صحافیوں کے بارے میں چند دن پہلے ایک دعویٰ کیا گیا کہ وہ بیکری کے ملازم ہیں اور جب مالکان حکم دیتے ہیں تو وہ اٹھ کر شیشہ چمکانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں لکھنے والے واضح طور پر دو گروپس میں تقسیم ہیں۔ ستر فیصدی پرو اسٹیبلشمنٹ سمجھ لیجیے بیس فیصد اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور جو دس فیصد ہیں وہ بہت کوشش کریں گے کہ ان کا جھکاؤ واضح نہ ہو مگر صاحب تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ اس تقسیم میں پھر دائیں اور بائیں بازو کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے لیکن جو کوئی، جو کچھ بھی لکھتا ہے وہ کم از کم غیر جانبداری کا دعوی نہیں کر سکتا۔ چند مشہور لکھنے والوں کے نام ذہن میں لائیے تو ساتھ ہی ان کی وابستگیاں بھی یاد آ جائیں گی۔ اب یہ جو شیشہ چمکانے والا معاملہ ہے، یہ ہر کوئی اپنے دائرے میں رہ کے سرانجام دیتا ہے لیکن، مرضی اپنی ہوتی ہے۔ مالکان آپ کو رف قسم کی پالیسی کا ایک خاکہ تو دے سکتے ہیں، اسی فریم کے اندر رہنے پر مجبور بھی کر سکتے ہیں لیکن ہارڈ لائنر کبھی نہیں بن سکتے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اخبار کے ادارتی صفحے پہ لکھنے والا ہر ایک آدمی یکساں راگ الاپ رہا ہو، ایسا ہو گا تو پھر وہی ہو گا جو ماضی کے مشہور اخبارات کے ساتھ ہو چکا ہے۔ یک رنگی سے پیدا ہونے والا زوال خود مجبور کرتا ہے کہ اخبار میں ورائٹی پیدا کی جائے، مخالف پوائنٹ آف ویو لایا جائے، یہی ورائٹی کارپوریٹ کلچر یا ٹھیک طور سے جمہوریت بھی کہلا سکتی ہے۔ سادہ ترین لفظوں میں یہ ضروری نہیں کہ ہر اخبار کی ہر تحریر ہر ایک کو پسند آ جائے۔ سازش سونگھ کر آدم بو چِلّانے اور میڈیا ہاؤس چلانے میں فرق رکھنا پڑتا ہے۔ کارپوریٹ کلچر اور آزاد میڈیا کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ فی الحقیقت یہی چیز ہمارے نصابی رویے ہضم نہیں کر سکتے۔ ہم آئے دن اشتہاروں میں فحاشی ڈھونڈتے ہیں، ڈراموں میں غیر اخلاقی مناظر کا رونا روتے ہیں، سیاست دانوں کی کوریج پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں، بھائی یہ ایک کاروبار ہے۔ اگر منڈی کھلی نہیں ہو گی، ہر طرح کی دکان کھولنے والوں کو آپشن نہیں ملے گا تو کاروبار کیسے ہو گا؟ جب کوئی بزنس مین کچھ بھی انویسٹمنٹ کرتا ہے تو سامنے چند فائدے اسے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ وہ سکول بھی کھولے گا تو فی سبیل اللہ پڑھانے کا وہاں کوئی رواج نہیں ہو گا بلکہ فیس وصولی جائے گی۔ میڈیا سکول نہیں ہوتا، یہ آپ کو اخلاقیات کا درس نہیں دے سکتا، یہ آپ کے سامنے آپشنز رکھتا ہے، اگر اتفاق نہیں ہے تو وہ چینل دیکھنا چھوڑ دیجیے، اس سائیٹ پر جانا چھوڑ دیجیے، جو پسند ہے، وہاں جائیے، وہ دیکھیے اور سکون پروگرام۔ اسی طرح چونکہ کوئی بھی چینل قوم کی اخلاقی تربیت کا دعویدار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کوئی فیس وصول کرتا ہے تو اسے اشتہار چاہئیے ہوتے ہیں۔ عقیدے، سماجیات، پند و نصائح اور گھریلو زندگی کے درس ڈپٹی نذیر احمد کے دور میں چلتے تھے، انہوں نے کماحقہ انہیں چلایا اور وہ کتابیں انگریز سرکار نے منظور بھی کیں۔ اب اس وقت اگر میڈیا کاشتکاری کے راہنما اصول بتائے گا، یا پیارے بچوں کو سلام کر کے قاعدے پڑھائے گا تو وہ سٹیٹ چینل تو ہو سکتا ہے کمرشل چینل نہیں ہو سکتا۔ رہ گیا نظریہ اور جانبداریاں تو اس وقت بھی ہر چینل کے پاس اپنا نظریاتی ورژن موجود ہے اور وہ اس کے مطابق چلتے ہیں۔ ہمارا نظریہ، ہمارے خیالات، ہمارا یقین پوری دنیا پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، اس مقصد کے لیے ہمیں قدرت نے ریموٹ کنٹرول کی سہولت مہیا کی ہے۔ جسے ہم لوگ جھوٹ یا دھوکا کہہ رہے ہوتے ہیں وہ دراصل ہمارے اپنے خیالات سے میچ نہیں کر رہا ہوتا۔ ہو سکتا ہے کسی چینل کا جھوٹ کسی بندے کا سچ ہو۔ مثلاً ایک چینل دائیں بازو کا ہے تو اس سے کتنے بائیں بازو والوں کو اتفاق ہو گا؟ ایک چینل ن لیگ کو سپورٹ کرتا ہے تو انصاف والے کتنے ہوں گی جو اسے ٹھیک سمجھتے ہوں گے؟ یعنی ایک ہی وقت میں ن لیگ کا سچ تحریک انصاف کا جھوٹ ہو گا؟ تو یہ جھوٹ یا دھوکا وغیرہ جو ہے، یہ ریلیٹو ٹرم ہے اسے جذباتی نعروں میں برتا جا سکتا ہے لیکن خواہ مخواہ میڈیا کو رگڑنا مناسب نہیں ہے۔ مختصراً یوں ہے کہ ہم اپنی ذات کے اسیر رہ کر اپنا بھلا تو کر سکتے ہیں لیکن دوسروں کو اسی بھلے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ باڈی پازیٹو تحریکوں کے اس زمانے میں اگر محدب عدسہ لے کے ہر ڈرامے اور اشتہار میں خواتین کا لباس جانچا جائے تو یہ عجیب سی بات لگتی ہے۔ جب پوری دنیا کا میڈیا آپ سے مقابلے پر ہے، دیکھنے والے کی رسائی امریکن اور برٹش میڈیا جائنٹس تک ہے تو اپنے ننھے منے چینلوں کی ہر کوشش کو منجن بیچنے سے تشبیہ دینا اچھا رویہ نہیں ہے۔ پاکستانی میڈیا کی موجودہ آزادی ایک لمبی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ یہاں لکھنے والا ہر کالم نگار اور صحافی محترم ہے۔ وہ اپنے نظرئیے سے وفادار ہے اور اس کا اسے حق حاصل ہے۔ تمام چینل جائز معاشی سرگرمی پہ یقین رکھتے ہیں اور اپنی حدود جانتے ہیں۔ اوپن مارکیٹ اکانومی اور مقابلے بازی کی فضا میں جینے کی کوشش کیجیے، رہے برا بھلا کہنے والے، تو ہر کوئی کچھ بھی کہہ لیتا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: آزاد میڈیا ہے کیا
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں