عبدالوحید

مظہر سلیم حجازی صاحب کی تحریر 12اکتوبر2017کو میری نظروں سے گزری جس میں انہوں نے چین کے بارے میں ایک طائرانہ جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کی کامیابیوں کے بارے بتایا تھا۔

ظاہر ہے کہ کئی سالوں اور کئی ایک پہلوؤں پر محیط چین کی ترقی کو ایک آدھ تحریر میں سمویا نہیں جا سکتا تاہم انہوں نے اپنے طور پر بہت اچھے انداز سے تحریر پیش کی ہے .

انہوں نے ذکر کیا کہ دفتر کھلتے ہی یہاں گرم پانی کی کیتلی کی آوازیں آنا شروع ہو جائیں گی اس کا پس منظر بیا ن کرنا چاہوں گا کہ ہر چینی گرم پانی کیوں پیتا ہے ۔

چین کی صحت کے حوالہ سے میں ایک عرض کرنے کی کوشش کررہاہوں جو کہ میں نے اپنے استاد نما دوست سے سنی تھی اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ لیڈر کس طرح کے ہوتے ہیں اور پھر قوم کو اس پر پر چلانے کے لئے بھی لائحہ عمل مرتب کرنا پڑتا ہے۔

ماؤزے تنگ نے ایک صحت کے حوالہ سے کانفرنس طلب کی جس میں ملک بھر کے ماہرین کومدعو کیا گیا تھا تا کہ ایک پوست کی عادی اور سست قوم کی صحت کے بارے پالیسی بنائی جائے کانفرنس کے شرکاء نے دو تین دن تک خوب غور فکر کیا مختلف پہلوؤں پر غورکیاگیا تما م آبادی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک دستاویز تیار کر لی اور کانفرنس میں ماؤزے تنگ کو دعوت دی گئی تاکہ اپنے فرائض کے مطابق قوم کی صحت کے بارے آ گاہ کیا جائے ۔

ماؤ زے تنگ جب کانفرنس میں آئے تو ان کو ایک دستاویز دی گئی جس میں بیان کیا گیا تھا کہ کتنے میڈیکل کالج،کتنے ہسپتال، کتنے دیہات میں بنیادی صحت کے مراکز ، کتنے ڈاکٹرز اور کتنا دیگر سٹاف چاہے تا کہ قوم کو درپیش بیماریوں کا علاج کیا جا سکے ماؤز تنگ نے بھری بھر کم دستاویز دیکھی تو اس نے اس کو ایک طرف رکھ دیا اور گویا ہوئے کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ میں اخراجات اٹھا سکوں او ر پھر مجھے انتی لمبی چوڑی دستاویز کی ضرورت نہیں ہے آپ لوگ جتناعرصہ بھی یہاں غور و خوص کرنے کے لئے رہ سکتے ہو میں اخراجات برداشت کر سکتا ہوں مجھے صرف چند الفاظ میں قوم کی صحت کے حوالہ سے رائے دی جائے یاد رہے آپ لوگوں کے لئے یہاں قیام و طعام کا مہینوں کا خرچ برداشت کر لوں گا لیکن قوم اور میرے پاس اس قدر رقم نہیں ہے ۔

متذکرہ کانفرنس کے شرکاء نے اس کے بعد اس لائن سے سوچنا شروع کر دیا جس کا ذکر ماؤزے تنگ نے کیا تھا بعدازاں کچھ دنوں بعد ماؤزے تنگ کو دعوت دی گئی کہ حل سوچ لیا گیا ہے آپ تشریف لائیں۔

جب ماؤزے تنگ کانفرنس میں آئے تو تما م ماہرین کی متفقہ رائے بیان کی گئی جس میں کہا گیاکہ کوئی بھی چینی جب بھی پانی پیے تو وہ پانی ابلا ہوا ہو اس کو ٹھنڈا نہ کیا جائے ا س پر ماؤزے تنگ خوش ہوا اور اس نے حکم نامہ جاری کر دیا کہ کوئی بھی چینی ٹھنڈا پانی نہی پیے گا جس نے بھی جب بھی پانی پینا ہوگا گرم کیا ہواہی پیے گا اس کے بعد پورے چین میں اس کورواج پڑ گیا اور ہر چینی تب سے جب بھی پانی پیتاہے تو وہ گرم پانی ہی پیتاہے ۔

گرم کئے ہوئے پانی سے ذائقہ اچھا نہیں رہتا تو اس میں کچھ پتے شامل کرلئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ذائقہ اچھا ہو جاتا ہے

اس حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے چین کی قوم میں بیماریوں کی شرح دنیابھر میں سب سے کم ہے اور یہاں کے شرح اموات بھی کم ہے ساٹھ سالہ چینی باشندہ ہمارے 25/30سالہ جوان سے بھی اچھا کام کر لیتا ہے میرے مشاہدہ میں آیاہے کہ پاکستان میں آنے والے چینی اگر بازار میں گھوم پھر رہے ہوں او ران کوپیاس ستائے تو وہ کوکا کولا پیتے ہیں اور وہ ٹھنڈی نہیں پیتے بلکہ عام حالت والی ہی پیتے ہیں ۔

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ایک دوست نے بتایا کہ میری ذمہ داری چینی باشندوں کی سیکورٹی تھی میں ایک دن سیکورٹی کا معائنہ کرنے کے لئے گیا تو چینی باشندوں سے گپ شپ کرنا شروع کردی دیگر امور کے ذکر کو پس پشت ڈالتے ہوے کہنایہ ہے کہ چینوں نے کہا کہ آپ کے لوگ کام نہیں کرتے تھوڑا ساکام کرتے ہیں اور تھک جاتے ہیں جس پر میں نے کہاکہ ایج فیکٹر ہے آپ لوگ جوان ہو جب کہ ہمارے یہ مزدور 40/45عمر کے ہیں اس پر اس نے کہا کہ وہ جو ٹاور پر چینی گیا ہے اس کی کیا عمر ہوگی میں نے اندازے سے بتایا کہ 30/35سال کی ہوگی ا س پر چینی نے بتایا کہ اس کے عمر بچاس سال سے زائد ہے ۔

عرض کرنے کا مقصد ہے کہ کوئی بھی قوم اگرترقی کرتی ہے تو وہ کئی ایک پہلوؤں کو مد نظر رکھتی ہے چینی قوم کی صحت صرف ایک عمل سے دنیا بھر کے عوام سے بہتر ہے اس سے اندازہ کرنے میں کسی اضافی عقل کی ضرورت نہیں کہ گرم پانی پینے سے انہوں نے صحت پر اٹھنے والے کتنے اخراجات کو بچا لیا پھر ان کی صحت بھی قابل رشک ہو گئی بتایا گیا ہے کہ چین میں دس لاکھ افراد ایسے ہیں جن کی عمر سو سا ل سے زائد ہے ۔

ہمارے ہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ بیان کی جاتی ہے اس کی وجہ صحت کے معاملے میں ہم تہی دست ہیں ہمارے نوجوان بڑھاپے میں جانے سے قبل ہی مختلف النوع بیماریوں کےشکار ہوکر دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں ۔

اب آئیے پاکستان میں یہاں اگر کوئی بھی حکومت صرف پانی کے بارے میں حکم جاری کر دے تو آپ لوگ اتفاق کریں گے کہ ہماری عوام ایک ماہ کے اندر اندر اس حکومت کو گھر کا راستہ دکھا دے گی ۔


افکار و نظریات: چین کے لوگ, پانی اور صحت