تحریر:  ڈاکٹر سید شفقت شیرازی

4 دسمبر کا دن فقط یمنی کانگرس پارٹی کے سربراہ اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے قتل ہونے کا دن ہی نہیں بلکہ یمن پر 30 ماہ سے زیادہ عرصے سے مسلط کرنے والے نام نہاد ظالم اتحادی قوتوں کی وحشیانہ جنگ کے برابر کی اہمیت رکھتا ہے اور یہ دن  ان ظالم طاقتوں کے اسٹریٹیجک پارٹنر  کے خاتمے کا دن بھی ہے. 

شام اور عراق کے بعد اس دن یمن میں بھی امریکہ اور  اس کے  اتحادیوں کے منصوبے خاک میں مل گئے ہیں۔

امریکہ سعودی عرب کو اپنے ساتھ ملاکر  تحریک انصار اللہ کو  شیعہ اور ایران نواز کہہ کر یمن کے سیاسی وعسکری منظر نامے سے آؤٹ کرنے کے جس ایجنڈے پر کام کر رہا تھا وہ یمن میں بھی ناکام ہوگیا ہے۔

علی عبداللہ صالح کے قتل سے خطے میں امریکی پالیسویوں کا ایک مکمل باب بند ہو گیا ہے۔امریکہ سعودی عرب کی ایما پر یمن کو سرنگوں کرنے کے لئے جس پارٹی اور جس خائن لیڈر پر اعتماد وانحصار کر رہاتھااور وہ یمن کا عبداللہ صالح تھا۔

عبداللہ صالح کے قتل کے بعد چند حقائق سامنے آگئے ہیں:

۱۔کوئی ملت اگر بیدار ہوجائے اور اپنے آپ کو پہچان لے تو دنیا کی کوئی سپر طاقت اسے اپنا غلام نہیں بنا سکتی۔

۲۔خدا کی مدد و نصرت اتحاد کرنے والوں کے ساتھ ہے، حوچیوں کے اتحاد کے بعد  امریکہ اور اس کے اتحادی یمن کے سیاسی میدان سے عملی طور پر آوٹ ہو چکے ہیں۔ یہ سب خداوند عالم کی مدد و نصرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

 

۳۔امریکی نقشے کے مطابق عاصفہ الحزم نامی سعودی جارحیت اربوں اور کھربوں  ڈالرز کے خسارے ، بےگناہ یمنی عوام کے قتل کے باوجود ظالموں کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی ۔ بے شک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے.

۴۔ آمر اور ڈکٹیٹر اندر سے کمزور اور بزدل ہوتا ہے، اس سے پہلے عبداللہ صالح امریکہ اور سعودی عرب کے ہر حکم کی تابعداری کرتا تھا لیکن اس کے بعد حملہ آور جانتے ہیں کہ اب اگر یمن پر حملہ کیا تو یمنی عوام اور فورسز آگے سے دندان شکن جواب دیں گے۔

۵۔اب انصار اللہ اور یمنی فوج کے پاس زمین سے زمین پر فائز ہونے والے ، زمین سے سمندر اور جارح ممالک  کے وسط اور آخری سرحد تک  کی رینج والے میزائل ہیں جو دشمنوں اور حملہ آوروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کافی ہیں۔

اس وقت یمنی عوام کے حوصلے بھی بہت بلند ہو چکے ہیں اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ حوصلے سے لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔

بلا شبہ چار دسمبر کا دن یمنی عوام کی تاریخ میں عزت و استقلال اور ہمت و سربلندی کا دن ہے۔


افکار و نظریات: یمن کی تاریخ میں چار دسمبر کی اہمیت