اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات قائداعظم کو کافرِ اعظم کہنے کے باوجود جب کافرثابت نہ کیا جا سکا تو اب پاکستان میں کبھی تو سُنّی اور کبھی استعمار کا ایجنٹ ثابت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مضمون ایسے ہی لوگوں کو آئینہ دکھانے کیلئے پبلش کیا جا رہا ہے۔ادارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قائدِ اعظم مظلومِ تاریخ فتح محمد ملک یہ بات بڑی معنی خیز ہے کہ اب ہمارے ہاں اپنی قومی تاریخ اور اپنے قومی اکابرین کو بھارتی تناظر میں پیش کرنے کا چلن شروع ہو گیا ہے۔ اس مرتبہ روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے بابائے قوم حضرت قائداعظم ؒ کے یومِ پیدائش پر اپنی خصوصی اشاعت میں دو ایسے مضامین بھی شامل کیے ہیں جن میں قائداعظم کو بھارتی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ مضامین دو مختلف کتابوں میں سے بطور خاص اخذ کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کیے گئے ہیں۔ پہلا مضمون دہلی یونیورسٹی میں سیاست کی پروفیسر محترمہ اجیت جاوید کی تحریر ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ قائداعظم ایک عظیم مگر ناکام رہنما تھے۔ اُن کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ وہ آخر دم تک ہندوستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے۔ اپنے اِس مقصد میں انہیں ناکامی ہوئی۔ جب قائداعظم کی اس ناکامی کے نتیجے میں پاکستان بن گیا تب بھی انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کا نظریہ ترک نہ کیا اور اِس نئے ملک کی تعمیر اسلامی اصولوں پر کرنے سے انکار کر دیا: “Now that he was in Pakistan, he decided to make it a model country, a truly democratic and modern state based on Hindu-Muslim unity and a fair share to all minorities. He did not want to build the new state on Islamic principles.” مسلمہ تاریخی حقائق کے سراسر منافی اِس پرانی تحریر کو ہمارے معاصرعزیز روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے ہندوستانی تناظر (An Indian Perspective) کے عنوان سے شائع کرتے وقت درج ذیل پیراگراف کو ایک چوکھٹے کی شکل میں نمایاں کر کے پیش کرنا ضروری سمجھا ہے: “Jinnah wanted a larger share in the governance of India and not a separate homeland. The demand of Pakistan was bargaining tactic to settle with the Congress and to prove that he was the only leader entitled to speak on behalf of the Muslims. He abandoned his bargaining stance and accepted the Cabinet Mission plan which provided both power for the League in the Muslim areas and a substantial position for himself in the governance of the whole of India. He had used religion to arouse the masses for his tactical move but could not control them. The Jinn of communalism and separatism took him to Pakistan.” درج بالا اقتباس میں تین سراسر غلط دعوے کیے گئے ہیں ۔ اوّل : پاکستان کا قیام قائداعظم کا مقصود نہ تھا۔ وہ ایک متحدہ ہندوستان پر یقین رکھتے تھے۔ وہ فقط یہ چاہتے تھے کہ انہیں متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا واحد لیڈر تسلیم کیا جائے۔ قیامِ پاکستان کی خاطر تقسیمِ ہند کی بات وہ کانگرس کے ساتھ سودا بازی کے لیے کر رہے تھے۔ دوم: کابینہ مشن کا منصوبہ تسلیم کر کے انہوں نے سودا بازی کی یہ راہ بھی ترک کر دی تھی۔ سوم: انہوں نے اسلام کو صرف اپنی سیاست چمکانے کی خاطر استعمال کیا تھا مگر جب فرقہ واریت اور علیحدگی پسندی کا ’’جِن‘‘ اُن کے قابو سے باہر ہو گیا تو انہیں مارے باندھے قیام ِ پاکستان قبول کرنا پڑا۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ محترمہ اجیت جاوید اپنی اس بہتان طرازی کو قائداعظم کی عظمت کا ثبوت بنا کر پیش کرتی ہیں۔ میں اِسے قائداعظم کی شان میں گستاخی سے تعبیر کرتا ہوں۔ بابائے قوم کی اصول پسندی اپنی مثال آپ ہے۔ وہ اصولوں پر سمجھوتہ بازی کے تصور تک سے ناآشنا تھے۔ برصغیر کی جدید تاریخ میں اصولوں پر استقامت کی اُن سے بڑی مثال ناپید ہے۔ کابینہ مشن کا منصوبہ وقتی طور پر قبول کر کے رد کر دینا کانگریسی ذہنیت کو بے نقاب کرنے کی ایک حکمت عملی تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب قائداعظم کی قیادت میں اسلامیانِ ہند کی اسلامی جمہوری تحریک نے بھاری اکثریت کے ساتھ قیامِ پاکستان کے حق میں اپنی اجتماعی رائے کا برملا اظہار کردیا تھا تو پھر برطانوی حکومت نے قیام پاکستان کا راستہ روکنے کی خاطر کابینہ مشن کیوں بھیجا تھا؟ اِس سوال کا جواب بہت سادہ ہے اور وہ یہ کہ برطانوی حکومت اپنے نوسامراجی عزائم کی تکمیل کی خاطر انڈین نیشنل کانگرس کو اپنا آلہ کار بنا کر اسلامیانِ ہند پر اکھنڈ بھارت کا تصور جبرواستبداد کے ساتھ نافذ کرنا چاہتی تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر قائداعظم اور انڈین نیشنل کانگرس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد نے کابینہ مشن کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں برٹش انڈیا کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ دو حصے مسلم اکثریت کے تھے اور ایک حصہ ہندو اکثریت کا۔ اِن میں سے ہر حصے کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر مرکز ناانصافی کا راستہ اختیار کرے تو وہ مرکز سے الگ ہو کر آزاد اور خود مختار ریاست بن سکتا ہے۔ ہر دو مسلمان زعماء نے جب اس منصوبے کو منظورکر لیا تو کانگرس نے غضبناک ہو کر مولانا آزاد کو صدارت سے الگ کر دیا اور اُن کی جگہ پنڈت نہرو کو لا بٹھایا۔ پنڈت جی نے اپنی پہلی ہی پریس کانفرنس میں منصوبے کی اصل روح سے انحراف کا عہد کیا۔ اس پر قائداعظم نے فی الفور کابینہ مشن کا منصوبہ ترک کر دیا۔ اُس وقت بھی قیامِ پاکستان ہی قائداعظم کی منزل تھا۔ کابینہ مشن پلان تو فقط ایک عارضی پڑاؤ تھا۔ قائداعظم کی حکمتِ عملی نے کابینہ مشن کی ناکامی کی ساری کی ساری ذمہداری کانگرس پر ڈال دی اور اس عارضی پڑاؤ کو خیرباد کہہ کر پاکستان کی شاہراہ پر گامزن ہو گئے۔ ایک برطانوی مصنف لیونارڈ موزلے نے اپنی کتاب ’’دی لاسٹ ڈیز آف دی برٹش راج‘‘ (لندن1962ء) میں قائداعظم کو کابینہ مشن کے ارکان کی تمناؤں کی تکمیل کی راہ کا سب سے بڑا سنگ گراں قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں: “Jinnah depressed them by his cold, arrogant, insistent demand for Pakistan or nothing. An encounter with Jinnah cast them down”. جب قائداعظم نے اپنی عارضی حکمت عملی کو خیرباد کہہ دیا اور جواہر لال نہرو کی معذرتوں اور برطانوی حکومت کے شدید دباؤ کے باوجود کابینہ مشن کی سفارشات کو دوبارہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو قائداعظم کے عزم و استقلال کے سامنے کسی کی ایک بھی نہ چلی ۔ لیورنارڈ موزلے لکھتے ہیں: “Mr. Jinnah reacted to Nehru’s statement like an army leader who has come in for armistic discussions under a flag of truce and finds himself looking down the barrel of a cocked revolver.” جب برطانوی حکومت نے ہندوستان کو متحد رکھنے کی خاطر ایک اور مشن بھیجنے کا اعلان کیا تو قائداعظم نے متذکرہ بالا بھرے ہوئے ریوالور کی لبلبی پر اپنی اُنگلی رکھ دی اور اعلان کیا کہ اب میں کسی اور مشن سے مذاکرات نہیں کروں گا۔ اب میرے پیش نظر مذاکرات کی میز کی بجائے زندگی کا وسیع میدانِ عمل ہے۔ اب سلطنتِ برطانیہ کو یا تو پُرامن طریقے سے پاکستان کا قیام قبول کرنا ہوگا یا پھر آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت میں ڈائریکٹ ایکشن (راست اقدام) کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ گویا آئینی جدوجہد کی راہ چھوڑ کر مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے کا اعلان تھا۔ اب سلطنتِ برطانیہ میں اس ممکنہ باغیانہ تحریک کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ اُسے بالآخر پاکستان کا قیام قبول کرنا پڑا۔ روزنامہ ’’ڈان‘‘ نے اپنی اسی اشاعت (۲۵دسمبر۲۰۰۵ء) میں قائداعظم پر ایک اور مجموعہ مقالات میں سے عائشہ جلال کا ایک مقالہ بھی شائع کیا ہے۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی پاکستانی نژاد اس معلمہ کی منطق بھی نرالی ہے۔ فرماتی ہیں کہ برصغیر میں جداگانہ مسلمان قومیت کا نظریہ جسے عرفِ عام میں دو قومی نظریہ کہا جاتا ہے تو درست ہے مگر اس نظریاتی اساس پر ہندوستان کی تقسیم یعنی پاکستان کا قیام درست نہیں۔ ہر دو جداگانہ قوموں کو متحدہ ہندوستان کے اندر ہی رہنا زیب دیتا ہے۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ: “The claim that Muslims constituted a “nation” was perfectly compatible with a federal or confederal lstate structure covering the whole of India. It is no wonder that the claims of Muslims nation hood have been so poorly served by the achievement of territorial statehood.” عقلِ عیار کا یہ نیا اور انوکھا بھیس دیکھیے۔ فرماتی ہیں کہ دو قومی نظریہ تو درست ہے مگر اس نظریہ کی بنیاد پر ایک جداگانہ مملکت کا قیام غلط ہے۔ دونوں قوموں کو ایک ہی فیڈریشن یا کنفیڈریشن کے اندر رہنا چاہیے۔ یہ مشورہ کم از کم نصف صدی بعد از وقت ہے۔ نصف صدی پہلے قائداعظم کو عائشہ جلال کی رہنمائی میسر نہ تھی کیونکہ وہ ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں۔ ایک اعتبارسے دیکھیں تو یہ مشورہ بروقت بھی ہیڈ پاکستان کے اندر سرگرمِ عمل ایک مختصر سی انڈوامریکن لابی پاکستان کو اکھنڈبھارت کی جانب پیش رفت کی تلقین کرنے میں مصروف ہے۔ اپنے مضمون کے آخر میں محترمہ نے اس تمنا کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی قیادت اور بھارتی قیادت مل جل کر ایک مشترکہ خود مختاری کا تصور اپنا کر متحدہ ہندوستانی مستقبل کی تعمیر میں سرگرمِ عمل ہو جائیں۔ یہ تمنا بھی نئی نہیں ہے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران قدامت پسند علماء نے اسی تمنا میں تحریکِ پاکستان اور اُس کے عظیم قائد کی سرتوڑ مخالفت کی تھی۔ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ آج علماء کے اُن گروہوں کی باقیات تو قیام پاکستان کے دل و جان سے قائل ہیں مگر سیکولر ملائیت کے علمبردار اُن پاکستان مخالف ملاؤں کے جانشین ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان اسلامیانِ ہند کے اجتماعی عزم و عمل نے قائم کر دکھایا تھا۔ آج پاکستان کی بقا کے ضامن بھی اسلامیانِ پاکستان ہیں۔ باقی رہ گئی عقلِ مستعار، تو اُس کے گھوڑے تب بھی خوب دوڑے تھے اور آج بھی خوب دوڑ رہے ہیں۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں