اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات قائداعظم ،جعفری یا غیر جعفری ابھی پاکستان کو بنے ہوئے صرف ایک صدی بھی نہیں ہوئی۔ قائداعظم کے قریبی رشتےدار بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ قائداعظم کا نکاح نامہ اوردیگر دستاویزات بھی آن دی ریکارڈ ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی سے ہی قائداعظم کی مذہبی شناخت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تاریخی حقائق اور علمی ورثے کو مسخ کرنے کی یہ کوشش نام نہاد مذہبی لوگ کیوں کر رہے ہیں اس حوالے سے عبیدالرحمن صاحب کی خود نوشت ’یاد ہے سب ذرا ذرا ‘ ملاحظہ کیجئے۔ 329 صفحات پر مشتمل اس تصنیف کے صفحہ 49پر عبیدالرحمن لکھتے ہیں : ’’قائد اعظم لکھنؤ تشریف لے گئے تو کسی نے اعتراض کیا کہ علما ایک مغرب زدہ آزاد خیال شخص کے پیچھے کیوں چل رہے ہیں؟ مولانا شبیر احمد عثمانی نے حکمت سے جواب دیا ’ چند سال پہلے میں حج کے لئے بمبئی سے روانہ ہوا۔ جہازایک ہندو کمپنی کا تھا، جہاز کا کپتان انگریز تھا اور جہاز کا دیگر عملہ ہندو، یہودی اور عیسائی افراد پر مشتمل تھا۔ میں نے سوچا کہ اس مقدس سفر کے یہ وسائل ہیں..... جب عرب کا ساحل قریب آیا ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار ایک عرب جہاز کی طرف آیا..... اس (عرب) نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کو اپنی رہنمائی میں سمندری پہاڑیوں، اتھلی آبی گزرگاہوں سے بچاتے ہوئے ساحل پر لنگر انداز کر دیا۔ بالکل ہم یہی کر رہے ہیں۔ ابھی تحریک جاری ہے، جدوجہد کا دور ہے، اس وقت جس قیادت کی ضرورت ہے وہ قائد اعظم میں موجود ہے۔ منزل تک پہنچانے کیلئے ان سے بہتر کوئی متبادل قیادت نہیں۔ منزل کے قریب ہم اپنا فرض ادا کریں گے‘‘۔ قائداعظم کے بارے میں ایسا کرنے والے کوئی سیکولر لوگ نہیں بلکہ مذہبی افراد ہیں۔ ایسا دعوی کرنا بھی مذہبی افراد کو ہی چاہیے چونکہ سیکولر افراد کم از کم منصفانہ تحقیق کے تو قائل ہوتے ہیں۔ جو لوگ پہلے تو تحقیق کو ہی گناہ سمجھتے ہوں اور تحقیق کے بعد جو ثابت ہوجائے اگر وہ ان کے عقیدے کے خلاف ہو تو وہ اُسے بھی کُفر قرار دے دیتے ہوں ، صرف وہی لوگ ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تحقیقی سطح اور متعصبانہ ذہنیّت کو سامنے لانے کیلئے ہم قائداعظم کے عقیدے کے حوالے سے کچھ مستندات پیش کر رہے ہیں۔تاہم سب سے بڑی سند قائداعظم کا خاندان ہے جس سے آج بھی سب کچھ معلوم کیا جا سکتا ہے۔وائس آف نیشن انیس سو سینتالیس میں قیام پاکستان کے بعد پاکستان نے یہ پالیسی اختیار کی کہ یہاں سنی اور شیعہ کی کوئی تقسیم نہیں ہوگی۔ مردم شماری کیلئے مسلم اور غیر مسلم کافارمولا اختیار کیا گیا۔ جس میں فرقوں کے تناسب کو نظر اندازکردیا گیا۔ یہ گویا اس عہد کا اظہار تھا کہ حکومت فرقوں کے بنیاد پر امتیاز نہیں برتے گی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اثناء عشری شیعہ بن چکے تھے۔ انہوں نے اپنے عقیدے میں یہ تبدیلی اپنے آباء کے اسماعیلیہ فرقہ کو چھوڑ کرکی تھی۔ تاہم وہ پبلک میں اس کا اعلان نہیں کرتے تھے کہ وہ سنی ہیں یا شیعہ ہیں اور جو کوئی اُن سے پوچھتا ، تو ان پر الٹایہ سوال کرتے تھے کہ تم بتاؤ رسول کریم صلعم شیعہ تھے یا سنی؟ انیس سو اڑتالیس میں جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی ہمشیرہ مس فاطمہ جناح کو اپنے آپ کو شیعہ ظاہر کرنا پڑا تاکہ اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق اُن کی جائیداد حاصل کرسکیں۔ یادرہے کہ اہلِ سنّت کے مطابق کلی طور پر اس قسم کی وصیت کی اجازت نہیں۔ جبکہ اہلِ تشیع میں ایسا ہوسکتا ہے۔ مس فاطمہ جناح نے ایک اقرار نامہ سندھ ہائی کورٹ میں داخل کیا جس پر وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان کے دستخط تھے کہ جناح شیعہ خوجہ مسلم تھے اور عدالت سے درخواست کی کہ ان کی وصیت کے مطابق شیعہ قانون وراثت پر عمل کیا جائے۔ عدالت نے پٹیشن قبول کرلی۔ 6فروری1968کو فاطمہ جناح کی موت کے بعد ، ان کی بہن شیریں بائی نے ہائی کورٹ میں یہ دعویٰ داخل کیا کہ مس جناح کی جائیداد شیعہ قانون کے مطابق اسے دی جائے کیونکہ مرحومہ شیعہ تھیں۔ پہلے مس فاطمہ جناح کے احترام میں شیعہ فقہ پر عمل کیا گیا۔ جبکہ سنی ہونے کی صورت میں اُن کو صرف نصف حصہ مل سکتا تھا۔ بعد میں ان کی بہن شیریں بائی ممبئی سے کراچی پہنچیں جو اسماعیلی فرقہ چھوڑکر اثنا عشری ہوچکی تھیں اور اس بنیاد پر بھائی کی جائیداد کا دعویٰ کیا۔ اس موقع پر جناح کا باقی خاندان جو ابھی تک اسماعیلی فرقہ سے منسلک تھا نے جناح کے شیعہ عقیدے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہائی کورٹ پہلے مس جناح کی پیٹشن قبول کرچکی تھی۔ عدالت کیلئے بابائے ملت قائداعظم کواسماعیلی کہنا مشکل ہوگیا۔ چنانچہ اس کیس کو عدالت نے ملتوی کر دیا جبکہ مس جناح کا عمل ہمیشہ یہی رہا کہ وہ شیعہ عقیدے پر عمل کرتی رہیں اور اپنے بھائی کے متعلق بھی اثناء عشری شیعہ ہونے کا یقین دلاتی رہیں۔ جناح کیوں اثناء عشری شیعہ رہے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مذہب کی آزادی کیلئے سیکولر اصولوں کے حامی تھے۔ اس بات کے گواہ عدالت میں سید شریف الدین پیرزادہ تھے۔ اُن کے مطابق جناح نے اسماعیلی عقیدہ1901میں چھوڑا تھا۔ جبکہ اُن کی دو بہنوں رحمت بائی اور مریم بائی کے ایک سنی خاندان میں شادی کرنے کا مرحلہ در پیش تھا۔ کیونکہ اسماعیلی فقہ میں اس شادی کی اجازت نہیں تھی۔ اس لئے انہیں یہ فرقہ چھوڑنا پڑا۔ فرقہ کی یہ تبدیلی مسٹر جناح تک محدودرہی۔ اور ان کے بھائی ولجی اورنتھو بدستور اپنے سابقہ مذہب پر رہے۔ عدالت میں جو کارروائی ہوئی یہ مس جناح کے انتقال کے فوراً بعد ہوئی۔ اس میں گواہ سید اُنیس الحسن شیعہ عالم تھے۔ انہوں نے حلفی بیان دیا کہ مس جناح کے کہنے پر انہوں نے قائداعظم کو غٖسل دیا تھا اور گورنر جنرل ہاؤس کے ایک کمرے میں ان کی نماز جنازہ بھی شیعہ دستور العمل کے مطابق ادا کی جاچکی تھی۔ اس میں شیعہ عالم شریک تھے۔ جیسے یوسف ہارون، ہاشم رضا اور آفتاب حاتم علوی حاضر تھے۔ جبکہ لیاقت علی خان بطور سنی کمرے سے باہر کھڑے رہے۔ جب شیعہ رسومات ختم ہوئی تب جنازہ حکومت کے حوالے کیا گیا۔ تب متنازعہ شخصیت مولوی شبیر احمد عثمانی جو دیوی بندی فرقے کو چھوڑ چکے تھے اپنے فرقے کے خیالات کے برعکس جناح کی جدوجہد پاکستان کے حامی تھے۔ انہوں نے دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی۔ یادرہے شبیر احمد عثمانی شیعوں کو مرتد اور واجب القتل قراردے چکے تھے۔ یہ دوسری نماز جنازہ سنی طریق سے پڑھائی گئی۔ اور جنازہ کی جگہ وہی تھی۔ جہاں قائداعظم کا مقبرہ بنا۔ دوسرے گواہان تصدیق کرتے ہیں کہ مس فاطمہ کی موت کے بعد کلام اور پنجہ شیعوں کے دونشان مہتہ پیلس سے برآمد ہوئے تھے۔ جس میں ان کی رہائش بھی تھی۔ آئی ایچ اصفہانی نے یہ گواہی1968ء میں سند ھ ہائی کورٹ میں دی تھی۔ جس میں انہوں نے جناح کے فرقہ کی تصدیق کی تھی۔ وہ جناح فیملی کے دوست تھے اور1936ء میں اُن کے اعزازی سیکرٹری بھی تھے۔اس گواہی میں مسٹر مطلوب حسن سید بھی شامل ہوئے۔ جو قائداعظم کے 1940-44 تک پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔ مسٹر اصفہانی بتاتے ہیں خود جناح نے انہیں1936ء میں بتایا تھا کہ ان کی فیملی اور خود انہوں نے شیعہ مذہب اس وقت اختیار کیا جب وہ1894ء میں انگلینڈ سے لوٹے تھے۔ اور انہوں نے رتی بائی سے شادی کی تھی جو ایک پارسی تاجر کی بیٹی تھی۔ یہ شادی شیعہ رسوم کے مطابق ہوئی۔ ان کے نمائندے راجہ صاحب محمود آباد تھے جو ان کے شیعہ دوست تھے۔ اگرچہ اُن کا عقیدہ جناح سے مختلف تھا۔ لیکن وہ ان کے گہرے دوست تھے۔ وہ اثنا عشری شیعہ تھے۔ اور آزادی کے بعد نجف عراق گئے تھے۔ قائداعظم سے اُن کی دوستی کو بہت لوگوں نے حیرانی کے ساتھ دیکھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جناح اور راجہ صاحب محمود آباد میں دوستی کی وجہ شیعہ ہوناتھا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ممبئی سے ایک مرتبہ شیعہ کانفرنس میں ممبئی الیکشن میں جناح کی مخالفت کی تھی۔ جب مس فاطمہ جناح 1967ء میں کراچی میں فوت ہوئیں تو اس موقعہ پر اصفہانی موجود تھے۔ انہوں نے مہتہ پیلس میں اُن کے غٖسل اور نمازہ جنازہ کا اہتمام خود کیا۔ جو شیعہ رسوم کے مطابق تھا۔ جنازہ پڑھانے کے بعد میت حکومت کے حوالے کی گئی۔ تب پولو گراؤنڈ میں سنی طریق سے نماز جنازہ دوبارہ پڑھائی گئی اور بھائی کے مقبرہ میں جو جگہ انہوں نے تجویز کی وہاں اُن کی تدفین ہوئی۔ شیعہ رسم جنازہ کے مطابق میت کو آخری الوداعی نصیحت جسے تلقین(Talgin)کہتے ہیں اس وقت ادا کی گئی جب میت کو لحد میں اتارا گیا۔ رتی بائی کو آخری الوادعی نصیحت یا تلقین خود قائداعظم محمد جناح نے کی تھی جب وہ1929ء کو فوت ہوئی تھیں۔ فاطمہ جناح کی وفات پرجب شیعہ رسوم اداکی گئیں تو مخالفت کرنے والے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ جس کے بعد میت حکومت کے حوالے کی گئی اور سنی طریقے سے رسوم ادا کی گئیں۔ اس مخالفت کا ذکر فیلڈمارشل جنرل ایوب اپنی ڈائری میں یوں کرتے ہیں۔ ۔۔۔جولائی1967ء۔۔ میجر جنرل رفیع میرے ملٹری سیکرٹری تھے۔ وہ میری نمائندگی کیلئے کراچی گئے اور مس جناح کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔اُن کا بیان ہے کہ اہل فہم لوگ اس بات پر خوش ہوئے کہ حکومت نے مس فاطمہ کو ایک عزت کا مقام دیا۔ اس لئے یہ امر حکومت کیلئے بھی خوش کن ہے۔ تاہم وہاں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے بہت برا سلوک کیا۔ اُن کی پہلی نمازہ جنازہ مہتہ پیلس میں شیعہ رسوم کے مطابق ادا کی گئی۔ پھر عوام کیلئے دوسری نماز جنازہ پولوگراؤنڈ میں ہوئی تو یہ سوال کیا گیا کہ امام سنی ہو یا شیعہ؟ تاہم بدایونی کو امامت کیلئے آگے کردیا گیا۔ جونہی امام نے اللہ اکبر کہا آخری صفوں میں کھڑے لوگ چھٹ گے جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ لاش کو بڑی مشکل سے ایک گاڑی میں رکھا گیا اور قائداعظم کے مزارپر لے گئے اور انہیں دفن کیا گیا۔ وہاں ایک ہجوم اکٹھاہوگیا جنہوں نے کہا کہ قبر کی جگہ بدلی جائے، اس پر عمل نہ کیا گیا۔ طلباء کے ہمراہ غنڈے تھے جنہوں نے پتھر برسائے تب پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ غنڈوں کو آنسو گیس کی مدد سے ہٹایا گیا تو جنازہ کا میدان پتھروں سے اٹا پڑا تھا۔ لوگوں نے جس بے حسی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اس پر افسوس ہوتا ہے کہ نماز جنازہ کی جگہ عبرت انگیز ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ اس پہ بھی بازنہ آئے۔ نوٹ:۔ یہ مضمون خالد احمد کی کتاب its links to the Middle East یہ کتاب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی نے شائع کی ہے۔ اس کتاب کا یہ حصہ فرائیڈے ٹائمز میں شائع ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور قائداعظم کی دوستی
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو



Sectarian war: Pakistan Sunni Shia Violence and
سے لیا گیا ہے۔
افکار و نظریات: google, print, voice, nation
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں