اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مطالعہ پاکستان... ۲۳ مارچ یونینسٹ پارٹی کے سربراہ مسٹر سکندر حیات کے بقول اُن کا مرتّب کرایا ہوا مسوّدہ اُس مسوّدے سے بہت مختلف تھا جو شیرِ بنگال مولوی فضل حق نے مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کرایا تھا۔ در اصل یونینسٹ پارٹی ایک مرکزی حکومت کے تحت ہندوستان کو سات انتظامی علاقوں میں تقسیم کرانے کی خواہاں تھی جبکہ مسلم لیگ مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کی متلاشی۔ سوچ کا یہ فرق بالاخرنظریاتی مخالفت پر منتہج ہوا۔ خدا خدا کر کے ۲۳ مارچ۱۹۴۰ کو یہ قرارداد تو منظور ہوگئی تاہم علامہ مشرقی کی مسلم لیگ کے ساتھ نظریاتی جنگ ختم نہ ہوئی۔ بعدازاں علامہ مشرقی کے ایک جیالے "رفیق صابر مزنگوی" نے قائداعظم پر قاتلانہ حملہ بھی کیا۔ ۲۳ مارچ کا دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ قاتلانہ حملے میں قائداعظم زخمی تو ہوئے البتہ زندہ بچ گئے۔اب حملہ آور کو فوری طور پر حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور تحریک خاکسار، مجلس احرار اور اتحاد ملت تنظیموں سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا حقیقی نام محمد صادق تھا۔ چنانچہ مولانا ظفرعلی خان نے محمد صادق کو کامریڈ کا لقب دے کر اُس کی ہمت بندھائی۔ محمد صادق نے کامریڈکا ترجمہ کر اپنا نام رفیق رکھ لیا ۔تخلص ان کا پہلے سے ہی صابر تھا ، رہائشی وہ مزنگ (لاہور) کا تھا۔ سو یہ ہیں رفیق صابر مزنگوی صاحب۔ ان کے پاس کبھی کبھی ایک دن میں پچاس، پچاس تار، خطوط اور پوسٹ کارڈ آ جاتے جن میں ان پر لعنت بھیجی جاتی ۔ جی ہاں !اس مائنڈ سیٹ کو سمجھئے۔ یہ مطالعہ پاکستان والے مولانا ظفر علی خان ہی ہیں ۔ یہی مولانا ظفر علی خان ہی تو ہمارے مطالعہ پاکستان کی رو سے مسلم لیگ کے بانی اراکین میں شامل ہیں اور قیامِ پاکستان کیلئے کامریڈ اورزمیندار کے نام سے دواخبار بھی نکالتے تھے۔ مطالعہ پاکستان والے آپ کو یہ کبھی نہیں بتائیں گے کہ علامہ اقبال کے خلاف کفرکا فتوی بھی انہی مولانا ظفر علی خان کے ہی زمیندار اخبار کے پہلے صفحے پر شائع ہوا تھا۔ تحریکِ خلافت یعنی مسلم لیگ کے وژن کی سو فی صد نفی ۵ جولائی ۱۹۱۹ کو خلافت کمیٹی بنائی گئی ۔ خلافت کمیٹی سیدھی جا کر مسٹر گاندھی کے پرچم تلے بیٹھ گئی۔ یہ مسلم لیگ کے دوقومی نظریے کے خلاف ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ خلافت کمیٹی نے مسٹر گاندھی کو خوش کرنے کے لئے یہ فتویٰ بھی دیا کہ ہندوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے اس سال عیدِ قربان کے موقع پر مسلمان گائے کی قربانی نہ کریں۔ انہی اکابرینِ ملت اور سلفِ صالحین کی طرف سے مسٹر گاندھی کی ایما پر تحریک عدم موالات بھی چلائی گئی۔ عدمِ موالات یعنی حکومت کے خطابات واپس کر دیئے جائیں،کونسلوں کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا جائے،سرکاری ملازمتوں سے علیحدگی اختیار کر لی جائے،تعلیمی ادارے سرکاری امداد لینا بند کر دیں، مقدمات سرکاری عدالتوں کے بجائے ثالثی عدالتوں میں پیش کئے جائیں اور انگریزی مصنوعات و مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمانوں کو ہندوستان سے ہجرت کرنے کا فتویٰ بھی جاری کیا گیا۔ خلافت کمیٹی نے مسٹر گاندھی سے تو کچھ حاصل نہیں کیا البتہ مسلمانوں کو اس سے بھاری نقصان ہوا۔ اب یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ۱۹۴۰ میں قراردادِ پاکستان پیش کرنے والے اور شیرِ بنگال کہلانے والے شیرِ بنگال فضل حق کو ۱۹۴۶ سے پہلے ہی مسلم لیگ سے نکال دیا گیا تھا۔ آپ کا نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ مسلم لیگ میں رہ کر مسلم لیگ سے بیر رکھتے تھے۔۱۹۳۶ میں آپ نے مسلم لیگ سے اعلانیہ علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد ۱۹۳۷ میں آپ نے کرشک پرجا پارٹی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست دینے میں کانگرس کے اتحادی تھے۔ چنانچہ کانگرس کے بعد سب سے زیادہ نشستیں بھی آپ کی پارٹی نے حاصل کیں۔ بنگالی مسلمانوں کے دباو نے ایک مرتبہ پھر مولوی فضل حق کو دوبارہ مسلم لیگ کے قریب آنے پر مجبور کیا۔ یوں وہ مسلم لیگ اور قائداعظم کے حلیف بھی رہے اور حریف بھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی آپ اسی ڈگر پر قائم رہے۔ قارئین محترم ! اگر قائداعظم کے خاندان، عزیز و اقارب، نکاح نامے اور دیگر دستاویزات کے ہوتے ہوئے قائداعظم کو دیوبندی، حنفی، اور اہل حدیث ثابت کیا جا سکتا ہے تو پھر کسی بھی لمحے قائداعظم اورعلامہ اقبال کے چہروں کو نورانی داڑھی سے مزیّن بھی کیا جا سکتا ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/7/23 - 2026/8/22
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
آرشيو

نذر حافی
۲۳ مارچ کا دن ہمیں بہت کچھ یاد دلاتا ہے۔ خصوصاً ۱۹۳۶/۱۹۳۷ کے انتخابات میں مسلم لیگ کو ہونے والی بدترین شکست کے زخم ہرے ہو جاتے ہیں۔ اسی شکست کے اثرات سے نکلنے کیلئے ہی تو ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو قراردادِ لاہور تیار کی گئی تھی۔ قرارداد لاہور کی تیاری اور منظوری کے درمیانی وقفے کو کون بھول سکتا ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس قرارداد کو پیش کرنے کا ماحول بھی پریشان کُن تھا۔ مسلم لیگ کو علامہ مشرقی اور اُن کی خاکسار تحریک کی طرف سے آڑے آنے کی پریشانی تھی ۔
اب ملاحظہ کیجئے ہیکٹر بولیتھو کی کتاب ’جناح، معمار پاکستان‘ جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک والے " جناح کے ازلی مخالف تھے وہ اب دشمنی پر اتر آئے اور ۱۹۴۳ کے جون اور جولائی کے مہینے میں ان کے لیے اچھا خاصا خطرہ بن گئے۔
جناح کو بے شمار خطوط تحریک خاکسار والوں نے لکھے جن میں ان پر الزام لگایا گیا کہ انگریزوں کے خلاف کانگریس کا ساتھ نہ دے کر انھوں نے قوم سے غداری کی ہے۔
۲۳ مارچ کا دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور ان کے ہم فکر افراد کو اچھی طرح سمجھا جائے۔ انہیں سمجھنے کیلئے ہمیں تحریکِ خلافت کو سمجھنا پڑے گا۔
یہ لوگ مسلم لیگ کے خلاف اس وقت تک لڑتے رہے جب تک آلِ سعود نے ترکی سے علیحدگی کا اعلان نہیں کر دیا اور اتا ترک نے جمہوریت کا بگل نہیں بجا دیا۔ یہ سب ہونے کے بعد بھی خلافت کمیٹی نے مسلم لیگ کی طرف دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھایا۔
۲۳ مارچ کا دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ۱۹۴۰ کو منظور ہونے والی قراردادِ لاہور کو ۱۹۴۱میں مسلم لیگ کے آئین میں شامل کیا گیا۔ بعد ازاں ۷ اپریل ۱۹۴۶ کومسلم لیگ کے مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں مزید اصلاحات کر کے یہی قرارداد کیبنٹ مشن کے سامنے پیش کی گئی۔
۲۳ مارچ کا دن ہمیں شیرِ بنگال کی بھی یاد دلاتا ہے۔ یہ بھی بڑی معرکۃ الآرا شخصیت گزری ہیں۔ آپ کی سیاسی طاقت کا اندازہ اسی سے ہوجاتا ہے کہ ۱۹۱۸ میں جواہر لال نہرو آپ کے پولیٹیکل سیکرٹری تھے۔
۲۳ مارچ کا دن جہاں ہمیں بہت کچھ یاد دلاتا ہے وہاں ہمیں ہوشیار اور خبردار بھی کرتا ہے کہ مبادا کل کو ہمیں ہر جگہ قائداعظم اورعلامہ اقبال کی اصلی تصویر ڈیڑھ بالشت کی نورانی داڑھی کے ہمراہ نظر آئے۔ 
افکار و نظریات: daily, weekly, news, monthly
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں