اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات نذر حافی nazarhaffi@gmail.com اقوام، ممالک اور ملل کا حافظہ تاریخ ہوتی ہے، جب تاریخ کنفیوز ہوجائے تو اقوام اور ملل بھی کنفیوز ہوجاتی ہیں، ۴ جنوری مولانا محمد علی جوہر کا یومِ وفات ہے، ضروری ہے کہ اس روز کی مناسبت سے تاریخ کی چھان بین کی جائے اورکچھ تاریخی حقائق کو واضح کیا جائے۔ مولانا محمد علی جوہر کی زندگی فعالیت اور جدوجہد سے عبارت ہے، ہم مسلم لیگ کے قیام سے شروع کرتے ہیں،1906ء میں ڈھاكہ میں محمڈن ایجوكیشنل كانفرنس كے سالانہ اجلاس كے ختم ہونے پر برصغیر كے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے مسلم عمائدین نے ڈھاكہ كے نواب سلیم اللہ خاں كی دعوت پر ایك خصوصی اجلاس میں شركت كی۔ اس اجلاس كی صدارت نواب وقار الملك نے كی۔ اجلاس میں نواب محسن الملك٬ مولانامحمد علی جوہر٬ مولانا ظفر علی خاں٬ حكیم اجمل خاں٬ اور نواب سلیم اللہ خاں سمیت بہت سے اہم مسلم اكابرین اجلاس میں موجود تھے۔ مسلم لیگ كا پہلا صدر سر آغا خان كو چنا گیا۔ مركزی دفتر علی گڑھ میں قائم ہوا۔ تمام صوبوں میں شاخیں بنائی گئیں۔ برطانیہ میں لندن برانچ كا صدر سید امیر علی كو بنایا گیا۔[1] اس کے بعد جو تاریخ میں اہم واقعہ رونما ہوا وہ پہلی جنگِ عظیم کا ہے ۔ یہ جنگ 28 جولائی 1914 سے 11 نومبر 1918 تک جاری رہی،اس جنگ میں ایک طرف جرمنی ، آسٹریا ، خنگری ، ترکی اور بلغاریہ ، اور دوسری طرف برطانیہ ، فرانس ، روس ، اٹلی ، رومانیہ ، پرتگال ، جاپان اور امریکاتھے۔ 11 نومبر 1918ء کو جرمنی نے جنگ بند کردی ۔ ۱۹۱۴ سے ۱۹۱۸ کے درمیانی چار سالوں میں برصغیر کے مسلمان خلافت عثمانیہ کی بقا کے لئے بہت پریشان تھے۔یہاں پر برصغیر کی مسلم قیادت زبردست کنفیوژن کی شکار تھی۔مسلم لیگ کے ہوتے ہوئے ، مسلم لیگ پر اعتماد نہیں کیا گیا بلکہ مسلم لیگ پر عدمِ اعتماد کرتے ہوئے الگ سے خلافت کمیٹی بنائی گئی۔ خلافت کمیٹی سے منسلک لوگ ایک طرف تو ترکی کی خلافت کو الٰہی خلافت سمجھتے تھے اور دوسری طرف اُسے بچانے کے لئے برطانیہ سے مدد کے خواہاں تھے جوکہ اُن کے نظریہ توحید کے بالکل برعکس تھا۔ اس کی مثال کلبھوشن یادو کے بیانات اور گرفتار شدہ طالبانیوں کے اعترافات ہیں کہ یہ خلافت کے علمبردار ، خلافت الٰہیہ کے قیام کے لئے ہندوستان سے مدد لیتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال آج بھی مسلمانوں کے ہاں پائی جاتی ہے کہ ایک طرف تو توحید کے نام پر کسی دوسرے مسلمان کو نبی اکرمﷺ کے مزار کی جالی کو بھی نہیں چومنے دیتے اور دوسری طرف ٹرمپ اور آرئیل شارون کے گالوں کو چومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ترکی کی خلافت کو بچانے کے لئے جو تحریک خلافت شروع کی گئی اور جس کا بانی مولانا محمد علی جوہر کوکہا جاتا ہے ، 5 جولائی، 1919ء کو خلافت کے مسئلے پر رائے عامہ کو منظم کرنے اور متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے جو بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم کی گئی اس کے صدر سیٹھ چھوٹانی اور سیکرٹری صدیق کھشتری منتخب ہوئے۔ تحریک خلافت میں کسی طرح سے بھی دوقومی نظریہ کارفرما نہیں تھا، اس تحریک میں مسلم لیگ کے بجائے کانگرس اور گاندھی جی پر اعتماد کیا گیا اور ہندو ستانی قومیت کی بنیاد پر یہ تحریک چلائی گئی تھی۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ تحریک خلافت چلانے والے مسلمانوں نے اپنے اتحادی ہندووں کو خوش کرنے کے لئے یہ فتویٰ بھی دیا کہ ہندوں کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے اس سال بقرِ عید پر مسلمان گائے کی قربانی نہ کریں۔[2] عجیب بات یہ ہے کہ جس طرح اس وقت مسلمانوں کو پسِ پشت ڈال کر ہندووں کو خوش کرنے کے لئے فتوے دئیے گئے تھے اسی طرح آج بھی ہمارے ہاں امریکہ و اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے فتوے دئیے جاتے ہیں۔ اس زمانے میں تحریکِ خلافت میں مسلمانوں کے تین ہی بڑے مطالبات تھے: الف]ترکی کی خلافت برقرار رکھی جائے۔ ب]مقامات مقدسہ(مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ ) ترکی کی تحویل میں رہیں۔ ج]ترکی سلطنت کو تقسیم نہ کیا جائے۔ سعودی عرب میں آل سعود کے جد امجد عبدالعزیز ابن سعود نے سعودی عرب کے نام سے الگ مملکت کے قیام کا اعلان کر تینوں مطالبات پر پانی پھیر دیا اور یوں تحریک خلافت پر سعودی عرب نے خطِ تنسیخ کھینچ دیا۔ 1920ء میں مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں ایک وفد انگلستان، اٹلی اور فرانس کے دورے پر روانہ ہوا تاکہ وزیراعظم برطانیہ اور اتحادیوں کو ان کے وعدے یاد دلائے۔ وفد نے برطانیہ پہنچ کر وزیراعظم لائیڈ جارج سے ملاقات کی لیکن اس کا جواب “آسٹریلیا اور جرمنی سے خوف ناک انصاف ہو چکا اور ترکی اس سے کیوں کر بچ سکتا ہے۔“ سن کر مایوسی ہوئی۔ اس کے بعد وفد نے اٹلی اور فرانس کا بھی دورہ کیا مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی۔[3] شنوائی کیا ہونی تھی جب ایک طرف تو مصطفی کمال پاشا نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کرکے اپنی صدارت کا اعلان کردیا اور دوسری طرف سعودی عرب نے ترکی سے علیحدگی اختیار کرلی تو تحریکِ خلافت نے اب مزید کیا چلنا تھا!!! اس تحریک کی ناکامی کے بعدحالات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے بجائے ایک انتقامی سوچ کو اپنایا گیا اور تحریک عدم موالات شروع کر دی گئی جس کے مندرجہ زیل اہداف تھے: حکومت کے خطابات واپس کر دئیے جائیں۔ کونسلوں کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا جائے۔ سرکاری ملازمتوں سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔ تعلیمی ادارے سرکاری امداد لینا بند کر دیں۔ مقدمات سرکاری عدالتوں کے بجائے ثالثی عدالتوں میں پیش کیے جائیں۔ انگریزی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسی طرح مولانا عبدالباری، مولانا ابولکلام آزاد، علی برادران کی ایما پر تحریک ہجرت بھی شروع کی گئی جس کی رو سے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمانوں کو یہاں سے ہجرت کرنے کا فتویٰ دیا گیا۔ جس پر ہزاروں مسلمانوں نے اپنے کاروبار اور گھربار چھوڑ کر افغانستان کی راہ لی۔ یہ ہجرت حکومت افغانستان کے عدم تعاون سے ناکام ہوگئی ۔ [4]یہ تو پتہ نہیں چلا کہ فتویٰ دینے والوں نے خود بھی ہجرت کی یا نہیں البتہ اس ہجرت میں مسلمانوں کو بہت بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کی مثال بھی آپ کو ہمارے ان جہادی ملاوں کی صورت میں مل سکتی ہے کہ جن کے فتووں کی وجہ سے لوگوں کے بچے تو دہشت گرد بن کر جیلیں کاٹ رہے ہیں یا دربدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور ان کے اپنے بچے لندن و امریکہ سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں لئے پھرتے ہیں۔ یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں تاریخ کو بیان کرتے ہوئے اسے اپنی پسند و ناپسند میں ڈھالنے کے بجائے شفاف طریقے سے بیان کرنا چاہیے تاکہ ہم قومی و نظریاتی طور پر کنفیوژن کے شکار نہ ہوں۔ ہمیں مطالعہ پاکستان میں تحریکِ خلافت کے حوالے سے صاف بتانا چاہیے کہ اس تحریک کا مسلم لیگ یا دوقومی نظریے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اورمولانا محمد علی جوہر اگرچہ متحدہ قومیت کے علمبردار تھے تاہم انہیں کانگرس اور گاندھی جی کے رویے سے اتنی مایوسی ہوئی کہ بالاخر آپ کانگرس سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تاریخی حافظے سے اچھی طرح کام لیں اور غلط کو صحیح سے جدا کریں۔کانگرس اور گاندھی جی پر اعتماد کرنا ایک تاریخی غلطی تھی ، چونکہ مولانا محمد علی جوہر جس خلافت کے داعی تھے ، کانگرس یا گاندھی جی کبھی بھی اس کے حامی نہیں ہو سکتے تھے۔ اس سلسلے میں مولانا محمد علی جوہر کے ایک اداریے سے یہ اقتباس ملاحظہ ہو: ”اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ مسلمانوں کے ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو ہمارے ہندوستان کے مسلمانوں کا ہو اور جس وقت تحریک خلافت کو ایک دفعہ پھر منظم کر دیا جائے گا تو اس سے عالم اسلام کی رہنمائی ہو گی۔ جیسا کہ جنگ عظیم کے بعد ہوا تھا۔ موتمر اور اس کی مجلس تنفیذیہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے ایک نظام کا سلسلہ قائم ہو گیا ہے اور یہ مختصر سا بیج مستقبل میں ازسرنو قائم کردہ خلافت کی جڑ ہو گا جو خلافت راشدہ کے نمونے پر قائم ہو گی۔ اسلام کا یہی سب سے بہتر نظام ہے اور ہمیں بجائے اس کے کہ ہم دوسرے چھوٹے چھوٹے نظام قائم کریں۔ اس کے قیام کی طرف متوجہ ہو جانا چاہئے۔ اب ہمیں اس مینار کو اٹھانے کے لئے چاروں طرف سے لگ جانا چاہئے۔ جس کی ابتدا ہندوستان سے ہو اور انشااللہ بہت جلد ہم یہ دیکھیں گے کہ اس عمارت کی چوٹی تاج خلافت سے مزین ہو گی اور یہ خلیفہ عالم اسلام کی آزادی راہ سے منتخب ہو گا۔“ (ہمدرد 20ستمبر 1924ئ)[5] جنوری 1931ء میں مولانا محمد علی جوہر گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے انگلستان گئے۔ جہاں آپ نے آزادی وطن کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم انگریز میرے ملک کو آزاد نہ کرو گے تو میں واپس نہیں جاؤں گا اور تمہیں میری قبر بھی یہیں بنانا ہوگی۔ ۴؍ جنوری 1931کو ساڑھے نو بجے صبح لندن کے ہائڈ پارک ہوٹل میں جہاں ان کا قیام تھا، وہیں آپ نے وفات پائی اور مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی کی خواہش کے پیشِ نظر انہیں بیت المقدس میں دفن کیا گیا، مولانا کی قبر پر انہیں کا ایک شعر آج بھی لکھا ہوا ہے۔ جیتے جی تو کچھ نہ دکھلائی بہار مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کُھلے [1] https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%A2%D9%84_%D8%A7%D9%86%DA%88%DB%8C%D8%A7_%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85_%D9%84%DB%8C%DA%AF [2] http://daanish.pk/6872 [3] https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81%D8%AA [4] https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9_%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81%D8%AA [5] http://www.nawaiwaqt.com.pk/mazamine/04-Jan-2013/%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%B9%D9%84%DB%8C-%D8%AC%D9%88%DB%81%D8%B1
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
مولانا محمد علی جوہر
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں