بارش کی تلاش

تحریر :صدف اجمل

"کبھی آپ نے بارش کے ننھے ننھے قطروں پر غور کیا ہے۔اس کے ننھے ننھے قطرے ہر طرف اجالا لے آتے ہیں۔جیسے ہی بارش کی ننھی بوند ٹپکتی ہے ہر سو بہار کا سماں ہو جاتا ہے۔پودوں پتوں پھولوں پھلوں میں مسکراہٹ بھکر جاتی ہے۔جیسے دن کے اجاے میں رات کی تنہائی میں سہرا میں پہاڑوں پر درختوں پر بہار آ گی ہو۔ہر پتہ ہر پھول خوشی سے جھوم رہا ہو لہلہا رہا ہو۔

ہوائیں جھومتی ہوئی اپس میں سرگوشی کررہی ہوں۔جیسے نئے سرے سے ہر ز ئی روح میں بہار آ گی ہو۔بارش کے چند قطرے ہر سمط کو دھو ڈالتے ہیں۔ہر پھول پودے میں جان ڈال دیتے ہیں پوری فضا مہک اٹھتی ہے۔مٹی سے دھیمی دھیمی خوشبو آنے لگتی ہے۔جیسے ہر پھول ہر پتہ ہر ڈالی ہر بوٹا ایک دوسرےسے گلے مل رہے ہوں خوشی سے گا رہے ہوں۔

ہمیں بھی کسی ایسی ہی بارش کی تلاش ہےجو ہمیں اندر اور باہر سے دھو ڈالے ۔ہماری نفرتوں کو ختم کر ڈاے۔جو ایک نئی روح نئی زندگی ہم میں پھونک ڈالے۔جو ہمیں ان پتوں پھولوں پودوں کی طرح ایک ایسی خوشبو دے ڈاے جس سے ہماری پوری دھرتی ہماری مٹی مہک اٹھے۔ہمیں بھی کسی ایسی بارش کی تلاش ہےجو ہم سب کو یکجا کر دے ہماری دلوں کی دوریوں کو دور کر ڈاے۔ جو ہمیں ایسی ڈوری سے باندھ ڈاے کہ کبھی جدائی ممکن نہ ہو۔ہمارے دلوں کی دوریوں کو نفرتوں کو دھو ڈالے۔ہاں ہمیں بھی کسی ایسی ہی بارش کی تلاش ہے۔ہاں ہمیں بھی ایسی بارش کی تلاش ہے۔


افکار و نظریات: بارش کی تلاش