ستاروں سے آگے ۔۔۔خدا حافظ پی ٹی آئی

محبوب اسلم

آج بہت بھاری دل کیساتھ یہ اعلان کرتا ھوں کہ میں نے پی ٹی آئی کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیا۔ اقبال اگر زندہ ہوتے تو اپنے اس شعر کو پی ٹی آئی سے تشبیہ دینے پر مایوس ضرور ھوتے کہ موجودہ پی ٹی آئی نہ کوئی ستارہ رھی اور نہ ھی کوئی قابل ذکر جہاں ھی بنا سکی۔ لے دےکر وہی شخصی بت پرستی کی دکان ہے جہاں پوجے جانا والا شخص بھی ادھار کی وژن لیئے خود کو عقل کل سمجھ بیٹھا ھے۔ اور رھی سہی کسر ارد گرد جمع کئے ھوۓ لوٹوں اور درباریوں نے پوری کر دی۔

 جاننے والے بہت اچھی طرح جانتے ھیں کہ تبدیلی کی یہ وژن عمران خان کو پروفیسر رفیق احمد، ھارون رشید، اکبر شیر بابر اور نہ جانے کتنے ھی دوسرے محب وطن پاکستانیوں نے عطا کی۔ اور درحقیقت ان صاحبان نے عمران خان کی نوک پلک درست کی اور اسے آگے رکھا کہ کم ازکم اسکا نام ورلڈ کپ اور شوکت خانم کیساتھ جڑا ھوا تھا یوں پارٹی کو ایک جانا پہچانا چہرہ مل جائیگا۔ آج بھی لاھور میں مصطفی رشید اور مجید غوری موجود ھیں جو عمران خان کے شروع کے دنوں کے رازدان ھیں اور کیا کچھ نہیں بتاتے۔

الغرض ان صاحبان نے عمران خان نامی یہ بت کھڑا کیا اور یوں تبدیلی کے سفر کا آغاز ھوا۔ اور آفرین ھے اس قوم پر کہ جس نے اس بندے کو اور تبدیلی کے نظریے کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔ لیکن جب یہ سیاسی طور پر کچھ قابل ھوا تو اس نے سب سے پہلے اپنے محسنوں کیساتھ برا کیا۔ پہلے پہل تو ھم سب یہی سمجھتے رھے کہ عمران خان وہ رضیہ ھے جو جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک جیسے غنڈوں میں پھنس گئی ھے۔ اور ھمیں اس مجبور اور لاچار رضیہ کی مدد کرنی چاھیئے۔ لیکن آج یہ عقدہ کھلا کہ عمران خان وہ چالاک رضیہ ھے جو ان غنڈوں سے درحقیقت ملی ھوئی ھے۔ 

اللہ گواہ ھے کہ ھم نے اپنی اوقات سے بڑھکر پی ٹی آئی کی خدمت کی اور یہ کسی پر احسان نہیں کیا بلکہ ھم نے تبدیلی کے نظریے کو صدق دل سے تسلیم کیا اور ھم مادروطن کو صحیح معنوں میں بدلنا چاھتے تھے۔ میں نے اور مجھ جیسے ھزاروں پاکستانیوں نے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور دیکھتے ھے دیکھتے پی ٹی آئی ایک سونامی بن کر چھا گئی۔ لیکن عین اسوقت جب عمران خان کواللہ نے سیاست میں عزت دی اس بدقسمت شخص نے عوام کی طاقت کو چھوڑ کر پیسےوالوں کو گلے لگالیا۔ اور پھر پارٹی میں وہ وہ شرمناک کھیل کھیلا گیا جو ناقابل بیان ھے۔

 

مثلاً پارٹی میں عوامی امانت کے طور پر آنے والے فنڈز کی چوری سے لیکر ٹکٹوں کی فروخت تک ھر مکروہ کام کیا گیا اور عمران خان کی ناک تلے اسکی رضا مندی سے کیا گیا۔ اور جب جب پارٹی میں ان قبیح عوامل پرنظریاتی ورکرز نے آواز اٹھائی تو انکا گلا گھونٹنے والا کوئی اور نہیں خود عمران خان تھا۔ وہ اکبر شیر بابر ھو، جسٹس وجہیہ الدین ھو، محبوب اسلم ھو، تسنیم نورانی ھو، سلیم جان ھو، مصطفی رشید ھو، عظیم کاکڑ ھو، خدا یار چنڑ ھو، عالیہ حنا ھو، فرحان بھٹہ ھو، حنا منظور ھو، ڈاکٹر نصراللہ ھو، فیروز خان ھو الغرض ھر ایک نظریاتی اور صاحب کردار پارٹی ورکر کو اس ایک شخص عمران خان نے اپنی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھا دیا اور کرپٹ اور جرائم پیشہ افراد کو صرف پیسے کی خاطر پارٹی میں کرتا دھرتا بنا دیا۔

آج پی ٹی آئی مکمل طور پر ناکام سیاسی پارٹی کی شکل اختیار کر چکی ھے۔ تبدیلی کا نظریہ مر چکا اب صرف اور صرف اقتدار کی ھوس رہ گئی ھے اور لیڈری کا معیار یہ رہ گیا ھے کہ کون عمران خان کی چاپلوسی میں نمبر لے جاتا ھے۔ آپ چاھے کتنا ھی کرپٹ اور غنڈے کیوں نہ ھو اگر آپ پیسے والے ھیں اور عمران خان کے سامنے جی حضوری کر سکتے ھیں تو آپ اس بدقسمت پارٹی کے براہ است لیڈر بن سکتے ھیں۔ نواز شریف کی نا اھلی کے باوجود چکوال اوراب لودھراں میں پارٹی کی شکست اسی بات کی غماز ھے کہ پارٹی میں میرٹ کا جنازہ نکل چکاھے اور لوٹوں اور چوروں کی بارات کا راجا بننے کے بعد سے عمران خان نے باشعور ووٹرز کو مایوس کیا ھے اور وہ اس جعلی تبدیلی پر لعنت بھیج کر گھر بیٹھ گئےھیں۔

ان حالات میں بھی مجھ جیسے ورکرز نے پارٹی کی اصلاح کا جھنڈا اٹھاۓ رکھا۔ اور اسکی بھاری قیمت بھی ادا کی۔ مجھے لاھور میں علیم خان جیسے غنڈے اور جہانگیر ترین جیسے کرپٹ کے پالتو عناصر نے فائرنگ سے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ اور تو اور عمران خان نے مجھے خود اپنے گھر بلا کر میرا گریبان پکڑلیا۔ آج بھی اسکے پالتو گالی گلوچ اور دھمکیوں کا ایک طوفان پرپا کیے رکھتے ھیں۔ لیکن میرے دل میں ایک موھوم سی امید تھی کہ شاید یہ رضیہ واقعی ھی غنڈوں میں پھنسی ھوئی ھے۔ لیکن جب سے اس رضیہ نے لوٹوں کی بارات اکھٹی کرنا شروع کی ھے میں اس نتیجے پر پہنچا ھوں کہ رضیہ غنڈوں سے باھمی رضا مندی سے ملی ھوئی ھے۔

 یوں پی ٹی آئی میں اصلاح کا کام اسوقت تک وقت اور توانائی کا زیاں ھے جب تک عمران خان اس پارٹی کا سربراہ ھے۔ مجھ جیسے ھزاروں کارکنان اس پارٹی میں رھتے ھوۓ پاکستان کی کوئی خدمت نہیں کر رھے۔ ھم صرف نواز شریف اور زرداری جیسے چوروں کو جہانگیر ترین اور علیم خان جیسے چوروں سے بدلنے کا کام انجام دے رھے ھیں اور وہ بھی ایک بھونڈے انداز میں۔

 نواز شریف کی کرپشن کو بے نقاب کرنا عمران خان کی سیاسی مجبوری تھی اصل کرپشن تو وہ ھے جو پارٹی کے اندر اسکی رضا مندی سے جاری ھے۔ یاد رکھیں ھمارے اصل لیڈر تو وہ ذات اقدس ھیں جو چوری کی صورت میں اپنی بیٹی  فاطمہ رضی اللہ عنة کے ھاتھ بھی کا ٹنے پر تیار تھے۔

یاد رکھنے کی بات یہ بھی ھے کہ ھماری پہلی اور آخری وفاداری اس ملک سے ھے۔ ھم نے پی پی پی، ایم کیو ایم، اور نون لیگ کو اس ملک کی جڑیں کھوکھلا کرتے دیکھا تو انھیں للکارا اور پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی۔ آج جب پی ٹی آئی بھی وھی روایتی پارٹی بن چکی ھے تو آج ھم اس کو للکارینگے اور اس سے بہتر سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھیں گے۔

اپنے ساتھیوں کے ھمراہ ھم نے پی ٹی آئی کی غلطیوں سے سیکھا اور انصاف اتحاد کے نام سے ایک انٹرا پارٹی گروپ کا لائحہ عمل ترتیب دیا اور ایک ایسی تنظیم سازی کا خاکہ بنایا جہاں لیڈر شپ احتساب کے نیچے کام کرے، اوپر آنے کیلئے سب ورکرز کو یکساں موقعہ ملے، جہاں پارٹی کے نظریے کا ھر حال میں تحفظ ھو اور فرد واحد سپریم نہ ھو بلکہ باھمی مشاورت سپریم ھو۔ لیکن موجودہ پارٹی کے اندر ان عوامل کے لاگو ھونے کی ناکامی کے بعد ھم ساتھیوں نے پارٹی سے باھر اس وژن کی فروغ پر کام کیا۔

پچھلے ایک سال میں ھم کئی ساتھیوں سے ملے اور ان کی بنائی ھوئی پارٹیوں اور انفرادی کوششوں کو قریب سے دیکھا۔ ان سب میں ھمیں پاکستان فریڈم موومنٹ کا پلیٹ فارم بہتر لگا۔ لیکن یہاں بھی مسئلہ پارٹی میں فرد واحد کی حاکمیت کا آڑے آیا۔ پارٹی کے چیئرمین ھارون خواجہ گو کہ اعلی تعلیم یافتہ ھیں اور ایک کامیاب بزنس مین بھی ھیں لیکن انکی پارٹی میں بھی تنظیم اس نہج پر استوار نہیں تھی جو ھمارے طے کردہ لائحہ عمل کے مطابق ھو۔

 یوں ھارون خواجہ کی ٹیم کے کچھ ممبران سے ھماری ٹیم کی گفتگو شنید جاری رھی اور ابھی کچھ روز پہلے ھارون خواجہ صاحب اور انکی ٹیم کے چیدہ چیدہ افراد نے اپنی پارٹی کا ڈھانچہ ھمارے طے کردہ لائحہ عمل کے مطابق ڈھالنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ھے۔یوں اب میرے لئے پی ٹی آئی میں رھنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بچتا۔ ایک بہتر پاکستان کیلئے میری جدوجہد جاری رھے گی لیکن اب پاکستان فریڈم موومنٹ کے پلیٹ فارم سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ ان شا اللہ تعالی۔

اب سوال یہ اٹھتا ھے کہ اگر میں یہ پارٹی چھوڑ رہا ہوں  تو پھر ٹیک فورس کے ھزاروں ممبران کا کیا ھوگا۔ میں ان سب ممبران سے دست بدستہ گذارش کرتا ھوں کہ آپ بھی پی ٹی آئی میں ھونے والی بنیادی تبدیلی کو سمجھیں۔ اس پارٹی کا اپنا لیڈر تبدیلی کے خواب کو چھوڑ چکا ھے۔اس پارٹی میں اب مزید وقت گذارنا ھمارے وقت اور توانائیوں کا زیاں ھے۔ آپ ھمارے ساتھ ایک نئے پلیٹ فارم  پر حقیقی معنوں میں اس ملک میں مثبت تبدیلی کیلئے کام کریں۔۔۔ اللہ تعالی ھماری نیتوں کا جاننے والا اور ھماری کاوششوں کا امین ھے۔

 

میں ان سب ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ھوں جنھوں نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے سچ کہنے اور لکھنےکی ھمت دی۔۔۔میں آپ کی محبتوں کا قرض اتار نہیں سکتا۔ اللہ آپ کو خوش وخرم رکھے اور آپکے لیئے آسانیاں پیدا کرے۔ آمین۔

 

پاکستان ھمارا وطن ھے اور یہ ھماری ذمہ داری ھے کہ ایک بہتر ملک اپنی آنے والی نسلوں کو دیکر جائیں۔۔۔اور ھم یہ کام بفضل تعالی کرینگے۔ ان شا اللہ!!!

 

 

 

 


افکار و نظریات: ستاروں سے آگے ۔۔۔خدا حافظ پی ٹی آئی