شادی خانہ آبادی یا بربادی

فرحان منہاج

‏‎اسلام نے اسراف یعنی ضرورت سے زیادہ خرچ اور بخل یعنی ضرورت سے کم خرچ کو منع فرمایا ہے.ہم اسلام کے نام پر گستاخی اور کفر کے فتوے ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں .مگر اسکی بنیادی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں ..شادیوں میں اسراف ہمارے معاشرے کا معمول.ہوگیا ہے.

شادیوں میں خوشیاں منانا قطعی منع نہیں مگر اس کی خاطر بے دریغ خرچ کرنا اور اسکا رواج ڈالنا یہ غلط ہے. اس رواج نے نا جانے کتنے گھروں میں بیٹیوں کے سروں پر چاندی سجادی ہے اور نا جانے کتنے باپ وقت سے پہلے بوڑھے کردیے ہیں.

اسلامی تعلیمات ہمیں سمجھاتی ہیں کہ کھائے ہوئے پھل کے چھلکے سر بازار نہ پھینکو بلکہ چھپا کر پھینکو صرف اس لیے کہ کوئی ایسا بچہ نہ دیکھ لے جس کے والد کی بساط میں پھل خریدنا نہیں اور اس بچے کی دل پر یہ گراں گزرے. اسلامی تعلیمات اس عظیم معاشرتی احساس کی تبلیغ کرتیں ہیں.

مجھے یاد ہے میں نے اکثر ایک واقعہ سنا ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا گم ہوگیا وہ آقا کریم کے حضور اپنا سوال لیکر آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ایک میدان میں لے گئے جہاں اسکا بیٹا کھیل رہا تھا وہ باپ اپنے پسر کی محبت میں ابھی اپنے بیٹے کو فرحت جذبات میں بیٹا کہنے ہی لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں روک دیا اور کہا بچےکو پاس بلاؤ پھر آہستہ سے کہو میدان میں تمہارے بیٹے کے ساتھ یتیم بچے بھی ہیں تمہارے بیٹے بلانے سے بیٹا تمہاری طرف بھاگا آئے گا یہ عمل کہیں ان بچوں کو افسردہ نہ کردے. قربان جاؤں میرے آقا کے ...

شادیوں میں نمودو نمائش نا جانے کتنے کی حسرتوں کو جگا تی ہے اور کتنوں کو افسردہ کرتی ہے اور کتنوں کمزور اور غریبیبکا احساس دلاتی ہے اسکا شاید ہی ہمیں اندازہ ہو

شادیوں کو سادہ کرنے کے رواج کو.فروغ ملنا چاہیے اس کے لیے ہمیں اسراف کو ترک کرنا ہوگا اور حکومت پاکستان کو شادیوں کو سادہ بنانے کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے بلکہ اس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے

مجھے یہ تحریر لکھنے کا خیال ازبکستان کے صدر کی جانب سے شادیوں پر بے جا خرچ روکنے کے لیے قانون سازی کی تیاری کی خبر پڑھنے کے بعد آیا ازبکستان میں 13 فی صد غریب لوگ رہتے ہیں وہاں اوسطً ہر گھر میں تین بچے ہیں، وہاں شادیوں میں گانا بجانا 500 سے زائد افراد کی دعوت کرنا معمول ہے ایک اندازے کے مطابق ازبکستان میں ایک شادی پر 20000 ڈالرز خرچ آتے ہیں .. جبکہ وہاں ایک گھرانے کی ماہانہ اوسط آمدنی 100 سے 150 ڈالر ہے

ازبکستان کے صدر شوکات مرزایوو نے ایک دستاویزات میں شادی پر 150 افراد کو بلانے اور مختصر گانا بجانے کے ساتھ شادی کے کھانے میں گوشت کے کم استعمال کی سفارش کی ہے . انہوں نے اپنی دستاویزات میں ایک پیرا لکھتے ہوئے لکھا ہے کہ

شادیوں پرگوشت استعمال کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ آپ کسی غریب شخص کے گھر میں رنگ روغن کروا دیں یا اس کے لیے ٹی وی خرید لیں۔ ایک عام شخص جو سرکاری نوکری سے تنخواہ کماتا ہو اور اس کی چار بیٹیاں ہوں، وہ ان کی شادی کرنے کے بجائے خود کشی کر لے گا کیونکہ اس کے پاس شادی کرانے کے پیسے ہی نہیں ہوں گے۔'

#ضرب_تحریر.


افکار و نظریات: شادی خانہ آبادی یا بربادی