اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات جو حکم میرے آقا! سعودی عرب نے امریکہ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ عمل بنا رکھا ہے اور دوسری طرف امریکی تہذیب کا کھوکھلا پن عیاں سے عیاں تر ہوتا جا رہا ہے، جہاں جنسی درندگی کے واقعات معمول ہیں اور ایک عرصے سے اسکولوں میں پڑھنے والے بچے غیر محفوظ ہیں۔ چند روز قبل امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چھوٹے سے قصبے پارک لینڈ میں واقع ہائی سکول میں 19 سالہ طالب علم نکولس کروز (Nicolas Cruz) نے آٹومیٹک گن سے اپنے 17 دیگر طالب علموں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ اجتماعی ہلاکتوں (mass shooting) کی یہ لرزہ خیز واردات ماضی میں اس نوعیت کی پیش آنے والی وارداتوں میں بدترین شمار کی جارہی ہے۔ دسمبر 2012ء میں امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کے ایک پرائمری سکول میں فائرنگ سے 20 بچوں سمیت ستائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ نیوٹاؤن نامی قصبے کے سینڈی ہک سکول میں پیش آیا تھا جہاں زیرِ تعلیم بچوں کی عمریں پانچ سے دس برس کے درمیان تھیں۔ اسوقت کے امریکی صدر براک اوباما نے ایک پریس کانفرنس میں پُر نم آنکھوں سے کہا کہ اس وقت ہمارے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، ہم پہلے بھی متعدد مرتبہ اس طرح کے واقعات دیکھ چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس بارے میں ٹھوس اقدام کریں۔ اسی طرح اکتوبر 2014ء میں امریکہ کی ریاست واشنگٹن میں ایک طالب علم نے سکول کے کیفے ٹیریا میں فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور چار کو زخمی کرنے کے بعد خودکشی کر لی۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جس ہتھیار سے فائرنگ کر گئی ہے وہ قانونی طریقے سے خریدا گیا تھا۔ امریکہ میں اس نوعیت کی فائرنگ کے واقعات متعدد بار پیش آ چکے ہیں اور اس کے بعد ملک میں بندوق رکھنے کے قانونی حق پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ لیکن یہ سلسلہ تھما نہیں۔ ستمبر 2016ء میں امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں ایک پرائمری سکول میں فائرنگ کے واقعے میں دو بچے اور ایک استاد زخمی ہوگئے۔ بعد ازاں اپریل 2017ء کو ریاست کیلیفورنیا کے ایک پرائمری سکول میں مشتبہ قتل اور خود کشی کے واقعے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔ دسمبر 2015 میں سان برنارڈینو میں ہی ایک حملہ آور نے معذور افراد کے ایک سروس سنٹر میں گھس کر اندھا دھند گولیاں چلائی تھیں۔ اس واقعہ میں 14 افراد ہلاک اور 21 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔حال ہی میں فروری 2018ء میں ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوگئے، پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔ ملزم نے فائرنگ کرنے سے پہلے فائر الام بجایا جس سے افراتفری پیدا ہوئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے بعض اوقات کہ اسکولوں کے بچوں کو فائرنگ کا نشانہ بنانے والے افراد سوچ سمجھ کر ایک منصوبہ بندی سے تشدد کرتے ہیں۔ کیونکہ فلوریڈا میں فائرنگ کرنیوالے نکلولوس کروز نے ایک رائفل استعمال کیا اور اس کے پاس لاتعداد میگزینز تھے، اس نے سکول کے باہر سے فائرنگ کرنا شروع کی، جہاں تین افراد ہلاک ہوئے، اس کے بعد وہ عمارت میں داخل ہوا اور مزید 12 افراد کو ہلاک کیا۔ اس واقعہ میں بحٖفاظت باہر آنے والے ایک طالب علم کے مطابق اسکول کے طلبہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی مشق ہورہی ہے، آج صبح ہی ایک مشق ہوئی تھی اور جب ہم نے گولیوں کی آواز سنی، کچھ طالب علموں نے سوچا کہ یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں۔ ایوری ٹاون فار گن سیفٹی کے مطابق یہ حملہ رواں سال کسی سکول یا اس کے قریب ہونے والا 18واں واقعہ تھا، مجموعی طور پر 2013ء سے اب تک امریکہ میں 291 ایسے واقعات پیش آچکے ہیں۔ ان واقعات کے بعد امریکہ کے طول و عرض میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر آ کر اسلحے پر زیادہ سخت کنٹرول کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ اس تحریک کا نام اپنی زندگیوں کے لیے مارچ رکھا گیا ہے اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب گذشتہ ماہ فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ کے ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں 17 افراد مارے گئے تھے۔ پارک لینڈ کے حملے میں بچ جانے والی طالبہ ایما گونزالس نے واشنگٹن ڈی سی میں اس بارے میں ایک طاقتور تقریر کی۔ مقتولین کے نام گنوانے کے بعد وہ چھ منٹ، 20 سیکنڈ تک خاموش رہیں۔ یہ وہ وقت تھا، جس کے دوران قاتل گولیاں برساتا رہا تھا۔ ملک بھر میں 800 کے قریب ایسے ہی احتجاجی مظاہروں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جب کہ لندن، جنیوا، سڈنی، ٹوکیو اور ایڈنبرا میں بھی اظہارِ یکجہتی کی خاطر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے مشرقی حصوں میں ہونے والے مظاہروں کے بعد اب مغربی ساحل پر احتجاجی جلوس اور جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں اور لاس اینجلس میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا ہے۔ نیویارک سے لے کر الاسکا تک چھوٹے بڑے شہروں میں سینکڑوں جلوس نکالے گئے ہیں۔ دارالحکومت کے پینسلوینیا ایوینو میں ہونے والے جلسے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں بچے اور نوجوان زیادہ تھے۔ انھوں نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا تھا، اسلحہ نہیں، بچوں کو بچاؤ اور کیا اب میری باری ہے؟ آریانا گرینڈ، مائلی سائرس اور لن مینوئل میرانڈا جیسے مقبول گلوکاروں نے امریکی کانگریس کی عمارت کے باہر گیت گائے۔ بیچ بیچ میں تقریریں بھی ہوتی رہیں۔ طلبہ نے پرجوش انداز میں لوگوں سے خطاب کیا۔ پارک لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک مقرر ڈیلنی ٹار نے کہا کہ ہم اپنے مردہ ساتھیوں کے لیے لڑتے رہیں گے۔ ایک تقریر 11 سالہ نیومی والڈر نے کی، جن کا تعلق ریاست ورجینیا سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ سیاہ فام امریکیوں کی نمائندگی کر رہی ہیں جن کی آوازیں ہر قومی اخبار کے صفحۂ اول تک نہیں پہنچ پاتیں۔ 14 فروری کو پارک لینڈ کے سٹون مین ڈگلس ہائی سکول میں ہونے والا فائرنگ کا واقعہ امریکی سکولوں میں ہونے والے حملوں کے لمبے سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس کے بعد وہاں احتجاجی جلوس منعقد کیے گئے جن میں سب سے بڑھ کر گونزالس نے حصہ لیا۔ یہ تحریک سوشل میڈیا تک بھی پہنچ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گونزالس کے ٹوئٹر فالوورز کی تعداد دس لاکھ تک پہنچ گئی۔ بعد میں اس تحریک میں دوسرے حملوں سے متاثرہ طلبہ اور دوسرے لوگ بھی آ آ کر شریک ہونے لگے۔ اس ماہ کے شروع میں انھوں نے ملک بھر میں سکولوں سے واک آؤٹ کا اہتمام کیا تھا۔ ان کا مقصد امریکی سیاست دانوں کو قائل کرنا ہے کہ وہ اسلحے اور خاص طور پر خودکار اسلحے پر پابندی کی اقدامات کریں۔ ہفتے کو ہونے والے ان مظاہروں میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا ہے تاہم اسلحے کا معاملہ امریکہ میں ہمیشہ کی طرح اب بھی متنازع ہے۔ امریکی آئین اسلحہ رکھنے کے حق کا تحفظ کرتا ہے اور اس حق کا حامی ادارہ نیشنل رائفل ایسوسی ایشن انتہائی بااثر ہے۔ ہفتے کی سہ پہر وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا ان نوجوان امریکیوں کی تعریف کی گئی تھی۔ تاہم مظاہرین کو اس پر مایوسی ہوئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس بارے میں کوئی ٹویٹ نہیں کی۔ اجتماعی ہلاکتوں کے واقعات امریکہ میں معمول بن گئے ہیں، گذشتہ سال اکتوبر میں ایک شخص نے ہوٹل کی انیسویں منزل سے ایک کنسرٹ میں شریک مجمع پر اندھا دھند فائرنگ کرکے 58 افراد کو ہلاک اور 851 کو زخمی کر دیا۔ پولیس اور تحقیقاتی ادارے اس بات کو جاننے سے ابھی تک قاصر ہیں کہ کیوں کر اس شخص نے اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وہ اس ہوٹل میں کئی دنوں سے مقیم تھا اور آزادی کیساتھ بڑی مقدار میں اسلحہ لیکر آتا رہا جس کا کسی کو علم نہیں ہوا۔ اس نے اپنے کمرے کو ایک مورچے میں تبدیل کر دیا تھا جہاں نشانہ لینے کیلئے اس کے پاس دوربینیں بھی موجود تھیں۔ اس نے پندرہ منٹ فائرنگ کی اور خود اس سلسلے کو روک دیا۔ پولیس اس کے کمرے میں ایک گھنٹے کے بعد پہنچی جب تک اس نے خود کو بھی ہلاک کر لیا تھا۔ امریکہ میں تشدد کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ صرف اس نئے سال میں اب تک 6746 تشدد کے واقعات سامنے آچکے ہیں جن میں 1863 افراد ہلاک اور 3216 زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں 17 سال کی عمر تک کے 400 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔ مزید براں ان میں 30 واقعات اجتماعی ہلاکتوں کے تھے جس میں 50 زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ 2014-2017ء کے عرصے میں سوا دو لاکھ فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں 56755 لوگ ہلاک اور 111855 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایک ہولناک صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ دنیا کا کوئی ملک اس قدر گنز سے ہلاکتوں کا حامل نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی جمع کردہ معلومات کے مطابق امریکہ میں گنز کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتیں کینیڈا کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ اور جرمنی کے مقابلے میں سولہ گنا زیادہ ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ امریکہ کی کل آبادی دنیا کی آبادی کا صرف چار فیصد ہے لیکن دنیا کی وہ سویلین آبادی جو آتشیں ہتھیار رکھتی ہے اس کا پچاس فیصد (26.5 کڑوڑ) امریکہ میں ہے۔ اوسطاً امریکہ میں ہر روز کم از کم ایک اجتماعی ہلاکت کی واردات ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ وہ کیا محرکات ہیں جو امریکی معاشرے میں تشدد کے اس رجحان کا باعث بن رہے ہیں اور وہ کیا محرکات ہیں جو یہ سب ہونے کے باوجود سعودی عرب امریکہ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہے۔ یہ بھی سوچنے کا مقام ہے کہ کیا سعودی عرب کی امریکہ کی بے دام غلامی کے سلسلے میں دیگر عالمِ اسلام کی کوئی ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں!؟ کیا سعودی عرب کوامریکہ کی غلامی سے باہر نکالنا امت مسلمہ کی بقا اور ارتقا کے لئے ضروری ہے یا نہیں!؟
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
افکار و نظریات: جو حکم میرے آقا
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں