میں لکھتا ہوں یہ اسے نہیں معلوم تھا

گلزار حسین

ہم تینوں گاڑی میں بیٹھے تھے جب ساقی نے کہا یار قلم میں بڑی پاور ہے،اس نے اپنے ساتھی سے بات کی تھی,  میری اور ساقی کی پہلی ملاقات تھی,  حسین نوجوان, وردی میں بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا, اس نے جب یہ کہا کہ قلم میں بڑی طاقت ہے, میں سموسہ کھارہا تھا, میں رک گیا اس کی بات مجھے عجیب سی لگی, حالانکہ میں لکھتا رہتا ہوں اور مجھے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ جو نہیں لکھتا وہ کیسے کہہ سکتا ہے قلم میں بڑی طاقت ہے, میں اس کی بات پہ مزید توجہ دینے لگا,  مجھے لگا کہ یہ اچھا موضوع ہے لکھنے میں مزہ آۓ گا , اس کے ساتھ بیٹھے دوست نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے

ڈنڈے میں پاور ہے لاٹھی میں پاور ہے, جس کی لاٹھی اس کی بھینس, دیکھ لیجے جتنے بھی بڑے بڑے مجرم ہیں ان کے پیچھے بڑے بڑے سیاستدان شامل ہیں,  چاہے قتل کی واردات ہو,  چوری ڈکیتی, سمگلنگ,  نشہ, زیادتیاں ان سب میں بڑے بڑے عہدوں والے شامل ہیں,  ہاں پانچ انگلیاں برابر نہیں, مانتا ہوں مگر ہمارے ملک کے سب ادارے ایک ادارے کے غلام بن جاتے ہیں وہ ادارہ ہے حکومت یعنی لاٹھی جس کی حکومت اسی کی ریاست اسی کی عوام اسی کے جج اسی کی عدالتیں, اسی کے ادارے.

یعنی ڈنڈے میں بڑی طاقت ہے, اور ڈنڈہ غریب کے ہاتھ میں کبھی نہیں آۓ گا یعنی غریب کو غریب ہی رکھا جانا ہے,  ہاں غریب حکومت میں آجاۓ تو شاید غریب کی بات ایوان تک پہنچ جاۓ

لیکن ایسے غریب سے بھی ڈر لگتا ہے جو حکومت میں آکر سب کچھ لوٹ لے اور کہے ہمارے دور میں خوشحالی آگئ ہے, 

نہیں یار.... ساقی نے اسے روکتے ہوۓ کہا

قلم

میرے بھائ قلم میں بڑی طاقت ہے اگر قلمکار اپنے قلم کو درست سمت لے جائیں اور واقعی پاکستان کے لیے لکھنا شروع کر دیں

تو سب کرپٹ لوگوں کی گردنیں جھک جائیں گی انہیں حساب دینا پڑے گا,  ابھی آپ دیکھ لیں عدالت کی عزت کا فالودہ بنایا جاتا ہے اور میڈیا اسے بہترین کوریج دیتا ہے, جب کوئ بندہ وزارت سے نااہل ہوجاۓ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ قوم کا مجرم ہے اسے شرم آنی چاہئیے تاکہ اپنی شخصیت کا وقار ہی بحال رہ سکے,

جب پرویز الہی رینٹل پاور کیس میں ملک کا پیسہ کھا کے سوجاۓ جب زرداری صاحب جو آجکل حاجی صاحب بنے ہوۓ ہیں,  ادھر محترمہ کو دیکھ لیں عورت ہے عورت کا مطلب نہیں جانتیں تو اپنا لب و لہجہ مہزبانہ رکھ لیں اور خان صاحب تو واقعی ایک لیڈر ہیں جو قوم کو نوجوانوں کو ادبی لب و لہجہ سکھا رہے ہیں,  اوۓ شہباز شریف تو ڈرامے باز ہے , اوۓ تجھے فلاں فلاں اپنے وقت میں تو خادم پنجاب بھی زرداری کو کسی چوک میں لٹکانے کی باتیں کیا کرتے تھے پھر ناجانے کیا ہوا سب ٹھس ہوگۓ,

قلم کی نوک بھی اسی طرح گھومتی گئ جس طرف حکومتیں, اگر قلم کو قلمکار ایک رخ دے دے تو کسی خون خرابے کی ضرورت نہیں, اچھا جناب ہم چلتے ہیں,  گاڑی آگئ,

اللہ حافظ

ان کی کچھ تکی اور کچھ بے تکی سی باتوں سے میں نے یہی سوچا کہ واقعی قلم کی طاقت ہے ؟

آج اس دور میں قلم سے تبدیلی ممکن ہے ؟

اگر ہے تو کیسے ؟

کیا قلم بکتا بھی ہے,

کیا قلم لڑتا جھگڑتا بھی ہے ؟

کیا قلم اپنی سیاہی کے زریعے انقلاب لا پاۓ گا

یا اپنی کھوئ ہوئ طاقت بحال رکھ پاۓ گا


افکار و نظریات: میں لکھتا ہوں یہ اسے نہیں معلوم تھا