کرامت بھائی

تحریر : صدف اجمل

آج میں جس انسان کے بارے میں لکھنے جا رہی ہوں وہ انسان نہ صرف میری نظر میں بلکے ہر فرد کی نظر میں اپنی  قابلیت ، ہمت، جرت، کام کی لگن ،دوستی،  ہر دم مدد  اور رہنمائی  کے جذبے سے  خراج تحسین کا حق دار ہے۔نہ صرف نام ہی کرامت نہیں بلکہ اس کی شخصیت کا ہرہر پہلو بھی انگنت کرامات کا حامل ہے۔

 میں نے بہت کم عرصے میں بہت کچھ جانا  اس خوبصورت ہستی  کے بارے میں۔ آپ اسے دوست کہیں، بھائی کہیں، ہمدرد کہیں ، غمگسار کہیں، رہنما  کہیں، الغرض  آپ اس انسان  کو ہر روپ میں پائیں گئے_میں اس ہستی کو انسانیت کے لیے اللہ کی طرف سے ایک  عظیم تحفه  کہوں گی_

پچھلے اٹھارہ سالوں سےاسپائینل کورڈ انجری میں مبتلا یہ انساں آپ کو بھرپور ہمت اور ہر دم کام کی لگن میں مشغول نظر آئے گا۔ جہاں تک میں نے جانا میں نے اس خوبصورت اور ہر فن مولا شخصیت کو ویل چیر پر تن تنہا   سفر کرتے دیکھا اور   بنا کسی شکایت  کے۔  ایکدم مسکراتا چہرہ ۔ سردی ہو یا گرمی چاہے طبعیت کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو آپ اس کو بلائیں اور وه نہ آئے یہ ہو نہیں سکتا۔

 میں  نے لوگوں کو تندرستگی میں بھی روتے دیکھا ہے ۔ کام کو بوجھ سمجھتے دیکھا ہے ۔ لوگوں کو دوسروں کی مدد سے انکار کرتے دیکھا ہے۔میں اپنی ذات  کی پہلے بات کروں گی۔ میں چند ایک گھنٹے مسلسل کام کروں تو میں دو دن تک بستر پر پڑی رہتی ہوں مسلسل میرے لبوں پر ہوتا ہے میں تھک گئی مجھے یہاں درد ہے مجھے وہاں درد ہے پر میں نے کرامت جیسے انساں کو اف بھی کرتے نہیں دیکھا۔

ایک مرتبہ  میرا اتفاق ہوا کرامت سے سوال کا ۔ کرامت آپ کتنے وقت سے بیمار ہو؟۔ کرامت نے اتنی خوبصورتی سے جواب دیا کہ آپ کو کس نے کہا کے میں بیمار ہوں اور اس وقت میں انتہائی شرمندہ ہوئی کے واقعہ ہی میں بیمار وہ نہی بیمار تو میں اور آپ ہیں۔ بیمار تو ہماری سوچ ہے بیماری تو ہماری ہرہر روپ میں ہے۔

   کوئٹہ میں پہلی بار خاص افراد کے لیے کام کروانے والا تنہا شخص کرامت ہے دن رات خواری کر کے حقوق کے لئے لڑنے والا کرامت ہے ۔ شدید تکلیف میں ہوتے  ہو ئے  بھی  لبوں پر شکایت نہ لانے والا کرامت ہے  ویل چیر پر کام کرتے ہوئے  تندرست  لوگوں کے منہ پر زور دار  طمانچہ مارنے والا کرامت ہے  میرا سلام ہے  میرے اس  خوبصورت بھائی کے نام۔ ہم کو رہتی دنیا تک آپ جیسا کوئی  نہی ملے گا آپ جیسا کرامت بھائی نہ کوئی تھا  نہ ہے اور نہ رہتی دنیا تک کوئی آئے گا۔ میرا سلام ہے آپ کی سوچ ، ہمت ، حوصلے اور قابل تحسین جذبے کو۔ آپ کو اللہ ہمیشہ ہنستا مسکراتا اور شاد و آباد رکھے۔ آمین۔


افکار و نظریات: کرامت بھائی