ہیرو آف گلگت بلتستان

تحریراشرف سراج گلتری

a.seraaj512@gmail.com

قومی،علاقائی زبانی اور مذہبی تعصب سےبالاترہوکر ایک قومی،علاقائی اورملی درد کی بناپرحقیقت بیان کی جائےتوتاریخ بلتستان میں اب تک سیدعلی رضوی جیساسپر ہیروکہیں دیکھنے کونہیں ملتا ،اگرسابقہ حالات کا درست تجزیہ کیاجائےتوسیدعلی رضوی نےاپنی سوشل اورسیاسی فعالیت ایک ایسےزمانےسے شروع کی ہےکہ جس میں سیاسی، قومی،علاقائی،زبانی اورمذہبی منافرت وتعصب عروج پرتھی ہرطرف نفسانفسی کاسماں تھا ،حقوق کےحصول اورظلم کےخلاف اٹھنے والی ہرتحریک کوتعصب اور منافرت کارنگ دےکردبادیاجاتاتھالهذااس پرخطرفضاکےتناظرمیں یہ کہاجائےتومبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ شخص گلگت بلتستان کے ہیرو کرنل حسن خان اوران کےرفقاسے بھی چندقدم آگےہے کیونکہ ازآدی کی تحریک کےوقت گلگت بلتستان میں کسی قسم کے تعصب اورمنافرت کا عنصرموجودنہ تھابلکہ تمام مسلمان، هندوستان سےعلیحدگی چاہتےتھےاورسب تحریک کوکامیاب بنانےمیں اپناحصہ ڈال رہےتھے.مگرسیدعلی کےلئےایسے مناسب حالات موجودنہ ہونے کےباوجودپھربھی ہرزبان ،قوم اورمذہب کےلوگوں کےسامنےایک ہمدرد،سچااورمخلص لیڈرثابت ہوچکےہیں.

اگرسیدعلی رضوی کےخلاف کیے جانےوالے پروپیگنڈوں اور سازشوں کودقیق نگاہ سے دیکھاجائےتو اس عظیم ہیرو کی اعلی ظرفی اوربصیرت کااندازہ لگایا جاسکتاہے.

سید علی رضوی کےخلاف پروپیگنڈوں کابازارہراس وقت گرم ہواتاتھا کہ جب بھی کوئی سانحہ ہوتایہ مردقلندر جوانوں کولےکرنااہل انتظامیہ اوردہشتگردو ں کےخلاف سڑکوں پہ آکر احتجاج کرتاتھااس وقت مخالفین،انتظامیہ سےہمدردیاں سمٹینے کےلئےسکردوکےامن کےخلاف قراردےکرسیدعلی کوداغ داربنانے کی کوشش کرتےتھےحالانکہ سیدعلی کی پوری تقاریرکسی مسلک اورمذہب کےخلاف نہیں ہوتی تھیں بلکہ دہشتگردوں اورنااہل انتظامیہ کوہی للکاررہےہوتےتھے.

اس پروپیگنڈےکےبانی اس وقت رسواہوگئے  کہ جب سیدعلی نےعوامی ایکشن کمیٹی کےزریعےگندم سب سڈی کی تحریک چلائی توسکردو میں موجودتمام سنی،دیوبندی،نوربخشیہ مسلک کےعلمانے سیدعلی کوسکردو کی عوام کےلئےایک بےلوث اورمخلص لیڈرقراردےکراس کی قیادت پرمکمل اعتماد کااظہار کیااوربھرپورساتھ دینےکی یقین دہانی کرائی اورکمال تو یہ ہواکہ جب گندم سب سیڈی تحریک چلانے کےلیےچلاس اوراستور کی عوام کوپیغام  بھیجا گیا تو چلاس اوراستور کی عوام  نےیک زباں ہوکر سیدعلی قدم بڑهاو ہم تمہارےساتھ ہیں کےفلک شگاف نعروں سےاس پیغام کا استقبال کیا۔

دوسراپروپیگنڈہ اس وقت کیا جاتاہےکہ جب سیدعلی ہسپتالوں کی فیس کےخلاف میدان میں اترتاہے یہاں پرمخالفین کےلئےاورکوئی بہانہ نہیں ملتاہے لهذااس تحریک کومحض سیاسی اورپارٹی مفادات کارنگ دےکرناکام کرنےکی کوشش کرتےہیں مگر سیدعلی عوام تک اپنے سچےموقوف کوپہنچانےمیں کامیاب ہوجاتاہےتوتحریک ایک فردسےنکل کرعوامی تحریک کےطورپرابھرتی ہےیوں ظالم حکمران فیس معاف نوٹفیکیشن جاری کرنےپرمجبورہوجاتےہیں۔

تیسراپروپیگنڈہ جونہایت خطرناک نوعیت کاتھا جس کےلئے ایک منظم سازش کےتحت ایک چھوٹے سےمعاملےمیں سیدکےایک ہمسایہ کاجھگڑاایک شین لڑکےسےکرایاجاتاہے پھر چندمنٹوں کےاندراس جھگڑے پر لسانی اور مذہبی رنگ چڑهاکرسکردوشہر کےمحلہ محلہ گلی گلی تک پھیلایاجاتاہے اورکسی خاص مذہب کےسیاسی نمائندےپرفائرنگ بھی ہو جاتی ہے اوراس تمام تر جھگڑےکااختتام اس عظیم شخصیت پرلسان پرستی کی تہمت لاکرکیاجاتاہے.

مگر"ومکرواومکراللہ واللہ خیرالماکرین" حالات کےساته ساته حقیقت عیاں ہوجاتی ہے حتی کہ اس سازش اورفساد پرخرچ ہونے والی رقم تک کا بھی پتہ لگ جاتاہےتوعوام ایک مرتبہ پھرسیدعلی کےگردجمع ہوجاتی ہےاورجب اسی حلقےمیں سیدعلی کا نام لےکر ایک گمنام شخص الیکشن میں حصہ لیتاہےتو سابقہ تمام کانڈیڈیٹس کےمقابلے میں تین برابرووٹ لےکر کامیاب ہوجاتاہےیوں ان تمام پروپیگنڈوں اورسازشوں کےباوجود سیدعلی رضوی نےخالصتا عوامی اور علاقی مفادات کےحصول کےلئے اب تک چاربڑی تحریکوں کی کامیاب ترین قیادت کی ہے جن تحریکوں کی مثال تاریخ گلگت بلتستان میں پہلے کہیں نہیں ملتی یہ شخصیت حکومت کےخلاف مسلسل  پندرہ سے بیس دن تک کےلئےلاکھوں افرادکامجمع سڑک پہ لانے میں دودفعہ کامیاب ہوچکی ہےاورسب سے بڑی خوبی اس شخصیت کی یہ رہی ہے ظالم حکمرانوں سے سمجھوتہ کئےبغیر اپنی استقامت ،بہادری اورجرائت کےساتھ ان تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنارکیاہے.


افکار و نظریات: ہیرو آف گلگت بلتستان