کپڑوں کے انبار  ، لمحہ فکریہ

پروفیسر عالم شاہ

 ستر کی دھائی کی بات ہے جب ہمارا بچپن تھا اس وقت عید کے عید ہی نئے کپڑے درزی سے سلوانے کا رواج تھا۔ ریڈی میڈ بھی اسی زمانے میں متعارف ہورہا تھا مگر اسے کوئی خاطر خواہ پذیرائی نصیب نہ ہوئی تھی اور ریڈی میڈ لباس پہننا معیوب ہی سمجھا جاتا تھا لہذا انتہائی ضرورت کے وقت ہی اس کی نوبت آتی تھی یا اس وقت جب پیسے کم ہوتے تھے کیونکہ ریڈی میڈ کپڑے ارزاں دستیاب ہو جاتے تھے۔ چونکہ کپڑے بنانا اور انہیں خریدنا آسان کام نہ تھا لہذا الماریوں پر بوجھ بھی کم ہی ہوتا تھا۔ ہم چھ بہن بھائی ایک ہی الماری شئیر کرتے تھے اور ہر ایک کا علیحدہ ایک خانہ ہوا کرتا تھا جہاں ہمارے کپڑے باآسانی آ جایا کرتے تھے۔

گذشتہ چار دہائیوں میں جہاں دیگر معاشرتی تبدیلیاں رونما ہوئیں وہاں پہننے کے کپڑوں کی بھی ایک انڈسڑی بن گئی۔ کئی قسم کے بوتیک بن گئے، فیشن ڈیزائنگ ایک علمی شعبہ بن گیا۔ نت نئے لباس بننے لگے اور کپڑوں کی خریداری ایک معمول کا کام ہو گیا۔ اگرچہ اب بھی عید پر نئے کپڑے پہننے کا رواج جوں کا توں موجود ہے لیکن اب نیا کپڑا پہننے میں  وہ لطف نہیں رہا جو پہلے کبھی ہوا کرتا تھا۔

گزشتہ دنوں کی بات ہے کہ یورپ کے سفر کے دوران جب میں مارکیٹ میں کپڑوں کی ایک دکان کے باہر کھڑا ہو کر اپنے آپ سے ایک سوال کر رہا تھا کہ کیا ایک نئے لباس کی خریداری سے کہیں میرا بیگ بیس کلو گرام سے زیادہ تو نہ ہو جائے گا کیونکہ اس سفر میں مجھے بیس کلو سے زیادہ وزن لے کر وطن واپس جانے کی اجازت نہ تھی۔ لیکن اسی لمحے یہ سوال ایک اور سوال میں بدل گیا کہ کیا مجھے یہاں ایک نئے لباس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ !؟

سوچ میں پڑ گیا کہ بلا ضرورت ہم کیوں لباس بنانے لگے ہیں ۔ گھروں میں ہماری الماریاں کپڑوں سے بھری رہتی ہیں جن میں شاید مزید کپڑوں کی گنجائش نہیں ۔ کچھ کپڑے تو سال ہا سال سے جوں کے توں ہی پڑے ہوئے ہیں اور کچھ کو تو شاید ایک دفعہ کے بعد دوبارہ پہننے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ اسی طرح بچوں کی شادیوں، تحائف اور مختلف تہواروں پر اکٹھے ہونے والے کپڑے علیحدہ بلا استعمال پڑے ہیں۔ اس وقت دل پر ایک بوجھ محسوس ہونے لگا کہ اتنے کپڑے ، یہ میں نے کیسے اکٹھے کر لیے ہیں ۔ مجھے اتنے زیادہ کپڑے اکٹھے کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔

یہ بات اپنی جگہ کھٹکنے لگی کہ  اس سوال کا ذہن میں آنا کسی فکری ارتقاء کی علامت  ہے یا پھر بڑھاپے میں قدم رکھنے کے آثار؟

 سوچنے لگا کہ وجہ جو بھی ہو میں اپنی معاشرتی ثقافت اور اجتماعی ذہنی فکر کے مطابق یہ بے ضرورت اور فالتو کپڑے کسی کو دینے والا نہیں ، کسی نہ کسی دن تو کام آ ہی جائیں گے کسی کو دے دئے تو ان کی نا قدری کرے گا، میں ایک نہ ایک دن تو پہن ہی لوں گا ضرورت پڑی اور یہ نہ ملے تو پھر کہاں سے لاؤں گا۔!

 اب آپ اسے میری دنیاوی طمع، مستقبل میں مفلسی کا خوف، خود غرضی اور ذاتی خواہش و شوق سمجھیے یا میری دانشمندی یہ آپ کی مرضی ہے۔ ہمارے یہاں تو جب تک کپڑا پہننے کے قابل ہےکم از کم تب تک تو الماری کی زینت رہے گا ۔ ممکن ہے فنگس لگنے،  پڑے پڑے خراب ہونے، رنگ اڑ جانے یا حشرات کے حملے کے بعد غریبوں کی مدد کے لیے اپنی سخاوت کا مظاہرہ کر دیا جائے۔ چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھنا چاہے وہ ہماری کام کی ہوں یا نہ ہوں ہمارے معاشرے میں ہمیشہ سے اچھے شعار کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ میں بھی بڑے فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اپنے غیر استعمال شدہ کپڑے بہت ہی سنبھال کر رکھے ہیں۔

 ویسے صاف بات کروں تو دل ہی دل میں اپنی بزدلی کا احساس تو رہتا ہے کہ اس سب کو غریبوں میں دینے کی ہمت کیوں نہیں کر پاتا شاید معاشرے سے ڈرتا ہوں کہ میرے اس عمل کی وجہ سے وہ مجھے پاگل ڈیکلئر نہ کر دیں۔ ایک مرتبہ غلطی سے پانچ ہزار کے نوٹ کو بچے پر سے صدقہ کر دیا تھا تو پورے خاندان میں یہ عمل ایک لطیفے کے طور پر مشہور ہو گیا تھا ۔

 خاندان تو عورتوں ہی سے بنتے ہیں اور بندہ  خیرات دینے سے خوف کھانا لگتا ہے، یہ سب  اصل میں عورتوں سے خوف کھانے کا نتیجہ ہے۔ میں تو جب دوران تعلیم ہاسٹل میں رہا کرتا تھا تو اتنے کپڑے نہیں ہوتے تھے جب سے گھر میں  عورتوں کے ساتھ رہنا شروع کیا ہے یہ حالت ہو گئی ہے کہ کپڑے سنبھالے نہیں جاتے۔

بلامبالغہ  یہ سب کچھ گھریلوعورتوں ہی سے سیکھا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی معاشرےکو سدھارنا ہے تو اس معاشرے کی خواتین کو سدھار لو اور اگر اسے بگاڑنا ہے تو وہاں کی خواتین کو بگاڑ دو۔ ہمارے معاشرے کی عورتیں لباس کے معاملے میں کافی حساس ہیں۔ کیا مجال جو ہماری عورتیں ایک شادی پر پہنا ہوا جوڑا دوبارہ کسی اور شادی یا فنکشن پر پہن لیں ، جب بھی کوئی خوشی غمی کا تہوار ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ پہننے کے قابل کوئی کپڑا ہی نہیں ہے ، مجبوری ہے نیا سوٹ ہی لینا پڑے گا ۔

بھئی کیا شان ہے ہماری خواتین کی اعلی سے اعلی مہنگے دام والا سوٹ پہنا جاتا ہے اور محفل کی ساری چمک دمک انہی کے لباس سے تو ہوتی ہے ۔ عورتوں کو چھوڑیں اب تو آہستہ آہستہ مردوں کے حالات بھی کم و بیش ایسے ہی ہوتے جا رہے ہیں۔

کیا اب ہمیں سمجھ میں آگیا کہ لنڈا بازار میں گوروں کے ہی کپڑے زیادہ بہتر کیوں ہوتے ہیں ہمارے کپڑے کیوں نہیں ہوتے؟ اس لئے کہ ہم اپنے کپڑے بہت سنبھال کر رکھتے ہیں اور کبھی نہیں چاہتے کہ ہمارے استعمال شدہ کپڑے کوئی غریب بھی پہن سکے ، یہ ہمارا بڑا پن ہے ۔ مقصد طنز اور تنقیدنہیں ہے ، ویسے تنقید مجھے پسند نہیں کوشش ہوتی ہے کہ تنقید کے بغیر ہی کام چل جائے یہ تو ویسے غیر ارادی طور پر حقائق بیان کرتے ہوئے کچھ منہ زوری ہوگئی ورنہ مجھے اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ہمارے ہاں اچھے لوگ بھی موجود ہیں ۔ آپ برا نہیں منائیے گا یقینا آپ ایسے نہیں ہیں میں تو اپنے جیسے بزدلوں کی بات کر رہا تھا۔

بات صرف کپڑوں  اورجوتوں کی نہیں، ہمارے ہاں کثیر تعداد میں گھروں میں غیر ضروری اشیاء موجود ہیں جن کا فائدہ نہ تو گھر کے مکینوں کو ہو رہا ہے اور نہ ہی باہر کے ضرورت مندوں کو۔ اور دوسری طرف سے کثیر تعداد میں غیر ضروری اشیاء خریدی بھی جاتی ہیں۔

  ہمیں چاہئیے کہ جب بھی ہم کچھ خریدنے کا سوچیں اور کچھ رقم خرچ کرنا چاہئیں تو یہ سوچیں کہ کیا واقعی اس خرچ کی ضرورت ہے ۔ کہیں ہم اپنی محنت کی کمائی کا زیاں تو نہیں کر رہے ۔ کہیں یہ فضول خرچی تو نہیں ۔

 میرا خیال ہے ہمیں اس سوال کو ہر معاملے میں اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے بلکہ صاحب ثروت افراد کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے کیونکہ انکی زندگی سے جڑے ارد گرد بہت سارے افراد بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جوانکی طرف سے سخاوت کے منتظر ہیں اس حق کے منتظر ہیں جو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے کی وجہ سے ان سے چھین لیا گیا ہے ۔

 خلاصہ کلام یہ کہ ہمیں اپنا ، اپنے پیاروں کا اور معاشرے کے افراد کا خیال رکھتے ہوئے خرچ کرتے ہوئے میانہ روی کا دامن ہاتھ ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئیے ،  استعمال کی اشیاء کو شیئر کرنا چاہئیے  اور معاشرے کے دیگر افراد کا خیال رکھنا چاہئیے اور خواتین کو اپنے شانہ بہ شانہ معاشرے کی ترقی میں حصہ دار بنانا چاہئیے۔


افکار و نظریات: کپڑوں کے انبار, لمحہ فکریہ