اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات فلسطین کے محاز سے تازہ ترین محسن علیمی اس بار اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی نے صرف دس روز کے اندر ہی تیس کے قریب مظلوم اور بیگناہ فلسطینی شہریوں کو خون میں لت پت کر ڈالا ہے۔ ان دنوں فلسطین کی صورتحال جاننے کیلئے ان ماوں اور بچوں کا حال جان لینا ہی کافی ہے جو غاصب صہیونی رژیم کے ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں۔ مقبوضہ فلسطین سے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح صہیونی فوجی ایک مسلمان فلسطین خاتون کے گرد حلقہ بنا کر اس کی مار پیٹ اور اسے گرفتار کر کے پولیس کی گاڑی کی جانب لے جانے میں مصروف ہیں جس نے ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے آزادی کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی لمحے جب اسے گرفتار کر کے گاڑی کی جانب لے جایا جا رہا ہے اس کا کمسن بچہ اپنی ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے لیکن صہیونی فورسز ظالمانہ انداز میں بچے کو ماں سے جدا کرتی ہیں اور ماں کو گاڑی میں بٹھا کر لے جاتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ نے ماں کے بارے میں مزید کوئی خبر نہیں دی۔ یہ ان ظالمانہ اقدامات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے جو مقبوضہ فلسطین میں انجام پا رہے ہیں۔ اس بارے میں درج ذیل نکات اہم ہیں: 1)۔ مقبوضہ فلسطین میں پیدا ہونے والی صورتحال بالکل اس فلسطینی ماں اور بچے کے ساتھ پیش آنے والے ناگوار واقعے سے مشابہت رکھتی ہے۔ خطے میں حکمفرما عرب رژیموں نے ایک ایک کر کے فلسطین کے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے۔ محمد بن سلمان، محمد بن زائد، آل خلیفہ خاندان اور دیگر عرب حکمران جن کے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ گہرے تعلقات کی خبریں ابھی منظرعام پر آنا باقی ہیں۔ بنجمن نیتن یاہو اور دیگر صہیونی حکام مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں جبکہ وہ اسلامی دنیا میں ایسے حکمرانوں کی بھی مکمل حفاظت اور دیکھ بھال کر رہے ہیں جو بظاہر خود کو فلسطینی حقوق کا مدافع ظاہر کرتے ہیں۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے یہ دعوی کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان صلح کے بعد اسرائیل سے سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری آئے گی محض ایک سیاسی ڈینگ ہانکنا ہے کیونکہ ابھی سے سعودی عرب نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے تعلقات وسیع حد تک پھیلا رکھے ہیں۔ تل ابیب جانے والے مسافر طیارے سعودی عرب کی فضا استعمال کر رہے ہیں، سعودی ولیعہد یہودی لابی آئی پیک کے اعلی سطحی سربراہان اور حتی خود صہیونی حکام سے ملاقات اور بات چیت کر چکا ہے۔ اب پیچھے کیا باقی بچا ہے جس کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات موجود ہیں؟ سب کچھ ہے سوائے سفارت خانے کے۔ پس پردہ اخبار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی اور صہیونی حکام حتی دو طرفہ سکیورٹی معاہدے بھی انجام دے چکے ہیں۔ خطے کی دیگر عرب ریاستوں اور ممالک کے بارے میں بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات بھی سعودی عرب کی طرح صہیونی رژیم سے تعلقات پھیلانے کیلئے شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ فلسطین کا ایک رخ ہے جو گذشتہ کئی برس اور کئی عشروں سے پس پردہ تھا اور اب آہستہ آہستہ منظرعام پر آ رہا ہے اور ان عرب حکمرانوں کا حقیقی چہرہ کھل رہا ہے۔ اگرچہ اب تک ان عرب ممالک اور ان کے حالیہ اور سابق حکمرانوں نے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنے کیلئے بے شمار منصوبے پیش کئے ہیں اور ان گنت سازشیں کی ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے پیش کئے جانے والا امن منصوبہ اور "ڈیل آف دی سینچری" سب سے بڑی اینٹی فلسطین سازش اور غاصب صہیونی رژیم کے خلاف فلسطینی عوام کی جدوجہد کی تاریخ کی سب سے بڑی اور گھناونی سازش قرار دی جا سکتی ہے۔ لہذا مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر مسئلہ فلسطین سے متعلق خطے اور اسلامی دنیا کے ممالک کا موقف واضح ہو چکا ہے۔ ان ممالک کی حکومتوں کے پاس کم از کم اس وقت فلسطینیوں کے چھنے ہوئے حقوق کی بازیابی کیلئے کوئی حکمت عملی موجود نہیں۔ یہ حکمران مسئلہ فلسطین کا جو بھی راہ حل پیش کرتے ہیں وہ مغربی طاقتوں کی جانب سے دی گئی ڈکٹیشن کے سوا کچھ نہیں جس کی بنیاد غاصب صہیونی رژیم سے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر استوار ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای فرماتے ہیں: "فریب کار، جھوٹی اور غاصب (صہیونی) رژیم سے مذاکرات کی راہ اپنانا ایک بڑی اور ناقابل بخشش غلطی ہے جو ملت فلسطین کی کامیابی کو موخر کر دینے کا باعث بنے گی اور اس کا نتیجہ ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی اس قوم کے نقصان کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔ بعض عرب حکمرانوں کی غداری جو اب آہستہ آہستہ منظرعام پر آ رہی ہے نیز اسی مقصد کی خاطر انجام پائی ہے۔" 2)۔ مسئلہ فلسطین کا دوسرا رخ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کی جانب سے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے خط کے جواب میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ امام خامنہ ای نے اس جوابی خط میں فلسطین کو مزاحمت اور جدوجہد کی دعوت دی ہے۔ امام خامنہ ای اس خط میں لکھتے ہیں: "آپ نے اس بارے میں جو لکھا ہے وہ سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے اور ہم اس کی توثیق کرتے ہیں۔ ہم خود کو آپ کی ہر قسم کی مدد کا پابند سمجھتے ہیں۔ یہ ایک دینی ذمہ داری نیز انسانی ذمہ داری اور تمام سیاسی واقعات اور تبدیلیوں سے ماوراء ہے اور ہم انشاءاللہ ماضی کی طرح اس ذمہ داری پر عمل پیرا ہوتے رہیں گے۔ تمام اسلامی حکومتیں، ممالک اور گروہ اس عظیم ذمہ داری کی پابند ہیں۔ آج امت مسلمہ کی عزت اور اقتدار کی واپسی کا واحد راستہ استکبار اور اس کی خباثت آمیز سازشوں کے مقابلے میں اور خاص طور پر مسئلہ فلسطین کے بارے میں جو استکبار کے مقابلے میں تمام عالمی اسلامی مسائل کا مرکز و محور ہے، استقامت اور پائیداری پر مشتمل ہے۔ تمام مسائل کا حل اسلامی دنیا میں سرگرم مجاہد اور استقامت کا مظاہر کرنے والے گروہوں کو مضبوط بنانے اور غاصب صہیونی رژیم اور اس کے حامیوں کے خلاف جدوجہد کی شدت میں اضافہ کرنے میں مضمر ہے۔ اسلامی ممالک، عرب ممالک اور فلسطین کے بارے میں احساس ذمہ داری رکھنے والے ممالک کی اقوام، خاص طور پر باغیرت جوان اس عظیم فرض اور ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی شجاعانہ اور مدبرانہ جدوجہد کے ذریعے دشمن کو زوال اور نابودی کی جانب دھکیل دیں۔" لہذا مسئلہ فلسطین سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کا راہ حل وہی جدوجہد اور مزاحمت کا راستہ ہے جس کا مظاہرہ اہل غزہ نے غاصب صہیونی رژیم کے خلاف 51 روزہ جنگ کے دوران کیا۔ انہی حالیہ مظاہروں اور احتجاجی ریلیوں میں جو "فلسطین کی جانب واپسی" کے نام سے معروف ہو گئے ہیں بہت سے بیگناہ فلسطینیوں کا خون بہایا جا چکا ہے۔ دوسری طرف غاصب صہیونی رژیم کی سلامتی کو دھچکہ پہنچا ہے اور اسے بھاری سکیورٹی تاوان ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ فلسطینی خود کو موجودہ سرحدوں میں محصور نہ کریں۔ ان کا نقطہ نظر غاصب صہیونی رژیم سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا نہیں ہونا چاہئے بلکہ مسئلہ فلسطین کا واحد راہ حل مسلح جدوجہد اور مزاحمت ہے۔ 3)۔ غاصب صہیونی حکام اور امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ "اسلامی مزاحمت" اور جدوجہد ہے۔ اگرچہ خطے کے بعض ممالک اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کے شوقین نظر آتے ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل کیلئے دردناک امر اسلامی مزاحمت ہے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اور اسرائیل سے سازباز کا نعرہ لگانے والے بعض عرب حکمرانوں کے موقف کا پرچار درحقیقت مغربی تھنک ٹینکس اور حکمرانوں کی خواہش پر کیا جا رہا ہے۔ صہیونی اور امریکی حکام کی حقیقی مشکل مسئلہ فلسطین نہیں بلکہ اسلامی مزاحمت پر مشتمل وہ نظریہ ہے جو فلسطینیوں کے نظریاتی اور سماجی سیٹ اپ میں رسوخ کر چکا ہے۔ مغربی طاقتیں اس نظریئے کی جڑ ایران کو سمجھتی ہیں۔ امریکی اور صہیونی حکام کی جانب سے ایران کو عالمی سطح پر بڑا سکیورٹی خطرہ متعارف کروائے جانے کی کوششوں کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ وہ ایران کو اسلامی مزاحمتی نظریئے کی لیڈرشپ سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ مغربی ایشیائی خطے کے بارے میں امریکی حکام کی بڑی پریشانی اور مشکل یہاں کے اسٹریٹجک یا جیوپولیٹیکل امور نہیں بلکہ نظریاتی تنازعات ہیں۔ امریکہ اور اس کے پٹھو اسلامی نظریات سے خوفزدہ ہیں۔ فلسطینی عوام کی مزاحمت امریکی اور صہیونی حکام کیلئے ڈراونا خواب ہے۔ امریکہ اور اسرائیل فلسطینیوں کے میزائلوں سے اس قدر خوفزدہ نہیں جتنا ان میں موجود اسلامی مزاحمتی سوچ سے خوفزدہ ہیں۔ 4)۔ فلسطینی عوام کو چاہئے کہ وہ غاصب صہیونی رژیم کے خلاف جدوجہد میں اپنے پاوں پر کھڑے ہو جائیں اور دوسروں پر تکیہ نہ کریں۔ یہ سوچ کہ اسرائیل سے سازباز کے بعد فلسطینیوں کی تمام مشکلات اور مسائل حل ہو جائیں گے انتہائی غلط سوچ ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دو ریاستی حل کے بعد مقبوضہ فلسطین میں دو جمہوری حکومتیں تشکیل پا جائیں گی، ایک یہودی اور ایک مسلمان، اور امن و امان سے مل کر رہیں گی تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا جانا اس سوچ کے باطل اور خیالی ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں